آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍جماد ی الثانی 1440ھ 17؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دریائے کنہار کے سکون بخش کناروں پر آباد بالاکوٹ شہر کا رہائشی 15 سالہ بچہ سید انوش حیدر 20 دسمبر سے لاپتہ ہے، مقامی پولیس 40 دن سے بچے کا کھوج لگانے میں ناکام رہی ہے۔

بچے کے والد اور پاک فوج کے ریٹائرڈ سپاہی مسکین شاہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مدد کی درخواست کی ہے۔

دلکش وادی کاغان کے دروازے بالاکوٹ کے دلفریب پہاڑوں میں آباد گاؤں کنٹرونچھ کا رہائشی 15 سالہ لڑکا انوش حیدر 20 دسمبر بروز جمعرات گھر سے نکلا پر آج تک لوٹ کر گھر نہیں آیا۔

ساتویں جماعت کے اس طالب علم کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا، خیبر پختون کی پولیس یہ پتہ لگانے میں گزشتہ 40 دنوں سے ناکام رہی ہے۔

بالاکوٹ پولیس نے 15 سالہ سید انوش حیدر کی گمشدگی کی ابتدائی رپورٹ تو درج کی لیکن باقاعدہ ایف آئی آر ٹھیک ایک ماہ بعد 19 جنوری کو درج کی گئی۔

پولیس کے مطابق معاملے کے حوالے سے ٹیکنیکل برانچ ایبٹ آباد سے مدد طلب کی گئی ہے، کچھ مشکوک افراد سے پوچھ گچھ بھی کی گئی ہے لیکن ابھی تک کوئی خاص کامیابی نہیں مل سکی۔

انوش کے والد اور پاک فوج کے ریٹائرڈ سپاہی سید مسکین شاہ کا کہنا ہے مقامی و متعلقہ پولیس اب تک کچھ ڈیٹا جمع کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

بیٹے کی تلاش میں پریشان و سرگردان 47 سالہ مسکین شاہ کا کہنا ہے کہ بچے کے پاس جو موبائل تھا، اس میں بقول پولیس دو مزید سمز استعمال کی گئیں، جن کے مکمل کوائف میسر نہیں اور جو اب بند ہیں۔

ان گنت الجھنوں اور پریشانیوں میں گھرے مسکین شاہ کو سمجھ نہیں آتا کہ اپنے لخت جگر کو کہاں ڈھونڈے، کس سے اس کا پتہ پوچھے، نئے پاکستان میں کس سے مدد مانگے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں