آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی کنسلٹنٹ فرم ’’ہینڈلے اینڈ پارٹنرز‘‘ پاسپورٹ اور سفری سہولتوں کے حوالے سے ہر سال اپنی رپورٹ شائع کرتا ہے جو انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) سے حاصل شدہ ڈیٹا پر مشتمل ہوتی ہے۔ رپورٹ میں مختلف ممالک کے پاسپورٹ کی درجہ بندی پاسپورٹ کی طاقت کا معیار بغیر ویزا انٹری یا ویزا آن آرائیول کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ہینڈلے پاسپورٹ انڈیکس نے اپنی حالیہ سالانہ رپورٹ میں پاکستانی پاسپورٹ کا شمار دنیا کے پانچ بدترین (Worst) پاسپورٹ میں کیا ہے اور پاکستانی پاسپورٹ رینکنگ میں 102ویں نمبر پر آیا ہے جس سے نیچے دنیا کے صرف 4 ممالک صومالیہ، شام، افغانستان اور عراق ہیں۔

فہرست میں پاکستان کو آخری درجے یعنی افغانستان سے محض ایک درجہ اوپر اور بنگلہ دیش سے بھی نیچے صومالیہ کے ساتھ کھڑا دیکھ کر انتہائی افسوس ہوا جبکہ یمن جیسا جنگ زدہ ملک بھی پاکستان سے ایک درجہ اوپر ہے جس کے شہری 37 ممالک کا سفر ویزا فری یا ویزا آن آرائیول کرسکتے ہیں جبکہ پاکستان کے شہریوں کو صرف 33 ممالک کے ویزا فری یا ویزا آن آرائیول کی سفری سہولت حاصل ہے۔ فہرست میں 95 ویں نمبر پر سری لنکا کے شہری 39 ممالک اور 97 نمبر پر بنگلہ دیش کے شہری دنیا کے 41 ممالک کا ویزا فری یا ویزا آن آرائیول سفر کرسکتے ہیں جبکہ بھارت 79 ویں نمبر پر ہے جس کے شہری 59 ممالک کا ویزا آن آرائیول سفر کرسکتے ہیں۔ ہینڈلے پاسپورٹ رینکنگ میں رواں سال جاپان پہلے نمبر پر رہا جس کے شہری 190 ممالک کا بغیر ویزا یا ویزا آن آرائیول سفر کرسکتے ہیں۔ اسی طرح سنگاپور اور جنوبی کوریا بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں جس کے شہری 189 ممالک جبکہ امریکہ اور برطانیہ پانچویں اور چھٹے نمبر پر ہیں جن کے شہری 185 ممالک کا سفر ویزا فری یا ویزا آن آرائیول کرسکتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1970ء کے بعد امریکہ نے پاکستانیوں کی امریکہ آمد پر ویزا دینے کی پالیسی ختم کردی تھی تاہم پاکستانی شہری بیشتر یورپی ممالک کا سفر بغیر ویزا کرسکتے تھے مگر 1983ء میں افغان جنگ کے بعد برطانیہ اور یورپ کے بیشتر ممالک نے یہ سہولت واپس لے لی جبکہ ان ممالک کی تقلید میں دوسرے ممالک نے بھی یکے بعد دیگرے پاکستانی شہریوں پر ویزے کی پابندی عائد کردی جس میں روز بروز سختی آتی جارہی ہے اور اب یہ سہولت محدود ہوکر صرف دنیا کے پسماندہ ترین 33 ممالک جن میں اکثریت افریقی ممالک کی ہے، تک رہ گئی ہے۔ 1984ء میں ضیاء الحق دور حکومت میں اسلام کے نام پر پاسپورٹ میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں اور پاسپورٹ کے کور پیج پر درج ’’پاکستان پاسپورٹ‘‘ کی جگہ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ درج کیا گیا جبکہ اندرونی صفحات میں ایک سیکشن کا اضافہ کیا گیا جس میں پاسپورٹ کے حامل شخص کو اپنا مذہب بھی درج کرنا ہوتا تھا۔

پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان سوویت، افغان جنگ کے دوران پہنچا جب پاکستان میں پناہ لینے والے لاکھوں افغان پناہ گزینوں نے رشوت کے عوض پاکستانی پاسپورٹس اور شناختی کارڈز حاصل کئے۔ اسی طرح پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں جن میں بنگلہ دیشی اور برمی باشندے بھی شامل ہیں، نے یہی طرز عمل اختیار کیا جنہیں غیر قانونی طور پر بیرون ملک جاتے ہوئے جب پکڑا گیا تو وہ پاکستانی تصور کئے گئے جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستانی پاسپورٹ کی بدنامی بھی ہوئی جبکہ رہی سہی کسر غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں نے نکال دی جن کے بیرون ملک پکڑے جانے پر پاکستانی پاسپورٹ کی مزید تضحیک ہوئی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی بیورو کریسی نے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے کئی ممالک جن میں مراکش، ترکی، فلپائن اور سری لنکا وغیرہ شامل ہیں، کی حکومتوں سے ایسے معاہدے کررکھے ہیں جن کی رو سے اعلیٰ سرکاری حکام کو جاری کئے گئے آفیشل بلیو پاسپورٹ اور سفارتکاروں کو جاری کئے گئے ڈپلومیٹک ریڈ پاسپورٹ ان ممالک کے ویزوں کی پابندی سے مستثنیٰ ہیں اور وہ ایسے 32 ترقی یافتہ ممالک کا سفر بھی بغیر ویزا کرسکتے ہیں جہاں گرین پاسپورٹ پر اجازت نہیں۔

پاسپورٹس رینکنگ میں گرین پاسپورٹ کی تنزلی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم قائداعظم کا فرمان بھلا کر اپنی عزت، مرتبہ اور پاسپورٹ کا مقام گنوا بیٹھے ہیں۔ گزشتہ دنوں حکومت نے دنیا کے 50 ممالک کو آن آرائیول جبکہ 175 ممالک کو ای ویزا سہولت دینے کا اعلان کیا اور اب ان ممالک کے شہری پاکستان پہنچ کر ایئرپورٹ پر ویزا حاصل کرسکیں گے۔ عام طور پر ویزے کی سہولت دو ممالک کے درمیان Reciprocal تصور کی جاتی ہے۔ زیادہ اچھا ہے کہ حکومت پاکستان بھی ان ممالک سے درخواست کرے کہ وہ ہمارے شہریوں کو بھی یہ سہولتیں فراہم کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے الیکشن سے قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آنے کے بعد پاکستانی پاسپورٹ کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے سالوں میں پاکستانی پاسپورٹ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرتا ہے یا پاسپورٹ رینکنگ کی اس عالمی فہرست میں مزید تنزلی کا شکار ہوتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں