آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہید ایس پی طاہر داوڑ کی میت طورخم بارڈر پر پاکستان کے حوالے کردی گئی، جس کے بعد جسد خاک پشاور کے لئے روانہ کردیا گیا۔

اس سے قبل ایس پی طاہرداوڑکی لاش کی حوالگی کے لیے افغان حکام اور پاکستانی وفد کے درمیان مذاکرات ہوئے ، پاکستانی وفد میں وزیرمملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی، ایم این اے محسن داوڑ، صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی، ڈپٹی کمشنرخیبرمحمود اسلم اور پشاور پولیس کے سینئرآفیسر شامل تھے۔

واضح رہے کہ افغان حکام نے ایس پی رورل پشاور طاہر خان داوڑ کی میت طورخم بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا، حکام کا کہنا تھا کہ میت صرف وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے محسن داوڑ کو دی جائے گی۔

ایس پی طاہر داوڑ کی میت کی حوالگی میں تاخیر پر پاکستان نے افغانستان سے احتجاج کرتے ہوئے افغان ناظم الامور کو دوبارہ دفتر خارجہ طلب کیا تھا۔

وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور وزیر اطلاعات خیبر پختونحوا شوکت یوسفزئی بھی میت وصول کرنے کے لیے طورخم گیٹ پر موجودتھے۔

ایس پی طاہر داوڑ کے بیٹے امجد کو طاہر داوڑ کا جسد خاکی وصول کرنے بیگیاڑی چیک پوسٹ سے طور خم بارڈر روانہ کردیا گیا اس سے قبل طاہر داوڑ کے اہل خانہ اور رشتے داروں کا قافلہ ضلع خیبر میں روک دیا گیا تھا۔

ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی افغان شہر جلال آباد سے طورخم بارڈر لایا گیا جہاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے تشکیل دی گئی دو رکنی ٹیم کو میت وصول کرنا تھی۔

واضح رہے کہ ایس پی طاہر داوڑ اسلام آباد کے علاقے جی ٹین سے 27 اکتوبر کو لاپتہ ہوگئے تھے اور اُن کی لاش دو روز قبل افغانستان کے صوبہ ننگرہا ر سے ملی تھی۔

ایس پی رورل پشاور طاہر داوڑ 4 دسمبر 1968ء کو شمالی وزیرستان کے گاؤں خدی میں پیدا ہوئے، 1982 ءمیں میٹرک، 1984 ء میں بی اے اور 1989 ء میں پشتو ادب میں ایم اے پاس کیا۔

پبلک سروس کمیشن کاامتحان پاس کرنے کے بعد اے ایس آئی کی حیثیت سے پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی اور 1998 میں ایس ایچ او ٹاؤن بنوں، 2002 میں سب انسپکٹر اور 2007 میں انسپکٹر کے عہدے پر ترقی پائی۔

2009 سے 2012 تک ایف آئی اے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا، 2014 میں ڈی ایس پی کرائمز پشاور سرکل اور ڈی ایس پی فقیر آباد رہے۔

طاہر داوڑنے 23 سال تک پولیس میں خدمات انجام دیں، انہیں قائداعظم پولیس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں