آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لوڈ شیڈنگ، گیس کی کمی، ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر، ظالمانہ پولیس کلچر، بیورو کریسی کی سستی، سڑکوں اور کرایہ کے گھر میں رہنے والوں، اسپتالوں کی حالت زار، ناقص سفارت کاری، ملاوٹ شدہ اشیاء، فرسودہ تعلیمی نظام، ہر محکمہ اور ہر شعبہ میں پائی جانے والی کرپشن، الغرض ہر طرح کا حساب چار ماہ کے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے ایسے مانگا جا رہا ہے، جیسے سالہا سال سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ووٹ کپتان عمران دیتا رہا ہے۔ دبنگ سیاستدان شوکت بسرا بیچارے کے تمام گناہوں کی فائلیں صرف اس لئے کھل گئی ہیں کہ اسے شعور کیوں حاصل ہوا ہے، ہم وزیراعظم عمران خان کی ٹیم پر بات کر سکتے ہیں کہ ٹیم کی کارکردگی درست نہیں ہے، لیکن دوسری طرف بغض عمران میں مبتلا و لاعلاج احباب کے پاس اگر کچھ وقت ہو، تو یہ بھی دیکھیں کہ پاکستانی تاریخ کے پہلے کپتان کی ٹیم کے وفاقی وزیر صاحبزادہ پیر نور الحق قادری ہیں، جنہوںنے سعودی عرب میںعربی زبان میں بات کرکے سعودی ذمہ داران کو حیرت میں ڈال دیا ، بہتر سفارت کاری اسی کو کہتے ہیں، جس ملک میں جائیں، اس کی زبان پر عبور حاصل ہو توبہتر انداز میں سفارت کاری ہوتی ہے۔ ہمارے بہترین اورقابل اعتماد دوست ملک سعودی عرب سے چند قبل ایک ارب ڈالر آجانا، وزیر اعظم کی قیادت پر عالمی اعتماد کی ایک بہت بڑی مثال ہے۔ کرپشن کی پہچان رکھنے والے چہرے عبرت کا نشان بننے جار ہے ہیںاوراس شدت اورشدومد کے ساتھ کرپشن کے خلاف کام ہونے جارہا ہے کہ کسی بھی طبقہ کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ جمہوریت میں اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن کرپشن پر نہیں ہونا چاہیے، یہ عمران خان ہی ہیں جنہوں نے اپنی ہی پارٹی کے ریاض فتیانہ کے خلاف درست ایکشن لیا ہے کہ وہ آکر بتائیں کہ اس نے کس عینک سے لوہے کے چنے یعنی سعدرفیق کو کرپشن میں ملوث نہیں پایا، جبکہ قیصر امین بٹ سب کچھ بتا چکا ہے اور مزید بہت کچھ بتانے والا ہے۔ لیکن تحریک انصاف میں آنے والے نئے نئے پرندوں کو بتا دوں، کرپشن کے سرخ دائرہ میں آنے پر کوئی رعایت ملنی والی نہیں ہے، وزیر اعظم عمران خان کے کنڑول میں اداروں کا ایک پیج پر آنے کا فائدہ یہ بھی ہے، کہ عنقریب بلکہ انہی دنوں میں دیامیر اور بھاشا ڈیم میں بہت بڑی رقم آنے والی ہے۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان کی مجبویورں کو عوام سمجھے، اورساتھ دے، وہ وقت دور نہیں جب عوام کرپٹ مافیا کا حشر اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔

وزیر اعظم عمران آپ کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ مریم نواز کی طرح اسحاق ڈار بھی کہہ رہے ہیں کہ میرا پاکستان کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی اکائونٹ نہیں ہے اور نہ ہی دنیا میں اور کہیں گھر ہے، ان کا یہ کہنا، اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے، بہت کچھ ملک میں بھی ہے اور ملک سے باہر بھی۔ اہم ترین اجلاسوں میں کہیں اور گم ہو نے والے خاموش رہ کر خاموش این آراو کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن آخری خبریں آنے تک ایسا دور دور تک کم ازکم ایک سال کے لئے کہیں نظر نہیں آرہا، لیکن اگر یہ این آراو مزیداگلے تین سال تک نہ دینے کی پالیسی اپنائی گئی، تو ملک بہت آگے جائے گا، لیکن یہ بات وزیر خزانہ کی درست ہے کہ بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنا، کچھ وجوہات کی بنیاد پر مشکل بھی ہے۔ روایتی سیاستدان ’’آئی آئی پی ٹی آئی‘‘ کے مقبول نعرہ کے بعد اب ’’آئی آئی پولیس آئی‘‘ کے نعرے سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ ایسے بظاہر صاف وپاک نظر آنے والے سیاستدانوں کوان کے اپنے ذاتی محرم رازخود اپنے بڑوں کو مجرم بنانے میںنہ صرف مدد دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہو چکے ہیں بلکہ بہت سارے تو اپنے بڑوں کی اصلیت بتا بھی چکے ہیں۔

یہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کی پاکستان اور پنجاب کے ساتھ محبت ہی ہے، جنہوں نے عثمان بزدارجیسا ایماندار، دلیر، سادہ سیاستدان بلکہ اصل شریف وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا۔ ماضی کے چار کیمپ آفس جن کو وزیر اعلیٰ کا درجہ دیا گیا تھا، وہ صوبہ اس وقت صرف ایک وزیر اعلیٰ ہائوس سے پہلے سے بہتر انداز میں چل رہا ہے، اسی شریف النفس وزیر اعلیٰ پنجاب نے صرف 100دنوں میں 56ہزار کنال زمین قبضہ مافیا سے واپس لی ہے، یہ وہی وزیر اعلیٰ ہے، جس نے نقص صفائی کی بنیاد پر ایک غیر ملکی کمپنی کو 2کروڑ جرمانہ بھی کیا ہے، فواد حسن فواد کے اہل خانہ بھی پلی بارگین کے لئے نہ صرف تیار ہوئے، بلکہ بڑی رقم کے بدلے رہائی لینے کے خواہش مند ہیں، جناب وزیر اعظم یہ آپ کی ہی حکومت ہے، جو ہر طرح کے کیس کا فیصلہ دو سال میں کرنے کا بہت جلد بل قومی اسمبلی میں لیکر آرہی ہے، اپوزیشن جماعتیں تو مکافات عمل کا شکار ایسے ہونے جارہی ہیں، جو ان کا حق بھی ہے، یہ آپ کی ہی حکومت ہے، جوچیف جسٹس کے حکم کے تحت مہنگے اسکولوں سے غیر قانونی لی گئی فیسیں واپس کرارہی اور آئندہ فیس نہ بڑھانے اقدامات کرچکی ہے، 73ءکے آئین کے تناظر میں سب ٹھیک کہنے والوںکو اب سب غلط نظر آرہا ہے، وجہ آپ کا عمرانی دور ہے، یہ آپ کی اصولی سیاست ہے، کہ جنہوں نے شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنایا ہے اوریہ ہی سیاست ہے، دھیرے دھیرے آگے بڑھتے جائیں، اچانک آگے بڑھنا نقصان دہ ہے، جناب وزیر اعظم! آپ نے کمال مہارت اور ذاتی دلچسپی سے امریکہ اورطالبان کو مذاکرات کی میز پربٹھا کر ڈومور کہنے والے امریکہ کی مدد توکی ہی ہے اورآپ کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ اس اقدام سے پرامن افغانستان سے پشاور تجارتی حب بن جائے گا۔ جناب وزیر اعظم صاحب تھوڑی توجہ دیر بھی کریں، صحیفہ سے نکلالفظ صحافت آج کل شدید سخت پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے، مشکل حالات سے اس لئے گزر رہا ہے، ایک طرف تو آپ کی جانب سے اشتہارا ت بہت کم دئیے جارہے ہیں جبکہ دوسری طرف ماضی کے حکمرانوں کی جانب سے جاری کردہ اشتہارا ت کی رقم نہیں مل پارہی، جس کی بناء پر صحافتی حلقہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس طرف خصوصی توجہ دیں تاکہ غریب صحافی حضرات کا چولہا ٹھنڈا نہ ہونے پائے۔ جناب وزیر اعظم علماء کرام، خطیب، امام، موذن اور خادمین مساجد کے لئے بھی کوئی اچھا سے پیکیج لے کر آئیں تاکہ مستحق طبقہ سے آپ دعائیں لیں سکیں۔ وزیر اعظم پاکستان نے ہر شعبہ کی یوتھ کو ہمت اور حوصلہ دیاہے۔