آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر20؍ شوال المکرم 1440 ھ 24؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


ایک چینی سائنس دان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جڑواں بچیوں کے ڈی این اے میں تبدیلی کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پروفیسر ہے جیانکوئی کا کہنا ہے کہ چند ہفتے پہلے پیدا ہونے والی جڑواں بچیوں کے ڈی این اے میں ایسی تبدیلیاں کی گئی تھیں کہ انہیں ایچ آئی وی کا انفیکشن لاحق نہ ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے پتہ ہے کہ میرا کام متنازع ہو گالیکن میرا خیال ہے کہ لوگوں کو اس کی ضرورت ہے اور میں اس کے لیے تنقید برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں‘۔

سائنسداںنے جن تنظیموں اور ایک ہسپتال میں یہ کام کیا تھا انھوں نے تردید کی ہے کہ انھوں نے اس تحقیق میں حصہ لیا تھا۔

دوسری جانب ماہرین نے اس تحقیق کی اخلاقیات پر سوال اٹھایا ہے، اگر واقعی یہ کام ہوا ہے۔

انسانوں کے ڈی این اے میں اس قسم کا ردوبدل بیشتر ملکوں میں غیر قانونی ہے کیوں کہ وہاں سمجھا جاتا ہے کہ انسانی ڈی این اے سے چھیڑچھاڑ غیر اخلاقی ہے۔

جینز میں ردوبدل سے ممکنہ طور پر موروثی بیماریوں سے اسی وقت چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے جب بچہ ابھی ماں کے پیٹ ہی میں ہو۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی جنین کے ڈی این اے میں کاٹ پیٹ کی جائے تو اس کا اثر نا صرف اس بچے پر پڑے گا بلکہ یہی تبدیلیاں اگلی نسلوں میں بھی منتقل ہو کر مضر ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ برطانیہ سمیت بہت سے ملکوں میں جنین کے ڈی این اے میں کسی قسم کا ردوبدل ممنوع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی ویسے بھی قابلِ علاج مرض ہے اور اس کے لیے والدین کو اپنے بچوں کے ڈی این اے میں تبدیلیاں کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں