آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما نے ’گلوبل گرلز الائنس‘ کے نام سے ایک پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے والے 1,500اداروں کی مدد کی جائے گی۔

مشیل اوباما کو لڑکیوں کی تعلیم میں شروع سے ہی گہری دلچسپی رہی ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ لڑکیوں کو تعلیم دینے سے معاشرے پر دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’جب آپ ایک لڑکی کو تعلیم دیتے ہیں، دراصل آپ ایک خاندان، ایک کمیونٹی اور ایک پورے ملک کو تعلیم دیتے ہیں۔ اگر ہمیں ماحولیاتی تبدیلی کی فکر ہے، اگر ہمیں غربت کی فکر ہےتو سب سے پہلے ہمیں تعلیم کی فکر کرنا ہوگی‘۔

مشیل اوباما کہتی ہیں کہ ’گلوبل گرلز الائنس‘ پروگرام کے ذریعے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے والے اداروں کو فنڈنگ کے علاوہ تربیت، تیکنیکی سپورٹ اور بین الاقوامی نیٹ ورکنگ کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔

یہ پروگرام ’اوباما فاؤنڈیشن‘ کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ پروگرام کا مقصد لڑکیوں کو تعلیم کے ذریعے خودمختار اور باشعور بنانا ہے۔اس پروگرام کے ذریعے تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کی مقامی سطح تک مدد کی جائے گی اور وہاں لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے مقامی طریقے اختیار کیے جائیں گے، کیونکہ مشیل سمجھتی ہیں کہ مقامی مسائل کا مقامی حل ہی سب سے بہترین حکمتِ عملی ہوسکتی ہے۔ مقامی سطح پر تعلیم کی راہ میں حائل رکارٹوں کو دور کرنے کے لیے ان اداروں کو ہر طرح کی رہنمائی اور معاونت فراہم کی جائے گی اور بین الاقوامی سطح پر نیٹ ورکنگ کے لیے بھی ان کی بھرپور رہنمائی کی جائے گی، تاکہ تعلیم دینے کے عمل کو بین الاقوامی معیار پر لایا جاسکے۔

’گلوبل گرلز الائنس‘ پروگرام امریکا سمیت دنیا کے کئی حصوں میں لوگوں کو اس پروگرام میں شریک ہونے کے لیے سرگرم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور جو لوگ اس پروگرام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں ان کے لیے GoFundMeفنڈ ریزر کے ذریعے عطیہ دینے کا لائحہ عمل بھی تیار کیا گیا ہے۔

مشیل اوباما کہتی ہیں کہ دنیا بھر میں 9کروڑ 80لاکھ بالغ لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں۔وہ سمجھتی ہیں کہ ان لڑکیوں کو تعلیم نہ دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم کم از کم ان کے بعد ان سے پیدا ہونے والی ایک اور نسل کو بھی جاہل رکھنے پر تیار ہوچکے ہیں۔ کیونکہ ’جب ماں کے پاس تعلیم نہیں ہوگی تو وہ اپنے بچوں کو کیا تعلیم دے گی‘۔وہ ماں دراصل تعلیم کی اہمیت سے ہی بے خبر ہوگی۔

’نوجوان خواتین اس بات سے تھک چکی ہیں کہ انھیں کم اہمیت دی جاتی ہے، وہ اس بات سے تھک چکی ہیں کہ ان کی عزت افزائی نہیں کی جاتی، وہ اس بات سے تھک چکی ہیں کہ ان کی بات نہیں سنی جاتی‘، مشیل اوباما کا نیویارک میں اس پروگرام کا آغاز کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا۔ مشیل کا مزید کہنا تھا، ’اور یہ دنیا کے کسی اور حصے میں نہیں ہورہا، یہ سب ہمارے اپنے عظیم ملک میں ہورہا ہے۔ اور اگر ہم نے اس صورت حال کو تبدیل کرنا ہے تو ہمیں انھیں تعلیم کے ذریعے وہ ہتھیار اور ہنر دینا ہوگا کہ وہ اپنی آواز کو اُونچا کرسکیں، انھیں سُنا جائے اور انھیں وہ اہمیت دی جائے جس کی وہ حقدار ہیں‘۔

2013ء میں مشیل اوباما نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے والی اور نوبل انعام جیتنے والی پاکستانی لڑکی ملالہ یوسف زئی سے ملاقات کی تھی۔ یہ پروگرام اس ملاقات میں مشیل کی دی گئی کمٹمنٹ کا نتیجہ ہے۔

وہائٹ ہاؤس کو خیرباد کہنے کے بعد، یہ مشیل اوباما کی جانب سے اعلان کردہ دوسرا بڑا پروگرام ہے۔ جولائی 2018ء میں مشیل اوباما نے ایک غیرجانبدار سیاسی تحریک When We All Vote کا آغاز کیا تھا، جسے ٹام ہینکس اور دیگر کئی معروف شخصیات سپورٹ کرچکے ہیں۔ صرف یہی نہیں، Becomingکے نام سے مشیل اوباما کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب 13نومبر کو شائع ہورہی ہے، جس کے بعد وہ امریکا کی کئی ریاستوں کا Book Tourکرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کئی ریاستوں میں مشیل کے ’بُک ٹور‘ کے لیے اسٹیڈیم سجانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ تجزیہ کار مشیل کی ان سرگرمیوں کو ان کے صدارتی انتخاب کے لیے تیاریوں سے تشبیہہ دے رہے ہیں، تاہم سابقہ خاتون اول کہتی ہیں، ’میں نے کبھی بھی سیاست دان بننے کا نہیں سوچا۔ لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہونے کے کئی طریقے ہیں۔ سیاست میرے مطلب کی چیز نہیں ہے‘۔

’گلوبل گرلز الائنس‘ پروگرام کی نیویارک میں ہونے والی اس افتتاحی تقریب میں کئی لڑکیاں بھی حاضرین میں موجود تھیں۔ مشیل نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’یہ تلاش کریں کہ آپ کا جذباتی لگاؤ کس سے ہے۔ یہ تلاش کرنا آپ کا فرض ہے کہ آپ کا پیغام کیا ہے اور آپ اپنی آواز کو کس طرح استعمال کرنا چاہتی ہیں‘۔

مشیل اوباما کی تعلیم دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مشیل اوباما، پاکستان میں اسکول سے باہر لڑکیوں کے لیے بھی تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔جولائی 2016میں اس وقت کے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے دورہ امریکا کے موقع پر، اس وقت کی امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما نے وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز کے ساتھ مل کر Let Girls Learnنامی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس پروگرام کے لیے مشیل اوباما نے پاکستان کو 70ملین ڈالر امداد دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اس پروگرام سے درجن بھر نئے اسکول اور متعدد پُرانے اسکولوں کو بحال کیا جائے گا، جس سے 2لاکھ لڑکیوں کو فائدہ ہوگا۔ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اس پروگرام کے تحت پاکستان میں لڑکیوں کو اسکل ٹریننگ پروگرام اور کالج اسکالرشپس بھی دی جائیں گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں