آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ ہفتے نیب سندھ بھی انتہائی سرگرم رہی درجنوں بے نامی اکاؤنٹس کے انکشافات کے علاوہ نیب نے سابق صوبائی وزیر ضیاء لنجار کے ایک روب روپے سے زائد اثاثوں کا سراغ لگالیا۔ نیب نے ہائیکورٹ میں یہ رپورٹ بھی جمع کرائی کہ سابق وزیر تحقیقات میں تعاون نہیں کررہے نیب رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2013 سے 2017تک مختلف بینکوں میں موجود اکاؤنٹس میں 46 کروڑ 80 لاکھ کیش رقع جمع ہوئی جبکہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ضیاء لنجار 2013 تک پی ٹی سی ایل کا ملازم تھا ان کے 50 کروڑ کےبنگلے دکانیں، 10 کروڑ کی زرعی زمین ، 5 کروڑ کی گاڑیوں کا سراغ ملا ہے۔ نیب مزید تحقیقات کررہی ہے جبکہ محکمہ خوراک سندھ 18 ارب 36 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائدرقم کا حساب دینے میں ناکام ہوگیا ہے۔ یہ انکشاف آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے مالی سال 2017-2016 کے آڈٹ میں کیا گیا ہے سندھ میںبعض وزراء کے خلاف نیب انکوائری جاری ہے تو پارٹی کے چیئرمین سابق صدرآصف علی زرداری اورفریال تالپور بھی نیب کی ریڈارپرہیں گزشتہ ہفتےآصف علی زرداری سیاسی طور پر انتہائی سرگرم رہے اور انہوں نے سندھ کےکئی اضلاع کے دورے کئے ان کی یہ سیاسی سرگرمیاں انتہائی غیرمعمولی تھیں وہ نواب شاہ، خیرپور، سکھر کے دورے پر گئے اور مختلف علاقوں میں چھوٹے چھوٹے اجتماعات منعقد کئے انہوں نے علاقے کے بااثر افراد سے بھی رابطے کئے ان کی غیرمعمولی سیاسی سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئیں جب انہیں جعلی بنک اکاؤنٹس سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات کاسامنا ہے۔پچھلے چند ہفتوں میں یہ تاثر زور پکڑتا جارہا ہے کہ آصف زرداری کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے بلکہ بعض مبصرین یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ نوازشریف کے بعداگلی باری زرداری کی ہے۔ آصف زرداری کے ان دوروں کا مقصد کیا اور وہ سیاسی طور پر کیوں سرگرم ہوئے ہیں اس حوالے سے کہاجارہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے کچھ رہنماؤں نے بتایاکہ نوازشریف اور مریم نواز کے عدالتی کیسز اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات کوحل کرنے کے لیے پس پردہ کچھ بات چیت ہورہی ہے لیکن اس طرف کسی قسم کی سرگرمی نہیں بلکہ یہاں دن بدن گھیرا تنگ ہورہا ہے اس صورتحال کے پیش نظر آصف زرداری نے عوام سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی حوالے سے کہاجارہا ہے کہ آصف زرداری عوامی سیاست کے لیے نہیں جانے جاتے وہ اسٹرٹیجک آپریٹر ہیں۔ انہوں نے پچھلے دنوں جو دورے کئے ان میں بڑے عوامی اجتماعات نہیں تھے وہ کسی کے ہاں تعزیت پر گئے تو کسی کے ہاں لنچ پر، ان کی صحت کے معاملات بھی گڑبڑ ہیں ، وہ بظاہر دباؤ میں آرہے ہیں اس لیے وہ اپنے حلقے میں وقت گزاررہے ہیں۔ فریال تالپور نے میڈیا کے ساتھ زیادہ رابطہ شروع کیا اور لوگوں کے پاس بھی جارہی ہیں جو ان کا کبھی اسٹائل نہیں رہا ، لگتا ہے پیپلزپارٹی کی قیادت بھی یہ سمجھ رہی ہے کہ گھیراتنگ ہورہا ہے۔ پیپلزپارٹی میں فارورڈبلاک بننے کی باتیں بھی سامنے آرہی ہیں کہ پیپلزپارٹی کے کچھ ایم پی ایز کے ساتھ رابطے ہوئے ہیں جبکہ کچھ کو بلیک میل کیاجارہا ہے کہ آپ کی فائلیں اور کیسز موجود ہیں بعض ارکان محسوس کررہے ہیں کہ انہیں پارٹی نے نظرانداز کررکھا ہے ان کی وزیراعلیٰ تک رسائی نہیں ہے وہ شاید ایسا سوچ رہے ہوں کہ گزشتہ سال جس طرح بلوچستان میں تبدیلی لائی گئی تھی ممکن ہے سندھ میں بھی اسی طرح کی تبدیلی لائی جائے، یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ عوامی رابطہ مہم بلاول بھٹو زرداری نہیں کررہے ہیں ، بلاول کو اسمبلی تک کافوکس دیا گیا ہے۔یہاں کے معاملات آصف زرداری اور فریال اپنے طور پر دیکھ رہے ہیں۔آصف علی زرداری کی سرگرمیوں سے متعلق یہ بھی کہاجارہا ہے کہ وہ اپنی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں سندھ میں مربوط سیاسی احتجاج کی راہ ہموار کرنے کے لیے رابطے کررہے ہیں۔آصف علی زرداری نے کوٹ ڈیجی کے قریب گوٹھ نواب خان وسان میں سابق صوبائی وزیر منظورحسین وسان کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سیاست میں کبھی حالات گرم کئے جاتے ہیںتو کبھی ٹھنڈے، شاید نوازشریف اور مریم نواز حالات کو ٹھنڈا کر رہے ہیں۔حکومت نے اصل مظاہرین کے ساتھ این آر او کرلیا، ملک کے خلاف بات کرنے والوں کو چھوڑ دیا گیا ہے، ہزاروں غریبوں کو پکڑاجارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت وفاقی حکومت میں انڈر14 ٹیم کھیل رہی ہے، دیکھتے ہیں کہ کیا ہے اور کیا نہیں کرتی، فی الحال 80 دن گزرچکے ہیں، 6 مہینے نہیں گزرے ہیں لیکن شروعات میں حکومت اپوزیشن کا کام کررہی ہے میں نے اسمبلی کے فلور پر بھی کہا تھا کہ اپوزیشن کوا پنا کام کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں میاں صاحب کی حکومت پر بھی اعتراض تھا اور اس حکومت پر بھی اعتراض ہے۔ وہ بھی سمجھوتے کے تحت آئے تھے اور یہ بھی سمجھوتے کے تحت آئے ہیں۔ادھر متحدہ مجلس عمل نے ناموس رسالت ملین مارچ کا انعقاد کیا یہ مارچ بلاشبہ شرکاء کی حاضری کے لحاظ سے متاثر کن تھا مارچ کی کامیابی کا سہرا مجلس عمل کے صوبائی صدرعلامہ راشدسومرو، قاری محمدعثمان اور ان کے رفقاء کے سر جاتا ہے مارچ میں گرچہ جماعت اسلامی کے قائدین ڈاکٹرمعراج الہدی صدیقی ، محمدحسین محنتی، حافظ نعیم، جے یو پی کے اویس نورانی، اہلحدیث کے ساجد میر، تحریک اسلامی کے شبیر محثمی نے بھی خطاب کیا تاہم اس مارچ میں 95فیصد شرکاء کا تعلق جے یو آئی سے تھا مارچ کے انعقاد میں دیگر جماعت عملاً اس طرح سے شامل نہیں ہوئی جس کا یہ اتحادتقاضا کرتا تھا مارچ سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے صدرمولانا فضل الرحمن نے ناموس رسالت تحریک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ کسی کو ناموس رسالت قانون تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے۔ سرپرکفن باندھ لیا ہے۔ موجودہ حکمرانوں کو لانے کا مقصد پاکستان کی نظریاتی خودمختاری اور آزادی سلب کرنا ہے۔ ہم نظریاتی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ مولاناسمیع الحق کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے کیفرکردارتک پہنچایا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ جعلی وزیراعظم سپریم کورٹ کے ساتھ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے پیچھے کھڑے ہیں۔ بحران خان اداروں کو متنازع بنارہے ہیں جو کہ ملک کے لیے خطرناک ہے مولانافضل الرحمن کاکہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت مذہبی کارکنوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں