آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہم سب ہی مانتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے ۔مگر تعلیم حاصل کرنے کا مقصد شاید ہم سمجھنے اور اپنے بچوں کو سمجھانے سے قاصر ہیں۔حصولِ تعلیم کے بڑے مقاصد کو اگر دیکھا جائے تو ان میں شعور کا اجاگر کرنا، معلومات میں اضافہ ، اچھا شہری بننے میں مدد دینا اور اخلاقیات کی نشوو نما بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر کیا آج ہمارا نظام تعلیم ان مقاصد کے حصول کے لئے ہمارے بچوں کی راہنمائی کر رہا ہے؟ یا پھر آج نوجوان نسل کے لئے تعلیم کا واحدمقصد محض ایک ڈگری لینا اور پھر اس ڈگری کی بنیاد پر نوکری تلاش کرنے کی جستجو کرنا ہے؟
ہمارے بچوں کی اکثریت نہ تو اچھا شہری بن پاتی ہے، نہ اپنے مضمون پر ان کی گرفت اور نہ ہی ملک اور دنیا کے بارے میں ان کی معلومات عامہ اس حد تک ہوتی ہیں کہ وہ ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ جب بھی مجھے اپنے ادارے کے لئے ہائرنگ کے دوران انٹرویوز کرنے کا اتفاق ہوتا ہے یا اپنے پروگرام ” عوام کی عدالت“ میں آنے والے نوجوانوں سے بات چیت کرتا ہوں ،تو میں اپنے آپ سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ ہم اپنے بچوں کو کیا تعلیم دے رہے ہیں؟
شاید میرے پڑھنے والوں کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہو گا کہ ایک نیوز چینل میں نوکری کے لئے ٹیسٹ دینے والے نوجوان جنہوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی ہے ، ان کی

اکثریت کوپاکستان کے دس بڑے شہروں کے نام معلوم نہیں ہوتے، وہ نہ تو اضلاع کے نام جانتے ہیں اور اگر معلوم ہوں بھی تو وہ ان اضلاع کے نام بتاتے ہیں جس صوبے سے ان کا تعلق ہو تا ہے۔ ان کی ایک بڑی تعداد کی معلومات کے مطابق پاکستان میں پارلیمانی نہیں صدارتی نظام رائج ہے۔ اگر ان سے ان کے مضمون کے حوالے سے سوال کیا جائے تو اس کی تھیوریاں تو فر فر سنا دیتے ہیں مگر کسی تھیوری کو ملکی صورتحال کے کسی پہلو سے منسلک کرنے کو کہا جائے تو وہ اس سے قاصر رہتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ صدارتی اور پارلیمانی نظام کے مابین فرق نہ کر سکنے والے طلباء میں بڑی تعداد پولیٹیکل سائنس کے طالب علموں کی بھی ہوتی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ سینٹ کے انتخابات میں ووٹ کون ڈالتا ہے۔ ان نوجوانوں کی اکثریت نہ ہی اپنے ملک کی سیاسی پارٹیوں اور نظام کے بارے میں زیادہ کچھ جانتی ہے، نہ ہی ملک کے بڑے ڈیموں اور اس کے جغرافیہ کے بارے میں درست معلومات رکھتی ہے۔ نہ ان کو یہ علم ہے کہ پاکستان کا نہری نظا م سالانہ اور ششماہی نہروں پر مشتمل ہے۔ اکثریت کو اس بات کا بھی علم نہیں کہ ربیع اور خریف کی فصلیں کون سی اور کن موسموں میں ہوتی ہیں۔
اگر ہم تعلیم حاصل کرنے کے دوسرے مقصد کو دیکھیں،جو اچھا شہری بننے میں مدد دینا اور اخلاقی حس کی نشوو نما ہے تو اپنے ارد گرد ایک نظر ڈالنا یہ جاننے کے لئے کافی ہے کہ تعلیم اس سلسلے میں بھی ہماری کوئی مدد نہیں کر سکی۔ ہمارے ملک کے تعلیم یافتہ لوگوں کی اکثریت بطور شہری اپنی ذمہ داریوں کا شعور نہیں رکھتی اور جہاں آگاہی ہے ، وہاں بھی بطور شہری اپنے فرائض کی ا دائیگی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ بے ہنگم ٹریفک، جابجا موجود کوڑے کے ڈھیر، سڑکوں پر پان کی پیک تھوکتے لوگ، وال چاکنگ، قطار نہ بنانا، قوانین پر عملدرآمد کو توہین سمجھنا… سب ہمارے ” شعور “کی چیخ چیخ کر گواہی دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ ملک کی اَن پڑھ آبادی تک محدود نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور ” ذی شعور“لوگ اس میں کسی سے کم نہیں۔ ہم نے روزانہ سڑکوں پر سفر کرتے کتنے لوگوں کو دیکھا ہو گا جو سوٹ بوٹ پہنے اپنی بڑی سی گاڑی کا شیشہ کھول کر انتہائی شان سے کوڑا باہر پھینک دیتے ہیں، سڑک پر لین کی خلاف ورزی اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ ان کا بطور شہری رویہ اس بات کی گواہی دیتا کہ ” اعلیٰ اور مہنگی“ تعلیم نے بھی ان کا کچھ نہیں بگا ڑا۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تعلیم ہمارے نوجوانوں کی اکثریت کو نہ ضروری معلومات دے رہی ہے اور نہ شعور تو ایسی تعلیم کا مقصد کیا ہے؟ کیا تعلیم کا مقصد محض نوکری حاصل کرنا ہے؟ کیا ہمارے اداروں کی تباہی کی وجہ یہ ہی تو نہیں کہ ہمارے ملک میں اہم عہدوں پر ڈگری یافتہ تو ہیں، مگر”تعلیم یافتہ“افراد نا پید؟ ایسے افراد جو اچھے اور برے کے فرق کو سمجھتے ہوں، جو فیصلہ کرنے کی نہ صرف قوت رکھتے ہوں بلکہ اس فیصلہ کے محرکات کا جائزہ لینے کی صلاحیت بھی۔ جن کے پاس معلومات کا خزانہ ہو اور موجود وسائل کو بروئے کار لانے کی بہترین صلاحیت۔ (معلومات کا خزانہ ضروری ہے۔۔۔خزانہ نہیں)
نصاب تعلیم میں کوتاہی اور کمی اپنی جگہ مگر جو معلومات نصاب میں درج ہوتی ہیں نوجوانوں کو ان کا علم بھی نہ ہونا کس کی کوتاہی ہے؟ کیااس کی وجہ رٹا سسٹم ہے جس کا مقصد محض اچھے نمبر حاصل کرنا ہے ؟ اس لئے اکثر اوقات اے گریڈحاصل کرنے والے طلباء بھی انتہائی بنیادی معلومات نہیں رکھتے اور نہ ہی کتاب میں پڑھی ہوئی کسی چیز کو حالات سے relate کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید ہمارے اساتذہ کی اکثریت بھی ہے جوتعلیم کو بچوں کے لئے دلچسپ اور معلوماتی بنانے کی بجائے محض سبق یاد کروانے پر اکتفا کرتی ہے۔
مجھے اس وقت ایک استاد کا وہ خط یاد آ رہا ہے جو انہوں نے جیو نیوز کے اساتذہ کے بچوں پر تشدد کی ویڈیوز دکھانے کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا اور وہ وجوہات بیان کیں تھیں جن کی بناء پر استاد تشدد کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ بچوں میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق موجود نہیں ہے ۔ میں ان استاد سے یہ سوال کرنا چاہوں گا کہ تشدد طلباء کو شاید سبق تو یاد کروا سکتا ہے مگر کیا ایسا سبق انہیں ” تعلیم“دے سکتا ہے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں