آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
روزن آشنائی … تنویرزمان خان، لندن
بہت عرصے سے خواہش تھی کہ ایسے ملک کی سیر کروں جس کی آبادی بہت کم ہو۔ اتفاقیہ میری بیٹی نے کچھ عرصہ سے کہہ رکھا تھا کہ وہ اس دفعہ اپنی سالگرہ کا کیک اپنی فیملی کے ہمراہ آئس لینڈ میں کاٹے گی۔ اس لیے میں نے بھی آئس لینڈ کی سیر کا پروگرام بنالیا۔ آئس لینڈ انتہائی دلچسپ ملک ہے۔ جس کی آبادی چار لاکھ نفوس سے بھی تھوڑی ہے، جبکہ رقبہ سائوتھ ایسٹ انگلینڈ سے بھی ذرا کم ہے۔ ہم لوگ جو لاکھوں کے جلسے، جلوس اور ملین مارچ دیکھتے رہتے ہیں، وہاں پورے ملک میں پھیلی اتنی مختصر آبادی کس طرح رہتی ہے۔ میری دلچسپی اسی بات میں تھی۔ آئس لینڈ نام سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ جزیرہ برف سے ڈھکا ہوا ہوگا لیکن ہمہ وقت ایسا نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح اس کے پڑوس میں گرین لینڈ ہے، جو نام سے سرسبز و شاداب جزیرہ لگتا ہے۔ حالانکہ وہ ہر وقت برف کے نیچے دبا رہتا ہے۔ آئس لینڈ سیکنڈے نیویا کا ایک ملک ہے، جس میں موسم سرما میں برف اور درجہ حرارت منفی20سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ آج کل ناروے کی طرح دن صرف چند گھنٹے ہی میسر ہوتا ہے۔ تقریباً20گھنٹے اندھیرا رہتا ہے۔ اسی طرح موسم گرما میں درجہ حرارت تو10درجے سینٹی گریڈ تک ہی جاتا ہے۔ البتہ دن ہے کہ مہینوں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ آئس لینڈ کے بارے میں کہا جاتا

ہے کہ یہ دنیا کا منفرد ملک ہے جسے آباد ہوئے صرف بارہ سو سال ہوئے ہیں۔ تاہم ارضیائی ماہرین کا خیال ہے کہ اس جزیرے کی عمر یا اسے سطح سمندر سے اوپر ابھرے16ملین سال ہوئے ہیں۔ تاریخ میں ذکر ہے کہ آئس لینڈ کا شہر رک وک جوکہ آئس لینڈ کا دارالحکومت بھی ہے اور غالباً واحد اور بڑا شہر گردانا جاتا ہے، جس میں874ء میں پہلا شخص آباد ہوا۔ ابتدائی آبادکاروں میں ناروے کے لارڈز شامل تھے جوکہ ناروے کے ظالم بادشاہ کے مظالم سے راہ فرار حاصل کرکے آئس لینڈ پہنچے تھے۔جب اس آبادی کی تعداد اسی زمانے میں صرف974افراد تک پہنچی تو اس وقت وہاں پہلی پارلیمنٹ وجود میں آئی۔ جسے جمہوری ادوار میں قدیم ترین پارلیمنٹ کہا جاتا ہے۔ 874ء سے قبل آئس لینڈ پر کوئی انسانی زندگی نہیں تھی لیکن آج اس کی ترقی اور انفرا اسٹرکچر کو دیکھیں تو یہ یورپ کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں۔ یہ آتش فشانوں کے شدید عمل اور ردعمل سے پیدا شدہ ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں ابھرنے والا جزیرہ ہے۔ اس پر بسنے والے لوگCelandicزبان بولتے ہیں۔ جسے یوں تو تاریخی لحاظ سے جرمن زبان کی برانچ ہی کہا جاتا ہے جس طرح ڈینش، سویڈش، نارویجین وغیرہ بھی یہی ماخذ رکھتی ہیں۔ تاہم آئس لینڈ کے سب ہی لوگ انگریزی باآسانی سمجھ اور بول سکتے ہیں۔ مقامی آبادی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ پچھلے ایک ہزار سال میں یہاں کسی مذہبی مشنری نے یلغار نہیں کی، البتہ اب حالیہ چند دہائیوں میں یورپ اور پولینڈ سے تیس، چالیس ہزار لوگوں کی نقل مکانی سے تھوڑا مذہب بھی وہاں پہنچ گیا ہے اور کہیں کہیں چرچ نظر آنے لگے ہیں، لیکن آئس لینڈ کی انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی آبادی شعور اور علم میں حیران کن حد تک آگے ہے اور آبادی کا دس فیصد حصہ کسی نہ کسی شکل میں مصنف یا ادیب اور کہانی نویس یا شاعر ہے۔ اس کے بڑے شہر رک وک کی آبادی صرف ایک لاکھ بیس ہزار ہے، جبکہ آپ جب جہاز سے لینڈ کررہے ہوتے ہیں تو شہر ایک بڑا روشنیوں کا شہر دکھائی دیتا ہے۔ شہر میں بھی گھوم پھر رہے ہوں تو لگتا ہے کہ یہ کوئی تین، چار ملین لوگوں کا شہر ضرور ہوگا۔ دراصل یہاں بجلی انتہائی سستی اور بہت استعمال کی جاتی ہے۔ ہر گلی اور سڑک پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر روشنی کے لیمپ پوسٹ موجود ہیں۔ عمارتوں میں بھی کھلی روشنی کا استعمال نظر آتا ہے۔ دراصل یہ شہر ہوٹلوں سے بھرا پڑا ہے اور سال کے زیادہ حصے میں آبادی سے زیادہ سیاح موجود ہوتے ہیں۔ یہاں ابتدائی طور پر ناروے کے لوگ آباد ہوئے تو جو پارلیمنٹ کی عمارت وجود میں آئی وہ نشانی کے طور پر آج بھی موجود ہے جس پر پرانی تاریخ درج ہے۔ پھر یہ ڈنمارک کی بادشاہت کے زیر اثر چلا گیا۔ جس نے اسے1904ء میں آزاد کردیا۔ تاہم1918ء میں آئس لینڈ میں برٹش فوجوں نے آئس لینڈ پر قبضہ کرلیا۔ ان کی ایئر پورٹ سے لے کر شہر میں کئی عمارتوں پر اس تاریخ کے حصے درج ہیں۔ امریکیوں نے برطانویوں سے نجات دلائی۔ وہاں1915ء میں پہلی دفعہ خواتین کو ووٹ کا حق ملا، اس تاریخی پس منظر کے ساتھ ساتھ آئس لینڈ میں بہت سی ارضیائی انفرادیت پائی جاتی ہے۔ وہاں جگہ جگہ آتش فشانی عمل اور لاوا کی عام نشانیاں ملتی ہیں۔ کئی علاقوں میں ہر وقت بھاپ اٹھتی رہتی ہے اور کئی جگہوں سے صدیوں سے کیٹل کی طرح ابلتا ہوا پانی خارج ہورہا ہے، جو اپنے ساتھ بیش بہا معدنی اجزا لے کر چلتا ہے۔ اس گرم پانی نے اردگرد برف سے ڈھکی زمین میں گرین ہائوسز کو سرسبز کر رکھا ہے اور کئی علاقے جہاں اوپر کا درجہ حرارت تو بہت ٹھنڈا ہے، لیکن زمین کے اندر کی آتش فشانی حرارت نے زمینوں کو قابل کاشت بنادیا ہے۔ کئی جگہوں پر اوپر بھاپ نکل رہی ہوتی ہے اور قریب جاکر عجیب منظر ملتا ہے کہ زمین کے اندر سے ابلتے پانی کی گھڑگھڑاہٹ حیران کردیتی ہے۔ کئی جگہوں پر گرم پانیوں کے تالاب سو، سو فٹ بلند پانی کے اچھالے مارتے ہیں۔ یہ مناظر دیکھنے کے لیے ہر وقت سیکڑوں سیاح وہاں موجود رہتے ہیں اور اچھلتے پانی کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے کے منظر رہتے ہیں۔ (جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں