آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کو بھارت کس طرح تسلط قائم کیے ہوئے اس بات کا اندازہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ سری نگر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ جہاں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مقبوضہ کشمیر آمد کیخلاف مکمل ہڑتال تھی ،اورکشمیری عوام نے سیاہ جھنڈوں سے مودی کا استقبال کیا ،بھارتی وزیراعظم کی آمد پر مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ، مظاہرے روکنے لیے فوج کی بھاری نفری تعینات ، جگہ جگہ ناکے اور تلاشی کی کارروائیاں ، بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، حریت قیادت نظر بند جبکہ سیکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔مقبوضہ کشمیر جو مکمل طور پر سراپا احتجاج تھا ، بھارت کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی یہ پیغام دیا گیا تھا کہ کشمیری عوام حق خود ارادیت کی جدوجہد کو ہر قیمت پر اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں یہ صورتحال نئی نہیں ہے البتہ اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے موقع پر اس میں غیرمعمولی شدت ضرور آئی ہے۔

تقسیم ہند کے وقت وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا تھا کہ تقسیم ہند میں کسی ریاست کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی۔ اگر کسی ریاست کی بھارت یا پاکستان میں شمولیت پر تنازعہ پیدا ہوا تو وہاں کے عوام سے رائے لی جائے گی ۔ جو فیصلہ عوام کریں گے وہی قابل قبول ہوگا۔ لہٰذا ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں کہا گیا کہ برٹش گورنمنٹ کی خواہش ہے کہ ریاست سے ’’دہشت گردوں ‘‘کے انخلا کے بعد حالات معمول پر آنے پر عوام کی رائے عامہ لی جائے گی او ر اس کی بنیاد پر الحاق کا فیصلہ ہوگا۔ سات دھائیوں کےبعد بھی کشمیریوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے نہیں دیا گیا۔ کیا یہ برٹش گورنمنٹ کا فرض نہیں بنتا تھا کہ اپنے ہی وضع کردہ قانون کوریاست جموں و کشمیر میں لاگو کرے جبکہ تقسیم ہند کے وقت برطانوی وائسرائے ہی بھارت کا حکمران تھا۔

کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھنے کیلئے 1947 میں آزادی ہند کے وقت مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکمرانوں نے ناپاک گٹھ جوڑ کر لیا اور بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اسکے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ تاہم کشمیریوں کی بھر پور جدو جہد کے نتیجے میں جب کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا تو بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھایا۔ اقوام متحدہ نے تنارعہ کشمیر کے حل کے لئے دو قراردادیں منظور کیں۔ جن میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا بلکہ یہ طے ہوا کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے رائے شماری کا موقع فراہم کیا جائیگا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے یہ وعدہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے فراہم کریں گے لیکن اس کے بعد بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کو نہ صرف حق خود ارادیت دینے سے انکار کر دیا بلکہ یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔حالانکہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ساری ریاست کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ کشمیری لیڈروں کا بھارتی حکومت کے ساتھ جائز مطالبہ ہے کہ وہ 1947 میں اپنے لیڈروں کی طرف سے کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں