• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شریف الحسن عثمانی، سکھر

’’وہ پرسوں مُراد بھائی آئے تھے دکان پر، اپنے بیٹے سعود کے لیے صفیہ بیٹی کے رشتے کی بات کر رہے تھے، مَیں نے ہاں کردی ہے۔ ہو سکتا ہے، دو چار دِن میں وہ لوگ رسم کرنے آئیں۔‘‘ سوتے وقت ذکی صاحب نے سرسری سے انداز میں زبیدہ بیگم کو بتایا، تو وہ دنگ سی رہ گئیں اور کھوئے کھوئے سے انداز میں بولیں،’’پرسوں ! اور آپ مجھے آج بتا رہے ہیں۔ وہ بھی اس وقت؟‘‘’’ہاں بس دھیان نہیں رہا۔‘‘ ذکی صاحب نے بے پروائی سے کروٹ بدلتے ہوئے کہا۔’’دھیان نہیں رہا ؟ یا شاید آپ نے مجھے بتانا ضروری ہی نہیں سمجھا۔‘‘زبیدہ بیگم کا انداز خود کلامی جیسا تھا۔’’جو جی میں آئے سمجھو، صفائیاں دینے کا پابند نہیں ہوں مَیں۔‘‘ ذکی صاحب بے رُخی سے بولے۔’’آپ نے کچھ عجلت سے کام نہیں لیا ؟ میرے خیال سے تو آپ کو فوراً ہاں نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘ زبیدہ بیگم نے دھیمے لہجے میں کہا۔’’فوراً ہاں نہیں کرنی چاہیے تھی؟‘‘ ذکی صاحب ایک دَم چِڑ سے گئے،’’مُراد کالج کے زمانے سے میرا دوست ہے، برسوں سے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ہے، سعود سمجھو گھر کا بچّہ ہے، خُوب صُورت ہے، برسرِروزگار ہے، اچھے پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ کیا کہتا مَیں مُراد کو؟ تمہارے، صالحہ بھابھی اور سعود کے بارے میں تحقیقات کرکے دو تین مہینے بعد سوچ کر جواب دوں گا! بولو؟‘‘ ذکی صاحب نے پوری تقریر ہی کر ڈالی۔’’مَیں نے کب کہا ہے کہ دو تین مہینے کا وقت لیتے، کہہ دیتے ایک دو دِن میں تمہاری بھابھی سے مشورہ کرکے جواب دیتا ہوں۔‘‘زبیدہ بیگم روہانسی ہو گئیں۔’’ہا ہا ہا ہا ہا…‘‘ذکی صاحب قہقہہ مار کر ہنسے اور ہنستے ہی چلے گئے۔زبیدہ بیگم نے چونک کر انہیں دیکھا اور حیرت بَھرے لہجے میں کہنے لگیں،’’ایسی کیا بات کردی مَیں نے، جو آپ اس قدر ہنس رہے ہیں؟‘‘وہ…وہ…بے وقوف بھی یہی کہہ رہا تھا۔‘‘ ذکی صاحب نے بمشکل ہنسی روکتے ہوئے کہا،’’کوئی جلدی نہیں ہے ذکی، بھابھی اور صفیہ بٹیا سے پوچھ لو، پھر جواب دے دینا۔‘‘مَیں نے کہا، ’’ابے! تیری بھابھی کون ہوتی ہے، جس سے مَیں پوچھتا پھروں؟ بیٹی میری ہے، جہاں چاہے اس کا رشتہ طے کروں، اس کی کیا مجال کہ میرے فیصلے کے خلاف جا سکے۔‘‘ ذکی صاحب نے فاخرانہ انداز میں کہا، تو زبیدہ بیگم بجھ کر رہ گئیں۔ خفّت اور ندامت کے مارے ان سے کچھ اور نہ کہا گیا۔ وہ منہ لپیٹ کر لیٹ گئیں، مگرساری رات وہ ایک پَل سو نہ پائیں۔ ذکی صاحب کا قہقہہ، اُن کا انداز اور الفاظ پھانس بن کر اُن کے دِل میں چُبھتے رہے۔

صُبح معمول کے مطابق بیٹی کو کالج روانہ کیا ، ذکی صاحب کو ناشتا کروا کے فارغ ہی ہوئی تھیں کہ اچانک مُراد بھائی، صالحہ بھابھی کے ساتھ تشریف لے آئے۔اُن کی غیر متوقع آمد کے سبب ذکی صاحب بھی پریشان سے ہوگئے۔ ’’اتنی صُبح صُبح ، سب خیر تو ہے مُراد؟‘‘وہ بے تابی سے پوچھ بیٹھے۔ذکی صاحب کو جواب دینے کے بجائے مُراد صاحب اپنی بیگم صالحہ کی جانب پلٹے اور بولے، ’’دیکھا ! مَیں نے کہا تھا ناں اس وقت جانا مناسب نہیں رہے گا، پریشان ہو جائیں گے وہ لوگ۔‘‘ اُن کا لہجہ تائید طلب تھا۔گھر آئے مہمانوں سے اس بے تُکے سوال پر زبیدہ بیگم بوکھلا اُٹھیں اور جلدی سے بولیں،’’ارے نہیں نہیں، آپ کا اپنا گھر ہے مُراد بھائی، آپ لوگ جب چاہے، یہاں آ سکتے ہیں، کیوں ذکی صاحب؟‘‘ اور ذکی صاحب کو گھورنے لگیں۔تو ذکی صاحب، جو بُت بنے مُراد صاحب کو تَک رہے تھے، گویا ہوش میں آگئے۔’’ہاں ہاں، کیوں نہیں، کیوں نہیں۔‘‘انہوں نے بات سنبھالتے ہوئے کہا،’’کمال کرتے ہو مُراد تم بھی، آؤ اندر چل کر بیٹھتے ہیں…‘‘

ڈرائینگ روم میں بیٹھتے ہی مُراد صاحب نے بات شروع کرتے ہوئے کہا،’’یار ذکی! صفیہ بیٹی، تمہاری بھابھی کو شروع ہی سے بہت پسند ہے۔ اکثر مجھ سے کہتی رہتی تھیں کہ حالات نے ساتھ دیا، تو مَیں صفیہ ہی کو اپنی بہو بناؤں گی۔ مَیں کہتا تھا کہ بات کرلو، پھر اپنے ذکی بھائی سے، تو کہتیں، ابھی نہیں، ہر چیز اپنے وقت پر اچھی لگتی ہے۔ سعود پڑھ لکھ جائے، کسی قابل ہوجائے، ہم تبھی بات کریں گے۔ ابھی کچھ دِن پہلے انہوں نے خود کہا کہ بس اب بات کر لینی چاہیے، تو مَیں نے کہا کہ نیک کام میں دیر کیسی، ابھی چلے چلتے ہیں، تو کہنے لگیں، نہیں اس طرح مناسب نہیں رہے گا، وہ بہت وضع دار لوگ ہیں، ہم سیدھا جا کر سوال رکھ دیں گے، تو وہ شاید مروّت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بنا سوچے سمجھے، ہمارا مان رکھنے کے لیے ہاں کہہ دیں۔ صفیہ ان کی اکلوتی بیٹی ہے، ہو سکتا ہے، اُن لوگوں نے اس کے بارے میں کچھ اورہی سوچ رکھا ہو۔ مناسب یہی رہے گا کہ آپ اپنے طور پر ذکی بھائی سے بات چھیڑیں، مَیں اپنے طور پر زبیدہ بہن کی مرضی معلوم کرنے کی کوشش کرتی ہوں، دونوں جانب سے مثبت اشارے ملے، تو باقاعدہ رشتہ ڈال دیں گے۔مَیں نے تم سے بات کی، تم نے تو قصّہ ہی نمٹا دیا، مَیں نے خوشی خوشی جاکر بیگم صاحبہ کوبلا کم و کاست سب بتا دیا، میں سمجھا تھا کہ یہ خوشی سے جھوم اُٹھیں گی، مگر انہوں نے تو نکتہ ہی الگ نکال لیا۔ کہنے لگیں، یہ ذکی بھائی کا بڑا پَن ہے اور آپ سے محبّت اور بے تکلفی کا ثبوت بھی کہ انہوں نے فوراً آپ کو ہاں کہہ دی اور زمانے کا طریقہ نہیں اپنایا، لیکن مَیں سمجھتی ہوں، اُن کی ہاں تب تک ادھوری ہے، جب تک زبیدہ بہن کی رضامندی کا پتا نہ چل جائے۔ مَیں جانتی ہوں زبیدہ بہن کی عادت کو، اگر وہ بھی اس رشتے پر خوش ہوئیں، تو جیسے ہی ذکی بھائی ان سے ذکر کریں گے، اُسی وقت مجھے کال کریں گی۔ آپ مٹھائی تیار رکھیے، جس وقت بھی ان کا فون آیا، اُسی وقت ہم ان کے گھر جا کر مُنہ میٹھا کروادیں گے۔‘‘تھوڑے توقف کے بعد وہ پھر گویا ہوئے،’’کل پورا دِن، ہر کال پر بھاگ بھاگ کر فون سُنتی رہیں، دیر رات تک بھابھی کا فون نہیں آیا، تو پریشان ہوگئیں اور کہنے لگیں خدا خیر کرے، ذکی بھائی کے گھر معاملات ٹھیک نہیں لگ رہے، زبیدہ بہن کا فون نہیں آیا، اس کا مطلب ہے، شاید انہیں کوئی اعتراض ہے اس رشتے پر۔ تو مَیں نے کہا، اگر ہے بھی، تو انہیں اس کا حق حاصل ہے، اب زبردستی تو نہیں کی جاسکتی ناں۔ تو خفا ہو گئیں، کہنے لگیں آپ کو رشتے کی پڑی ہے، مجھے ڈر یہ ہے کہ ان دونوں کے بیچ کوئی مسئلہ نہ کھڑا ہو جائے، ذکی بھائی آپ کو زبان دے چُکے ہیں، اگر زبیدہ بہن کو کوئی اعتراض ہوا تو اعتراض کو اختلاف اور اختلاف کو تنازع بنتے کیا دیر لگتی ہے۔ یہ سُن کر تو مَیں بھی پریشان ہو گیا۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں، کیا نہ کروں، تبھی ہماری وزیرِ داخلہ نے فرمان جاری کر دیا کہ صُبح ہوتے ہی ذکی صاحب کا دروازہ کھٹکھٹانا ہے اور بس…اب ہم آپ کے سامنے حاضر ہیں۔ دوستی، تعلق، محبّت، مروّت اور بے تکلفی اپنی جگہ، مگر یار بچّوں کی زندگی کا معاملہ ہے، اگر کوئی بات ہے، تو صاف بتادو، یقین کرو، نہ تو ہم بُرا مانیں گے، نہ اس سے ہمارے تعلق میں کوئی فرق آئے گا۔‘‘

اُن کی بات ختم ہوئی، تو ذکی صاحب بے اختیار قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔ اُن کے اس طرح ہنسنے پر مُراد صاحب اور صالحہ بیگم حیرت سے انہیں تکنے لگے، جب کہ زبیدہ بیگم کو اپنا دِل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ یہ قہقہہ انہیں رات والے قہقہے کا تسلسل معلوم ہوا۔ اپنی بچی کُھچی عزّتِ نفس انہیں خاک میں ملتی دکھائی دی۔’’کاش ذکی صاحب! ان لوگوں کے سامنے کچھ نہ کہیں۔‘‘ اُن کے دِل سے دُعا نکلی، مگر شاید دیر ہو چُکی تھی۔ ذکی صاحب جی بَھر کے ہنس چُکے، تو گویا ہوئے۔’’بھابھی! آپ بھی ناں، بس خوامخواہ ہول جاتی ہیں، ذرا سی بات پر یونہی پریشان ہوتی رہیں، زبیدہ بیگم بھلا کل دِن میں کیسے فون کرتیں؟ ان کو تو بتایا ہی مَیں نے کل رات کو ہے۔‘‘ زبیدہ بیگم کی پلکیں بھیگنے لگیں، آنسو چُھپانے کے لیے انہوں نے اپنا سَر ہی جھکالیا۔’’کل رات کو…؟‘‘ صالحہ بیگم کے لہجے میں بے یقینی تھی۔ ’’ہاں تو اور کیا، پتا نہیں کیوں، مگر بس دھیان ہی نہیں رہا بالکل۔‘‘ ذکی صاحب نے کمال بے نیازی سے کندھے اچکائے، تو صالحہ بیگم خود پر قابو نہیں رکھ سکیں اور قدرے تلملا کر بولیں،’’اور آپ بجائے شرمندہ ہونے کے، ہنس رہے ہیں اس بات پر؟ بڑے افسوس کی بات ہے ذکی بھائی، مُراد نے مجھے بتایا تھا کہ زبیدہ بھابھی سے مشورے کی بات پر بھی آپ نے کہا تھا کہ’’تیری بھابھی کون ہوتی ہے، جو مَیں اس سے مشورہ کروں؟‘‘مَیں نے اس بات کو نظر انداز کر دیا تھا، کیوں کہ مَیں جانتی ہوں، مرد لوگ اس طرح کی کھوکھلی باتیں اپنی خود ساختہ شان میں از خود اضافے کے لیے کرتے ہیں۔ پتا نہیں اپنی شریکِ حیات کی تحقیر کرکے آپ لوگوں کو کیا حاصل ہوتا ہے، ہم تو اپنے جیون ساتھی کو سَر کا تاج مان کر عزّت دیتے ہیں اور آپ لوگ اپنی جیون ساتھی کو پاؤں کی جوتی یا جیون داسی سے زیادہ سمجھنے پر تیار نہیں ہوتے۔ اس طرح کی باتیں کرکے لوگ شاید اپنے حلقۂ احباب میں خود کو’’بادشاہ سلامت‘‘ثابت کرنے کی کوشش کیا کرتے ہوں۔مگر آفرین ہے آپ پر ذکی بھائی، آپ نے تو خود کو مغلِ اعظم ثابت کردیا۔ جو کہا، کر دکھایا۔‘‘ ’’صالحہ! آپ ذکی بھائی سے کس طرح بات کررہی ہیں…؟؟‘‘مُراد صاحب نے قدرے سخت لہجے میں مداخلت کرنا چاہی، تو صالحہ بیگم اور بھڑک اٹھیں،’’کیوں حق نہیں رکھتی مَیں؟ زندگی بَھر دِل سے بڑا بھائی مانا ہے انہیں۔ بھائی کی غلطی پر بہن ٹوکنے کا اختیار نہیں رکھتی؟ نیا قانون نکالا ہے آپ نے؟ آج میں بولوں گی اور ظلِ الٰہی کو احساس دلاؤں گی کہ زبیدہ بھابھی کون ہوتی ہیں صفیہ کی۔‘‘صالحہ بیگم نے جارحانہ انداز میں بات جاری رکھی۔’’ذکی بھائی! خُوب جان لیں، ذکیہ بھابھی نے جنم دیا ہے صفیہ کو، اس ننّھے پودے کو برسوں اپنے دودھ، خون سے سینچا ہے، پال پوس کر پروان چڑھایا ہے۔ حجاب، پردہ ، شرم و حیا، تہذیب اور اخلاقیات کی تعلیم اسے زبیدہ بھابھی ہی نے دی ہے۔ آج اگر ہم اس کے لیے سوالی بن کر آپ کے دَر پر کھڑے ہیں، تو اس لیے نہیں کہ وہ شیخ ذکی احمد کی بیٹی ہے، بلکہ اس لیے کہ جوتہذیب و تربیت اور سلیقہ زبیدہ بھابھی نے اسے سکھایا ہے، وہ بے مثال ہے۔ آپ نے یہ بھی کہا تھا ناں کہ ’’بیٹی میری ہے، جہاں چاہے، اس کا رشتہ طے کردوں‘‘تو دیکھ لیں جہاں پناہ! آپ ہاں کرچُکے ہیں،مگر صرف آپ کی ہاں ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔ یہ رشتہ اُس وقت تک نہیں جُڑ سکتا،جب تک زبیدہ بھابھی ہاں نہ کہہ دیں۔ اب سمجھ گئے آپ کہ زبیدہ بھابھی کون ہوتی ہیں…؟؟‘‘ذکی صاحب ہکّا بکّا ساری بات سُن رہے تھے، مگر ان کے چہرے پر شرمندگی اور ملال صاف دکھائی دے رہا تھا۔ زبیدہ بیگم کے ضبط کا بند ٹوٹ گیا۔وہ روتی ہوئی کمرے سے چلی گئیں۔’’دیکھ لیا ناں آپ نے رونے کا مقام تھا وہ، جس پر آپ ہنس رہے تھے۔‘‘یہ کہہ کر صالحہ بیگم بھی رو پڑیں اوران کے پیچھے لپکیں۔

اُن کے جانے کے بعد کمرے میں گمبھیر خاموشی طاری تھی، جسے مُراد صاحب نے توڑا، شرمندہ سے لہجے میں کہنے لگے، ’’معاف کرنا یار ذکی! صالحہ بیگم آج کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گئیں۔‘‘ تو ذکی صاحب تڑپ اٹھے، رندھی ہوئی آواز میں بولے، ’’نہیں مُراد نہیں، اُن کا تو احسان ہے مجھ پر، انہوں نے تو میری آنکھیں کھول دیں، جن پر جھوٹی انا کی پٹّی بندھی تھی، کتنی زیادتی کرتا رہا، مَیں عُمر بَھر، کتنے غلط انداز میں زندگی گزار دی مَیں نے۔‘‘’’بات تو ایسے کر رہے ہو،جیسے ختم ہو چُکی زندگی۔‘‘مُراد صاحب بولے۔’’ارے بھائی! احساس ہو ہی چُکا ہے، تو آگے خیال کرنا۔ پچھتانے سے اچھا ہے کہ ازالے کی سوچو۔ واقعی ہم مرد کبھی کبھی بہت زیادتی کرجاتے ہیں۔ ٹھیک ہے خاندان کا سربراہ ہمیں اللہ نے بنایا ہے، گھر بَھر کی کفالت اور حفاظت کی ذمّے داری ہم مَردوں کو سونپی ہے، لیکن گھر کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے ہم بعض اوقات اپنے اختیارات کا غیر ضروری استعمال کر بیٹھتے ہیں۔ انسان ہیں، غلطی ہو جاتی ہے، لیکن مناسب یہی ہے کہ غلطی کا احساس ہو جانے پر اسے تسلیم کر لیا جائے۔‘‘ مُراد صاحب کی بات سُن کر ذکی صاحب کو بہت حوصلہ ہوا۔

کچھ ہی دیرمیں دونوں خواتین گرما گرم چائے کے ساتھ واپس آگئیں۔ ذکی صاحب دونوں سے نظریں نہیں ملا پارہے تھے۔چائے کے بعد مُراد صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور واپسی کی اجازت چاہی، تو ذکی صاحب گونج دار آواز میں بولے،’’مُراد! تم نے ہمارے سامنے ایک سوال رکھا تھا، مابدولت، ملکۂ عالیہ سے مشاورت کے بعد جلد اس کا جواب مرحمت فرمائیں گے۔‘‘ اُن کے اس انداز پرمُراد صاحب اور صالحہ بیگم نے ایک دوسرے کی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھا اور مُسکرانے لگے۔ تبھی زبیدہ بیگم بول اُٹھیں،’’کوئی ضرورت نہیں مشورے کی، عُمر بَھر چراغ لے کر بھی ڈھونڈیں گے تو پورے جہان میں اپنی صفیہ کے لیے ان سے زیادہ مخلص اور بہتر لوگ نہیں مل پائیں گے ہمیں ، ہاں کردیں آپ اسی وقت۔‘‘ ’’ہرگز نہیں۔ اب ہر کام طریقے سے ہوگا ، صفیہ کی مرضی بھی معلوم کی جائے گی۔‘‘ ذکی صاحب ایک ہی لیکچر سے خاصے سدھر گئے تھے۔’’وہ مَیں کرچُکی ہوں۔‘‘ زبیدہ بیگم نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا،’’ہائیں ! کب ؟‘‘ ذکی صاحب واقعی حیرت زدہ ہوگئے۔’’صُبح نماز کے بعد، کالج جانے سے پہلے، اُسے کوئی اعتراض نہیں اپنے والدین کے انتخاب پر۔‘‘ زبیدہ بیگم نے جواب دیا۔تو آپ نے صُبح ہمیں کیوں نہیں بتلایا؟‘‘ ذکی صاحب نے شکایتی لہجے میں کہا۔’’بس، دھیان نہیں رہا۔‘‘زبیدہ بیگم نے چہک کر ذکی صاحب کی نقل اتاری، تو کمرا مُراد صاحب اور صالحہ بیگم کے زوردار قہقہوں سے گونج اُٹھا۔

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار

٭وہ لمحہ، خواجہ اعجاز احمد بٹ، سیال کوٹ٭ دودھ سے بھی زیادہ سفید، نوشیرعلی انصاری٭ باتوں سے خوشبو آئے، صبا شیخ، شکارپور٭ لاجواب، باتیں، تبلیغ، تحفہ، پرنس افضل شاہین، بہاول نگر٭ کل، عفت، محمّدانور، رشیدآباد٭ ایک کہانی یا المیہ، قلندر حسین سیّد، احمدپور شرقیہ٭ خوف اور خواہش، ترجیح، روبینہ ناز، کراچی٭ زندگی میں سفر، اقصیٰ عثمان، کراچی٭ ہیپاٹائٹس، وقار خان٭ امراض اور شفا، منوّر زمان، ایبٹ آباد٭ دوست، محمّدوسیم٭ جنسی ہراسیت، شائستہ رفعت، مقام نہیں لکھا٭ عُمر قید، فاطمہ ارم، میلبورن، آسٹریلیا۔

جو بذریعہ ای میل موصول ہوئیں

٭میرے ساتھ ہی کیوں ہوا، ماسی زرقا، قراۃ العین فاروق، حیدرآباد٭ حجاب، خطیب احمد، کراچی٭ اقوالِ زریں، آزادی، بلال یونس شیخ٭ مسافت، مہر بلوچ٭ وطنِ عزیز، اسما بنّتِ محمّد اجمل٭اُردو، مائی ڈیئر مولوی منجن، پروفیسر ڈاکٹر مجیب ظفر انوار حمیدی٭ امتحان، حمزہ کاشف٭انداز، لائف، مبشرہ خالد٭ گل دستہ، احمد رضا٭ شرارت، صباحت رفیق چیمہ، گوجرانوالہ٭ وحشت، مدثرہ رضا۔

ناقابلِ اشاعت کلام اور اُن کے تخلیق کار

٭ یہ فقط خیال ہے، درخشاں صدیقی، نارتھ کراچی٭ نذرانۂ عقیدت، غلام اللہ چوہان سلاوٹ، گزدر آباد٭ ماں، نام اور مقام نہیں لکھا٭ پیار سے پہلے، زاہد اظہار، کراچی٭ خیال ذرا تم کرنا، سیّدعبداللہ بلخی، کراچی۔

تازہ ترین