آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 14؍ربیع الاوّل 1441ھ 12؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بیرونی سرمایہ کاری میں ریکارڈ کمی

نئی حکومت کی تمام تر مساعی جلیلہ، پُرخلوص تگ و دو، دوست ممالک سے گراں قدر امداد کے حصول میں کامیابیوں اور حکومتی حلقوں کی نیک خواہشات، بلند و بانگ دعوئوں اور خوش فہمیوں کے باوجود تلخ حقیقت یہی ہے کہ ملکی معیشت کے بحالی کی راہ پر گامزن ہونے میں ابھی بہت وقت چاہئے اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اگر کوئی ابہام تھا تو وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ششماہی رپورٹ نے بڑی حد تک دور کر دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے پہلے 6ماہ میں بیرونی سرمایہ کاری میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ذمہ داران حکومت اور رہنمایانِ قوم کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ گزشتہ 6ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 77فیصد کمی واقع ہوئی۔ اسٹاک مارکیٹ سے پونے تین ارب ڈالر نکل گئے جبکہ مجموعی طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری 3ارب ڈالر تک کم ہوئی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 2018-19کی پہلی ششماہی میں یعنی یکم جولائی سے 31دسمبر تک غیر ملکی سرمایہ کاری میں غیر معمولی کمی آئی۔ جولائی تا دسمبر 2018صرف 90کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 3ارب 95کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔ دسمبر 2018میں صرف 23کروڑ ڈالر کاروبار میں لگائے گئے۔ اسی مہینے اسٹاک مارکیٹ سے 8.92کروڑ ڈالر کا انخلا ہوا، اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل مندی کا

رجحان رہا۔ ہنگامی نوعیت کے کسی واقعے کے سبب اگر اس میں بہتری آئی بھی تو وہ عارضی ثابت ہوئی۔ بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ہنڈرڈ انڈیکس میں 342پوائنٹس کی کمی ہوئی جس کے نتیجے میں انڈیکس 39272تک گر گیا۔ اس کی وجہ 23جنوری کو پیش کئے جانے والے منی بجٹ کے پس منظر میں سرمایہ کاروں کا تذبذب اور ہچکچاہٹ بتائی جاتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سیمنٹ، کھاد، تیل اور گیس کی تلاش اور بعض دوسرے شعبوں سے 3.53ملین ڈالر نکال لئے، تاہم مقامی سرمایہ کاروں نے اس سے کسی قدر زیادہ رقم یعنی 3.57ملین ڈالر کاروبار میں لگائے۔ معاشی ماہرین اور مبصرین نے سرمایہ کاری میں کمی کے اس رجحان کو ملک میں جاری سیاسی کشاکش کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل بھی سیاسی حالات بے یقینی اور افراتفری کا شکار تھے۔ انتخابات اسی ماحول میں ہوئے اور نئی حکومت قائم ہونے کے بعد استحکام آنے کے بجائے ان میں مزید بگاڑ پیدا ہوا۔ احتساب کا عمل پہلے سے جاری تھا جس کا کریڈٹ نئے حکمرانوں نے اپنے کھاتے میں ڈالا جس پر اپوزیشن میں پہلے سے موجود بے چینی اور مزاحمت مزید بڑھ گئی۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے لفظی جنگ نے اس پر جلتی کا کام کیا اور معاملہ پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچتا دکھائی دینے لگا۔ سیاسی بے یقینی اور محاذ آرائی کے اس ماحول میں سرمایہ کار خاص طور پر غیر ملکی انویسٹرز تذبذب کا شکار ہو کر سرمایہ لگانے سے ہاتھ روک لیتے ہیں۔ حکومت نے اپنے تئیں بعض اچھے اقدامات کئے مگر ان کے مطلوبہ نتائج دیکھنے کو نہیں ملے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے برآمدات میں اضافے کی جو توقع تھی، وہ پوری نہیں ہوئی۔ الٹا ملکی قرضوں میں اضافہ ہو گیا اور مہنگائی کو پَر لگ گئے۔ وزیر منصوبہ بندی و ترقیات کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ سالہ پلان کے تحت ترقی کی شرح نمو 7فیصد ہو جائے گی، یہ دعویٰ پچھلی حکومت نے بھی کیا تھا مگر کامیاب نہ ہو سکی۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ 5سال میں ایک کروڑ بیروزگار افراد کو نوکریاں دینے کا جو وعدہ کیا گیا تھا، شرح نمو کے تناظر میں اس پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ اسی دوران دسمبر میں بجلی کی پیداوار میں کمی ریکارڈ ہوئی جس کا اثر عام صارفین کے علاوہ صنعت اور زراعت کی ترقی پر بھی پڑ رہا ہے، ان حالات میں حکومت کو ملک میں سیاسی استحکام پر توجہ دینا ہو گی جو اس کے اپنے استحکام کیلئے بھی ضروری ہے۔ اپوزیشن کو بھی ایسے حالات پیدا کرنے سے گریز کرنا ہو گا جس سے سرمایہ کاری اور اس کے نتیجے میں ملکی معیشت کو نقصان پہنچے اور عوام کی زندگی بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہو جائے۔

ادارتی صفحہ سے مزید