آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (رپورٹ :رانا مسعود حسین )عدالت عظمیٰ نے ʼʼ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر ٹاک شوز میں تبصرہ سے متعلق نجی ٹیلی چینل کے پروگرامʼʼ پاور پلےʼʼ کے اینکر پرسن، ارشد شریف کی خلاف توہین عدالت کیس کا 12ستمبر 2018کا تحریری فیصلہ جاری کر تے ہوئے قرار دیا ہےکہ زیرسماعت مقدمات پرجانبدارانہ تبصروں اورتجزیوں کی اجازت نہیں، الیکٹرانک میڈیا کا ضابطہ اخلاق آئین کے آرٹیکل 19اور 19اے کے تحت اظہار خیال کی آزادی اور معلومات تک رسائی کو یقینی بناتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 4اور آرٹیکل 10اے اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ زیر سماعت معاملہ میں منفی انداز میں اس طرح کی بات نہ جائے کہ دوسرے شخص کے فیئر ٹرائل کا بنیادی حق متاثر ہو ،جمعرات کے روز جاری کیاگیا یہ فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریر کیا ہے ، تحریری فیصلہ کے مطابق ارشد شریف نے اپنے پروگرام میں سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے سپریم کورٹ میں این آر او کیس میں جمع کروائے گئے بیان حلفی سے متعلق نہ صرف خود منفی انداز میں تبصرہ کیا تھا بلکہ اپنے مہمانوں کو بھی راغب کیا تھا جو انہیں منع کرتے رہے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن وہ باز نہ آئے جس پر چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا ، فیصلہ کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران ارشد شریف نے خودکو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے غیر مشروط معافی نامہ جمع کروایا تو عدالت نے ان کا معافی نامہ قبول کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا تھا ، فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں عدالت میں زیر سماعت مقدمات کے حوالے سے دس نکات پر مشتمل گائیڈ لائن جاری کی ہے جس کے مطابق ، پیمرا الیکٹرانک میڈیا کے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کرانے کا پابند ہے ،پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس خلاف ورزی کرنے والے ٹی وی چینلز کے خلاف کارروائی کی مجاز ہے۔

تفصیلی فیصلے کو پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجیئے

پیمرا تمام لائیسنس یافتہ ٹی وی چینلز کو اس بابت یاد دہانی کے نوٹسز بھیجے، ضابطہ اخلاق اور طے شدہ اصولوں کی پابندی ہر ٹی وی چینل پر لازمی ہے ،زیر سماعت مقدمات کی رپورٹنگ کی اجازت صرف عوام تک معلومات پہنچانے کے لئے ہے ، زیر سماعت مقدمات پرکسی قسم کے تجزیہ ، تبصرہ یا رائے دہی کی اجازت نہیں ، اس حوالے سے تمام ٹی وی چینلز موثر تاخیری میکانزم بنانے کی یقین دہانی کروائیں تاکہ ایسا کچھ نشر ہونے سے پہلے ہی روکا جا سکے ، ہر لائسنس یافتہ چینل اپنے آفس میں مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے ، پیمرا مانیٹرنگ کمیٹیوں کے ذریعے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد اور باقاعدہ تربیت مہیا کرے اوراگر کوئی ٹی وی چینل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرے تو فوری طور پر اس کے خلاف ایکشن لیا جائے ،عدالتی فیصلہ کے مطابق الیکٹرانک میڈیا کے ضابطہ اخلاق 2015 کا اطلاق پورے ملک میں ہوچکا ہے ،جس میں عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر کمنٹس کرنے سے روکا گیا ہے، فیصلے میں برطانیہ، امریکہ ، بھارت ، آسٹریلیا کی عدالتی نظائر کو شامل کیا گیا ہے، فیصلہ کے مطابق حصول انصاف کے لئے زیر سماعت مقدمات پرتبصروں اور تجزیوں کی ممانعت ہے، اگرچہ پاکستان کا آئین آزادی اظہار کی ترویج کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ صاف اور شفاف ٹرائل کی بھی ضمانت دیتا ہے، زیر سماعت مقدمات پر تبصروں کی اجازت شفاف ٹرائل کے حق کو متاثر کرتی ہے، پاکستان سمیت پوری دنیا میں زیر سماعت مقدمات پر تبصروں کی اجازت نہیں ہے اور زیر سماعت مقدمات پر تبصرہ کرنا توہین عدالت کے زمرہ میں آتا ہے ، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے صرف پاکستان ہی نہیں دیگر ممالک میں بھی یہی قانون ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں