آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر17؍ رجب المرجب 1440ھ 25؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحقیق اور ایجادات ترقی کے دو اہم پہلو ہیں ،اس کے بغیر کسی بھی ملک کا ترقی کی راہ پر گامزن ہونا نا ممکن ہے ۔اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف خطوں کے سائنس داں 2018 ء میں بھی حیرت انگیز ایجادات اوردریافتوں میں مصروف رہے۔یوں سائنس اور ٹیکنالوجی کا کینوس وسیع کرنے کے ضمن میں 2018 بھی کافی اہم سال ثابت ہوا ۔ رواں سال بھی کئی بر سوں کی طر ح علم وحکمت کی بلند پرواز جاری رہی اور سائنس اورٹیکنالوجی کے میدان میں نت نئی ایجادات ،دریافتوںاور تحقیق کے متعدد جھنڈے گاڑے گئے ۔ اگرچہ 2018ء میں بھی ان شعبوں میں بہت کام ہوا ،تا ہم ذیل میں ہم نے صرف چنیدہ تحقیق اور ایجادات کا تذکرہ کیا ہے جو مستقبل کا نقشہ بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ۔

دنیا کا تیزترین طیارہ

رواں برس چینی ماہرین نے دنیا کا تیز ترین طیارہ تیار کیا ہے ،جس کو’’ آئی پلین‘‘ کانام دیا گیا ہے۔ یہ طیارہ 3728 میل فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرتا ہے ،یہ آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز چلتا ہے۔ یہ طیارہ بیجنگ سے نیو یارک تک کا فاصلہ صرف دو گھنٹے میں طے کرتا ہے ۔جب کہ عام طور پر اس سفر میں ساڑھے 13 گھنٹے لگتے ہیں ۔لیکن اس کے ذریعے کراچی سے نیو یارک کا فاصلہ دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے کیا جا سکے گا ۔پہلے ماہرین نے ایک ونڈٹنل میں اس طیارے کے ایک ماڈل کا تجربہ کیا ،جو 8600 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار تک پہنچا ۔ اس طیارے کا ڈیزائن ونگز کی دو تہوں پر مشتمل ہے ،جو کہ مختلف رکاوٹیں کم کرکے طیارے کو تیزی سے سفر کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔یہ طیارے ایک وقت میں پچاس مسافروں کو لے جاسکتا ہے ،جب کہ نیویارک سے لندن کا فاصلہ تین گھنٹے 15 منٹ میں طے کرتا ہے۔

پہلے مسافر بردار ڈرون کی کامیاب پرواز

چینی ماہرین نے 2018 ء میں وولو کوپٹر طرز کے مسا فر بردار ڈرون کی کام یاب آزمائش کی ،جس کو ’’اے ای ہینگ 184 ‘‘کانام دیا ہے ۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہر موسم میں پرواز کے لیے موزوں اور مکمل طور پر خود کارہے ۔یہ ڈرون ایک وقت میں کئی مسافروں کو لے کر 130 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سےپرواز کرتا ہے ۔اس کا ڈھانچہ کاربن فائبر اور المونیم بھر توں سے بنا یا گیا ہے ۔ اس کو ان تیز ہوائوںمیں بھی آزما یا گیاہے جو ساتویں زمرے کے طوفان میں پیدا ہوتی ہیں ۔اس طر ح یہ بارش اور تیز ہوائوں میں آسانی سے پرواز کر سکتا ہے ۔اس کی تمام موٹریں ایندھن کے بجائے بجلی کے چارج سے گھومتی ہیں۔ ایک گھنٹہ چارجنگ ہونے کے بعد یہ 25 منٹ تک پرواز کرسکتا ہے۔کمپنی کے مطابق اس پر تقریباً 9 کلومیٹر طویل پرواز بھی کی گئی ہے جب کہ اس کی اونچائی صرف 1000 فیٹ ہے۔

انگلی کی پور پر سمانے والی خردبین

رواں سال امریکی ماہرین نے ایک خردبین (مائیکرو اسکوپ ) ایجاد کی ہے ۔ماہرین کی جانب سے اس کانام ’’فلیٹ اسکوپ ‘‘ رکھا گیا ہے ۔یہ بظاہر ایک چھوٹی سی چپ نما شے ہے ۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عدسے یعنی لینس کے بغیر دنیا کی پہلی خر دبین ہے ۔یہ روشنی اور دمک کی بنیاد پر کام کرتی ہے ۔ماہرین کے مطابق یہ اسکولوںمیں استعمال ہونے والی خردبین کو پیچھے چھوڑ دے گی ۔یہ دیکھنے میں ایک کریڈٹ کارڈ سے بھی پتلی ہے اور انگلی کی ایک پور پر بھی سماسکتی ہے ۔اس کے ذریعے مائیکرو میٹر (ایک میٹر کے دس لاکھویں حصے ) جتنی چھوٹی اور باریک اشیاء کو بھی بآسانی دیکھا جاسکتا ہے ۔اس کو رائس یونیورسٹی کے انجینئروں اشوک ویرا راگھوانااور جیکب رابنسن نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے امریکی دفاعی تحقیقی ادارے ڈارپا کے تعاون سے تیار کیا ہے ۔ماہرین کے مطابق فلیٹ اسکوپ کوجسم میں داخل کر کے اینڈو اسکوپ ،بڑے جگہ کی تصویر کشی اور لچکدار خردبین میں بآسانی ڈھالا جاسکتا ہے ۔اس طر یقے سے ماہرین نینو میٹر کی حد تک چھوٹی حیاتیاتی اشیاء بھی دیکھ سکتے ہیں ۔

دماغ میں اپ لوڈنگ کرنے والاسمولیٹر

امریکی محققین نے اس سال ایک سمولیٹر تیار کیا ہے ،جو اطلاعات کو براہ راست کسی بھی شخص کے دماغ میں فیڈ کر کے کم سے کم وقت میں نئی صلاحیتیں سکھا سکتا ہے ۔یہ تحقیق امریکا کی ایچ آرایل لیبارٹریز میں کی گئی ہے ۔اس کے لیے محققین نے انسانی دماغ کا جائزہ لیا ، پھر مختلف لوگوں میں اس ڈیٹا کو فیڈ کردیا ،تا کہ وہ ایک طیارے کے پائلٹ بن سکیں ،جس کا تجر بہ فلائٹ سمولیٹر میں کیا گیا ہے ۔تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو ایمبیڈڈہیڈ کیپس کے ذریعے برین سمولیٹر سے گزارا گیا تھا ،ان کے طیارے اڑانے کی اہلیت میں بہتری آئی اور انہوں نے دیگر لوگوں کے مقابلے میں 33 فی صد اچھی کار کرد گی کا مظاہرہ کیا ۔

دنیا کی پہلی سولر گاڑی

ہالینڈکی ایک کمپنی’’دی لائٹ ایئرون‘‘ نے 2018 ء میں شمسی توانائی سےچلنے والی گاڑی تیار کی ہے ۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ کار خود اپنے آپ کو چارج کرتی ہے اور ایک مرتبہ مکمل چارک ہونے کے بعد یہ 400 تا 800 کلو میٹر تک کا فاصلہ بآسانی طے کر سکتی ہے ۔اس بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی نہ صرف سورج کی توانائی سے دوڑے گی بلکہ اس کے لیے تمام ضروری ٹیکنالوجی بھی تیار کی گئی ہے ۔2019 ء میں کمپنی 10گاڑیاں صرف یورپ میں پیش کرے گی اور 2020 ء تک 100 گاڑیاں فروخت کے لیے پیش کی جائیں گی ۔

کنکشن کے بغیر لوگوں کو تلاش کرنے والے ایپ

رواں سال اسپین کے سائنس دانوں نے ایک ایپ بنائی ہے جو زلزلے ،سیلاب ،طوفان یا کسی بھی حادثے میں متاثرین کی مدداور نشان دہی بآسانی کرسکتی ہے ۔اس کو استعمال کرنے کے لیے آپ کوانٹر نیٹ یا موبائل فون کے کنکشن کی ضرورت نہیں ہے ۔یہ تما م اسمارٹ فونز میں یکساں طور پر قابل َعمل ہے اور انٹر نیٹ کنکشن کے بغیر ایسے وائی فائی سگنلزخارج کرتی ہے ۔جنہیں کئی کلو میٹر دور تک محسوس بھی کیا جاسکتا ہے ۔ماہرین کے مطابق حادثے یا کسی آفت کے شکار ہونے والے افراد کے موبائل سے خارج ہونے والے سگنلزکے ذریعے ان کی موجودگی کا بھی پتا لگایا جاسکتا ہے ۔علاوہ ازیں زخمی اور مدد کا ایک مختصر پیغام بھی بھیجا جاسکتا ہے ۔اسمارٹ فون سے خارج ہونے والے سگنلز وصول کرنے کےلیے ایک ریسیور بنایا گیا ہے، جس کا وزن تقریباً ایک پاؤنڈ ہے ۔ اس پر ایک چھوٹا سا انٹینا نصب ہے جو رضاکاروں کے اسمارٹ فونز سے جڑا رہتا ہے۔ اب کسی حادثے یا آفت کی صورت میں یوزر کو صرف ایپ کھولنا ہوتی ہےاور وہ فعال ہوتے ہی وائی فائی سگنل خارج کرتی ہے اور کئی گھنٹوں بلکہ کئی دن تک سگنل خارج کرتی رہتی ہے۔سائنس دانوں نے اس ایپ کو سب سے پہلے پہاڑوں اور سمندروں پر آزمایا تھا ۔تجربے میں دوسے تین کلو میٹر دور کے سگنلوں کو بھی کام یا بی سے تلا ش کیا گیا تھا۔ اگر اس ایپ کا حامل فون کسی عمارت کے نیچے دبا ہو تب بھی اس کے وائی فائی سگنل وصول ہوتے رہتے ہیں۔

100سال تک توانائی فراہم کرنے والی ’’ایٹمی‘‘ بیٹری

2018 ء میں روسی انجینئروں نے تابکار عنصر سےایک ایسی بیٹری تیار کی ہے جو مسلسل 100 سال تک توانائی فراہم کرسکتی ہے ،جس میں قدرتی طور پر بی ٹا انحطاط (ڈیکے ) ہےاور اس عمل سےوولٹیج (پوٹینشل )پید ا ہو تا ہے ۔اس لیے اس کا نام ’’بی ٹاوولٹائک بیٹری‘‘ رکھا گیا ہے ۔یہ بیٹریاں ایسے کاموں کے لیے موزوں ہیں جہاں چارجنگ محال ہوتی ہے ۔اس بیٹری میں ماہرین نے 63نکل کے آئسو ٹوپ کو خاص سیمی کنڈکٹر ڈائیوڈز کےدرمیان رکھا ہے ،جنہیں ’’شاٹکی بیر ئیر‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔یہ بیر ئیر کرنٹ کو یک سمتی رکھتی ہے یعنی آلٹر نیٹنگ کرنٹ کو ڈائر یکٹ کرنٹ میں تبدیل کر دیتی ہے ۔ماہرین کے مطابق ان میں سے ہر تہہ کی موٹائی دومائیکرو میٹر ہے اور یہ اندر موجود نکل آئسو ٹوپ کے ہر گرام سے بھرپور وولیٹج حاصل کرتی ہے ۔ ماہرین کو اُمید ہے کہ اس سے 3300 ملی واٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے ۔علاوہ ازیں یہ مریخ سے آگے خلائی مشن کے لیے بھی فائدے مند ثابت ہوگی۔

طاقت ور الجی سے بنے سیل

اس سال بھی ماہرین نئی نئی تجر بات کرنے میں کوشاںرہیں۔ کیمرج یونیورسٹی کے ماہرین نے زندہ الجی پر مشتمل ایک سیل بنایا ہے ،جو بیٹری کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ موثر ثابت ہوئی ۔یہ سیل بالکل فوٹو سنتھےسز (ضیائی تالیف ) کی طر ح کام کرتے ہیں ۔ماہرین نے اسے ’’ مصنوعی پتا ‘‘نام دیا ہے ۔اس کو تیار کرنے کے لیے الجی کے پتوں کو استعمال کیا گیا ہے ۔اس سیل کے دو چیمبر ہیں ،دونوں میں سے کسی کو بھی آپ اپنی مرضی سے ڈھال سکتے ہیں ۔اسی دوران یہ توانائی بھی جمع کرسکتاہے جسے بعد میں استعمال کیا جاسکتا ہے ۔اس کی خاص بات یہ ہےکہ اس طرح حیاتیاتی سولر سیل کو رات کے وقت بھی استعمال کرسکتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق اس طرح بآسانی چارجنگ اور توانائی پہنچانے والا ایک بہترین نظام تیار کیا جاسکتا ہے۔بعدازاںاس عمل کو کافی حد تک چھوٹا کیا جاسکتا ہے ۔ جب سیلز کوچھوٹا کیا جاتا ہے تو ان کے اندر مائعات کا بہاؤ اور دیگر اشیا اچھی طرح کام کرتی ہیں اور توانائی بھی کم سے کم ضائع ہوتی ہے۔الجی سے بنا یہ سیل کئی لحاظ سے بہتر ہے اور اس سے شمسی توانائی کو بہت اچھی طرح استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

سوچ کو اسکرین پر دیکھانے والی ٹیکنالوجی

اس سال جا پانی ماہرین نے ایک حیرت انگیز ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے ۔یہ ٹیکنالوجی آپ کی سوچ پڑھ کر اس کا عکس اسکرین پر دکھا تی ہے۔ماہرین کے مطابق اس میں دل ودماغ اور آرٹیفشل انٹیلی جنس سے استفادہ کرنے والا ایک خاص سافٹ ویئر استعمال کیا گیا ہے ۔یہ سافٹ ویئر کسی بھی منظر کو دیکھتے یا سوچتے وقت اس کی تفصیلات جان کر ایک ٹی وی ڈسپلے پر دیکھاتا ہے ۔ماہرین نے اسے’’انسانی آنکھ‘‘ کانام دیا ہے ۔اس عمل کو سائنسی کہانیوں یا فلموں کی طرح قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں لوگ اپنی یادوں کو اسکرین پر دوبارہ دیکھتے اور ریکارڈ کرتے ہیں۔سائنس دانوںنے دماغی عکس نگاری کو پرت در پرت کئی سطحوں میں ظاہر کیا ہے۔اس ماڈل کو پہلے قدرتی مناظر پر تربیت دی گئی ہے ۔اس کی اہم بات یہ ہے کہ اگر کوئی چوکور، گول اور تکونی شے دیکھ رہا ہے تب بھی یہ اس کا دماغ پڑھ کر اسے اسکرین پر دکھاتا ہے۔ٹیم نے پہلے ڈیپ نیورل نیٹ ورک کو 50 قدرتی مناظر دکھائے اور پھر تربیت دی۔

مصنوعی ہاتھ ایجاد

یونیورسٹی الینوائے اور بانا شیمپیئن کے سائنس دانوں نے رواں سال مصنوعی ہاتھ ایجاد کیا ہے ۔ماہرین کے مطابق یہ مصنوعی ہاتھ ٹھنڈا ،گرم،سخت ونرم اور ٹھو س ومائع میں فرق محسوس کرسکتا ہے ۔ مصنوعی اعضا ء استعمال کرنے والے افراد اٹیکنالوجی کی مدد سے چیزوں کو بآسانی محسوس کر سکتے ہیں ۔ماہرین نے اعصاب کا کام برقیاتی فیڈ بیک سے لیا ،جس کے لیے ایک نگراں الگورتھم تیار کیا جو کرنٹ کے بہائو کو قابو میں رکھتا اور مانیٹر نگ بھی کرتا ہے ۔اس کے ذریعے مصنوعی ہاتھ استعمال کرنے والے صارفین انسانی ہاتھ کی طرح حس سے لبریز ہو سکیں گے یعنی مصنوعی ہاتھ سے پکڑنے والی اشیاء کو محسوس بھی کر سکتے ہیں جب کہ اس سے قبل مصنوعی اعضاء حس سے عاری ہوتے تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں میں محسوس کرنے کے اعصاب کی جگہ الیکٹریکل کرنٹ استعمال کیا گیا ہے ،جس میں پیغامات کو وصول کرنے اور بھیجنے کی صلاحیت موجود ہے۔ابتدائی طور پر یہ تجربہ کامیاب رہا ہے۔

پاکستان کاپہلا ریموٹ سینسنگ سیٹلا ئٹ

2018 ء میں پاکستان کاپہلا ’’ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ‘‘ پی آر ایس ایس ۔1 خلا ء میں روانہ کیا گیاہے۔ یہ سیٹلائٹ مصنوعی سیاروں کی ایک خاص قسم سے تعلق رکھتا ہے ۔اس میں طاقت ور کیمرے ،ریڈار اور دیگر اہم آلات نصب ہیں ،جن کے ذریعے یہ زمین کے اندر کے مناظر کی صاف وشفاف اور ہائی ریزولیشن تصاویر بآسانی لے سکے گا ۔یاد رہے کہ دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ رکھتے ہیں ۔پاکستان کاپہلا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ 2018 ء میں خلاء میں بھیجنے کا اعلان پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹما سفیر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے چیئر مین قیصر انیس خرم نے سپارکوکی جانب سے اسپیس ٹیکنالوجی سے متعلق اسلا م آباد میں منعقدہ ایک پرو گرام میں کیا تھا ۔ یہ سیٹلاٹ زمین کے اندر کے پورے نظا م کا بہ خوبی جائزہ لیتا ہے اور برقی مقناطیسی (ا لیکٹرومیگنیٹک )لہروںکی مدد سے 1سے 4 میٹر ز دور سے حاصل کی گئی ہائی ریزو لوشن تصاویر کا مشاہدہ بھی کرتا ہے۔علاوہ ازیں یہ سیٹلائٹ زمینی وسائل ،زمینی سروے ،قدرتی آفات ( زلزلہ ،سیلاب اور طوفان )کی جانچ پڑتال ،زراعی تحقیقات،گائوں میں بننے والی عمارتوں،پانی کے وسائل کے انتظا ما ت ،ماحولیات کی نگرانی اور سی پیک کے حوالے سے معلومات فراہم کرے گا ۔علاوہ ازیں یہ بھارت کی سر حد کی جاسوسی بھی کرے گا۔ پاکستان کا پہلا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (پی آر ایس ایس -1) تین آلات پر مشتمل ہے۔ پینکرومیٹک کیمرا panchromatic))، ملٹی اسپیکٹرل کیمرا( multispectral) اورسنتھیٹک اپر چرریڈار (synthetic aperture) ۔ماہرین کے مطابق اس میں نصب دونوں کیمرے ہائی ریزولوشن تصاویر لینے کے کا م آتے ہیں اور ریڈار ان تصاویر کو دو یا تین جہتی صورت دیتا ہے۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے کنٹرول کرنے کے لیے جو آلہ زمینی مرکز میں نصب ہے ۔وہ مذکورہ تین آلات کے ذریعے پاکستان کے کسی بھی علاقے کی صاف وشفاف تصاویر لے سکتا ہے ۔اس مصنو عی سیارے پی آر ایس ایس -1کا وزن 1200کلو گرام ہے ،یہ زمین سے 640 کلو میٹر زکی بلندی پر مدار میں بآسانی پرواز کر سکتا ہے ۔

 ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین

 اس سال جرمنی میں ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کاافتتاح کیا گیا ہے ۔ماہرین کے مطابق یہ دنیا کی پہلی ماحول دوست ٹرین ہے ۔یہ ٹر ین 60 میل کا سفر بآسانی طے کر سکتی ہے ۔ماہرین کی جانب سے اس کو ’’ہائیڈریل ٹر ین ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔یہ ٹرین بھی عام ٹر ینوں کی طرح ہی کام کرتی ہے ،تا ہم اسے ماحول دوست بنانے کے لیے اس میں ایسا سسٹم نصب کیا گیا ہے جو ہائیڈ روجن اور آکسیجن کو ملا کر بجلی پید ا کرتا ہے اور اسی بجلی سے ٹر ین کو چلاتا ہے ۔ہائیڈرل ٹرین میں ہائیڈروجن سے بھرا ہوا ایک ٹینک 300 مسافروں کے ساتھ 500 میل تک کے سفر کے لیے کافی ہوگا۔کمپنی نے اس ہائیڈروجن ٹرین کو ماحول دوست ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم سنگ میل قرار دیا ہے ۔کمپنی کے سی ای او کے مطابق ابھی صرف چند ٹرینیں تجربابے کے لیے چلائی گئی ہیں ۔مزید ٹر ینیں 2021 ء تک تیار ہو جائیں گی ۔

دل کی مرمت کرنے والا اسپرے

2018 ء میں ماہرین نے نینو ذرات پر مشتمل ایک ایسا اسپرے تیار کیا ہے ،جو پھیپھڑوں سے ہوتا ہوا دل تک جاتا ہے۔ جہاں نینو ذرات اپنی دوا خارج کرکے دل کو پہنچنے والی نقصان کاازالہ کرتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق اسپرے میں گہرا سانس لینے سے دل کی مرمت ہوجاتی ہے ۔اس میں شامل نینو پارٹیکلز اتنے چھوٹے ہیں کہ وہ پھیپھڑوں کے اندر خانوں میں جذب ہوکر خون میں شامل ہوجاتے ہیں۔بعدازاں خون پورے جسم میں گردش کرتا ہے اور ذرات دل میں جاکر اندر دوا خارج کرتے ہیں ۔ماہرین نے اس دوا کو پہلے ان چوہوں پر آزمایا ،جن کے دل میں خود سے وہ گڑ بڑ پیدا کی گئی تھی جو ہارٹ اٹیک کے بعد رونما ہوتی ہے ۔یہ کام اٹلی کی یونیورسٹی آف پر ما کے ماہرین نے پروفیسر مائیکل میراگلی کی نگرانی میں انجام دیا ہے ۔ماہرین نے نینوذرات کیلشیئم فاسفیٹ سے بنائے تھے اورنینو ذرات میں اسے بھرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ وہ دل کی سطح پر موجود خلیات (سیل) میں دورے کے بعد تباہ ہونے والے کیلشیئم کی مرمت کرسکیں۔ یہ چینل ایک طرح سے دل کو بجلی دینے کا کام کرتے ہیں، تاکہ وہ نارمل انداز میں کام کرسکے۔

2018 ء میں متعارف ہونے والے متعدد روبوٹس

2018 میں سائنس دانوں نےلوگوں کے کاموں کو آسان کرنے کے لیےمتعدد قسم کے رو بوٹس تیار کیے جن میں سے چند کا ذکرذیل میں کیا جارہاہے ۔جنوبی کوریامیں واقع یونسانی یونیورسٹی اور کوریا ایڈوانس انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈٹیکنالوجی کے ماہرین نے ایک ایسا روبوٹ ڈیزائن کیا ہے جو آپ کو دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کے لیے مجبور کرتا ہے ۔ ماہرین کی طر ف سے اس کانام ’’فرائبو‘‘ رکھا گیا ہے۔علاوہ ازیں یہ آپ کے اُٹھنے ،بیٹھنے ،دروازہ کھولنے اور دیگر حرکات کا جائزہ بھی لیتا ہے۔اسی طر ح پیکنگ کرنے اور سامان اٹھانے والاچھوٹا روبوٹ تیار کیا گیا ہے۔ یہ روبوٹ بازو کھول اور بند کر سکتا ہے ،سامان اُٹھا سکتا ہے اور اپنےبازو ئوں سے بہت سے ارتعاش پیدا کرسکتا ہے۔یہ روبوٹ 15 ملی میٹر لمبا اتنا ہی چوڑا اور 20 ملی میٹر اونچا ہے ۔جب کہ یہ 7 مکعب ملی میٹر علاقے میں اپنا کام کر سکتا ہے ۔ماہرین کے مطابق اس کے جوڑ بہت لچک دار ہیں اور یہ 5 مائیکرون تک درستگی سے کا م کر سکتا ہے ۔علاوہ ازیں امریکا میں فرم نامی کمپنی نے ایک ایسا روبوٹ متعارف کر وایا جو بچوں پر بڑوں کی طر ح نظر رکھتا ہے ۔ماہرین نے اسے ’’بڈی ‘‘ کا نام دیا ہے ۔ اس کی ایل سی ڈی پر آنکھیں لگائی گئی ہیں ۔اس میں آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کے آپشن بھی موجود ہیں ۔اس کے ساتھ سائنسدانوں نے دھوپ روبوٹ تیار کیا جو گھر کے کونے کونے کو روشن کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے ۔اسے ’’کائیاں ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ دیکھنے میںایک ڈش اینٹینےکی طر ح لگتا ہے ۔جب اسے دھوپ ملتی ہے تواس کا ریفلیکٹر اسے گھر کے اندر مطلوبہ جگہ پر بھیجتا ہے اور گھر کاوہ حصہ سور ج کی قدرتی روشنی میں روشن ہوجا تا ہے ۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے چلانے کے لیے کسی بجلی اور چارجنگ کی ضرورت نہیں ،کیوں یہ خود سورج سے توانائی لیتا رہتا ہے ۔اسے کسی بھی کھمبے ،دیوار ،بالکونی اور دیگر اشیا ء پر نصب کیا جاسکتا ہے ۔کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور زیورخ کے سائنسی ادارے ای ٹی ایچ کے انجینئرزنے ایک روبوٹ تیار کیا ،جس میں نہ کوئی موٹر ہے اور نہ ہی بیٹری ہے بلکہ یہ صرف درجہ حرارت میں تبدیلی سے اپنی صورت بدلتے ہوئے آگے بڑھتا ہے ۔ماہرین کے مطابق اسےایک نئی ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا ہے ۔یہ نئی تخلیق حرارت سے حساس پولیمر سے وجود میں آئی ہے ۔جب یہ عام حالت میں ہوتا ہے تو مڑا ہوتا ہے لیکن گرمی پاتے ہی سیدھا ہو جا تا ہے ۔علاوہ ازیں سائنس دانوں نے مرجانی چٹانوں (کورال ِریف )کو بچانے کے لیے ایک خاص قسم کا روبوٹ تیار کیا ہے ۔اسےآسٹریلیا کی گریٹ بیرئیر ِریف میں آزمایا گیا ہے ۔ماہرین نے اسے ’’ٹر منیٹر روبوٹ ‘‘ کا نام دیا ہے۔ایک تار کے ذریعے کنٹرول ہونے والا ٹر منیٹر روبوٹ مر جانی چٹانوں پر رینگتی ہوئی اسٹار فش کو 99 فی صد تک درست شناخت کرتا ہے ۔بعدازاں اسٹار فش میں نمک بھرا محلول داخل کرتا ہے ،جس سے مچھلی 48 گھنٹوں میں مرجاتی ہے ۔ماہرین کے مطابق ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد روبوٹ 8 گھنٹے تک بآسانی پانی کے اندر کام کرتا ہے ،جو انسانی استعداد سے بھی تین گنا زیادہ ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں