آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ14؍ شعبان المعظم 1440 ھ20؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گفتگو: محمد ہمایوں ظفر

عکاسی: اسرائیل انصاری

پاکستان کے مقبول ترین، صفِ اوّل کے ٹی وی چینل ’’جیو نیوز‘‘ کے نیوز اینکر پرسن، مبشّر ہاشمی اپنی منفرد آواز و آہنگ اور بہترین اسلوب کے سبب جانے پہچانے جاتے ہیں۔ خبر بننے سے خبر نشر ہونے کے دوران ایک نیوز اینکر کو کن کن ذمّے داریوں کو نبھانا پڑتا ہے۔ خبروں کی ناظرین تک رسائی، خبر کی ادائیگی، حسّاسیت سے لے کر سیاسی گرم بازاری، کھیل وتفریح،فن و ثقافت اور غم و خوشی کی خبروں کے لیے مخصوص لب و لہجہ اپنانے تک ایک نیوز کاسٹر کن مراحل سے گزرتا ہے، ان سب باتوں، مزید برآں، ان کی نجی و عوامی زندگی سے متعلق جاننے کے لیے ہم نے ان سے ایک تفصیلی ملاقات کی، جو ہمارے مقبولِ عام سلسلے ’’کہی اَن کہی‘‘ کی صورت ’’جنگ، سنڈے میگزین‘‘ کے قارئین کی نذر ہے۔

جیو ٹیم کا حصہ بننا دیرینہ خواب تھا، نیوز اینکر، مبشر ہاشمی کی باتیں
نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے

س: خاندان، ابتدائی تعلیم و تربیت کے متعلق کچھ بتائیں؟ والد کیا کرتے تھے، بھائی بہنوں کی تعداد؟

ج: بنیادی طور پر تو میرا تعلق لاہور سے ہے، لیکن میں مدینہ منورہ، سعودی عرب میں پیدا ہوا۔ میرے والدین اب بھی وہیں مقیم ہیں۔ دراصل، جب شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دَور میں مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی ؐ کی توسیع کے کام کا آغاز ہوا، تو بڑی تعداد میں وہاں جانے والے ہنرمندوں اور مزدوروں کو کام کے دوران کسی بھی حادثے کی صورت میں بروقت طبّی امداد پہنچانےکے لیے متعدد ڈاکٹرز بھی تعینات کیے گئے۔ پاکستان سے میرے والد، ڈاکٹر خالد عباس کا تقرربھی تب ہی ہوا۔ وہ گزشتہ 35برس سے وہیں خدمات انجام دے رہے ہیں، تو اس طرح میرے والد بھی اس توسیعی مرحلے کا حصّہ رہے۔ میری پوری اسکولنگ مدینے کی ہے، ایف ایس سی بھی وہیں سے کیا۔ اب بھی ماہِ رمضان المبارک اور ربیع الاوّل میں مدینے ضرور جاتا ہوں۔ ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ بڑی بہن، طاہرہ ہاشمی مدینے کے مقامی اسکول میں وائس پرنسپل ہیں، ان کے بعد بھائی طاہر ہاشمی ہیں،جو دبئی میں چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں،ان سے چھوٹی بہن فاطمہ ہاشمی ڈاکٹر ہیں اور ان کے بعد سب سے چھوٹا میں ہوں۔ میں نے بیکن ہائوس نیشنل یونی ورسٹی سے فلم اینڈ ٹی وی میں ماسٹرز کیا۔ بچپن میں اچھا طالب علم تھا، تاہم کھیلوں کی طرف رجحان زیادہ تھا۔ ابتدا ہی سے غیر نصابی سرگرمیوں میں آگے آگے رہتا، خصوصاً تقاریر کے مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتا تھا۔

س: تاریخِ پیدائش کیا ہے، اور کیا سال گرہ مناتے ہیں؟

ج: میری تاریخ پیدایش 10ستمبر 1989ء ہے، اس لحاظ سے اسٹارسنبلہ (Virgo) ہے۔ بچپن میں گھر والے سال گرہ بھرپور طریقے سے مناتے تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب اہتمام میں کمی آگئی ہے۔

س: آپ کا بچپن مدینہ منورہ میں گزرا، تو کچھ اس حوالے سے بتائیے؟

ج: ہم سب بھائی بہن اس معاملے میں بڑے خوش قسمت ہیں کہ ہمارا بچپن مسجد نبوی ؐ کے صحن میں ہنستے کھیلتے گزرا۔ گھر والے گزشتہ تیس برس سے ہر سال باقاعدگی سے بابِ جبرائیل ؑپر دسترخوان سجاتے ہیں۔ ہمارا زیادہ تر وقت حرم میں گزرتا۔ کوئی بھی پلان کرنا ہوتا، تو ہم حرم ہی میں جاتے، وہیں مسجد نبوی ؐ کے باہر جاکر بیٹھ جاتے، دوست وغیرہ بھی وہیں اکٹھے ہوتے تھے۔ دراصل والدین کی بچپن ہی سے ہدایت تھی کہ کچھ بھی ہو، آپ کی نسبت مدینہ منورہ سے جڑی رہنی چاہیے،لہٰذا ہم سب بھائی بہنوں نے ہمیشہ اخلاقی اقدارکا پاس رکھا، کبھی الٹے سیدھے چکّروں میں نہیں پڑے، ہمیشہ عرب معاشرے کے زرّیں اصولوں پر کاربند رہے۔

س: بچپن کے کوئی دوست ہیں، جن سے اب بھی دوستی ہو؟

ج: مدینےکے بہت سے دوست ہیں، جن سے اب بھی رابطے میں ہوں ۔خصوصاً آج کل کے سوشل میڈیا کے دَورمیں واٹس ایپ، فیس بُک کی وجہ سے دوستوں سے میلوں دُور ہونے کے باوجود رابطہ ہو ہی جاتا ہے۔اور قریبی دوستوں میں ساجد اور صنعان سے اب بھی دوستی کا رشتہ قائم ہے۔

س: ’’جیو‘‘ ٹی وی میں آمد کیسے ہوئی؟

ج: ’’جیو‘‘ کے آغاز ہی سے مجھے اس چینل سے ایک خاص اُنسیت و محبت ہوگئی تھی اوراُسی وقت سے میرا ایک خواب تھا، ایک خواہش دل میں جاگزیں تھی کہ کسی طرح میں بھی اس چینل کا حصّہ بن جائوں اور پھر اللہ تعالیٰ نے میری اس خواہش کی تکمیل 2017ء میں کردی۔ قبل ازیں، دورانِ تعلیم میں نے ایک نجی چینل جوائن کیا اور وہاں تقریباً ڈیڑھ برس رہا۔ اس کے بعد دو ڈھائی برس دو دیگر چینلز سے تجربہ حاصل کرنے کے بعد بالآخر ’’جیو ٹیم ‘‘کا ممبر بننے کا خواب پورا ہوا۔

س: ’’جیونیوز‘‘ جوائن کیا، تو شروع میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

ج: ’’جیو ‘‘میں مجھے کبھی کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ جیو ٹیم کا رکن بنا۔ واقعی جیو نمبروَن ادارہ ہے، یہاں جو پروفیشنل ازم، سینئرز کا جونیئرز سے خلوص و محبت کا برتائو ہے، وہ میں نے کہیں اور نہیں دیکھا۔ یہاں باہمی تعاون کا ایک خوب صورت ماحول ہے اور سب سے اچھی بات یہ کہ یہاں ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔

س: پہلی بار جب کیمرے کا سامنا ہوا، تو احساسات و جذبات کیا تھے؟

ج: کیمرے کا سامنا کرنے سے قبل ذہن میں بہت کچھ تھا کہ یہ کردوں گا، وہ کردوں گا، لیکن پہلی بار کیمرا دیکھتے ہی گھبرا گیا، مگر پھر آہستہ آہستہ ڈر ختم ہوتا چلا گیا۔ اُن ہی دنوں کی بات ہے، میرے ساتھ ایک چینل پر نیوز اینکر، عائشہ خالد آن ائر تھیں، جو بعد میں ’’جیو نیوز‘‘ کا حصّہ بھی بنیں۔ تو ہم جب نیوز آن ائر کرنے لگے، تو میں نے کہا ’’السلام علیکم، مَیں ہوں، مبشّر خالد۔‘‘ میرا جملہ ختم ہوتے ہی عائشہ نے کہا ’’اور مَیں ہوں، عائشہ خالد۔‘‘ اُسی وقت کنٹرولر صاحب اندر آئے اور کہا کہ ’’اس طرح تو مسئلہ ہوجائے گا، تم دونوں تو بہن بھائی لگ رہے ہو۔‘‘ پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ ’’آپ اپنا فیملی نام یا کاسٹ، نام کے ساتھ لگالیں۔‘‘ جس کے بعد سے میں نے اپنی کاسٹ ’’ہاشمی‘‘ کا لاحقہ اپنالیا۔

س: ریکارڈنگ کے دوران کس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

ج: اب ریکارڈنگ نہیں ہوتی، سب کچھ لائیو ہوتا ہے۔ ’’جیو‘‘ میں آنے سے قبل جن چینلز میں تھا، وہاں کچھ ریکارڈڈ بھی ہوتا تھا، لیکن میرے خیال میں تو اس میںغلطیاں زیادہ ہوتی ہیں، کیوں کہ ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ یہ چیز دوبارہ بھی ہوسکتی ہے، لیکن براہِ راست نشریات کے دوران ذہنی طور پر الرٹ رہنا پڑتا ہے۔ فوری آنے والی خبروں کی فوری اپ ڈیٹ لینی ہوتی ہے۔

س: آپ کے خیال میں ایک اینکر میں کیا کیا خوبیاں ہونی چاہئیں؟

ج: اینکرنگ کا شعبہ ایک مکمل پیکیج ہے، جس میں ڈگری بہت اہمیت رکھتی ہے۔ پھر غیرمعمولی ذہانت، زبان و بیان پر عبوراور خوش شکل ہونے کے علاوہ حاضر دماغ ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

س: زندگی کی پہلی کمائی، کب اور کتنی تھی؟ پیسا خرچ کرتے وقت سوچتے ہیں؟

ج: پہلی تن خواہ پندرہ ہزار روپے ملی تھی، جو مَیں نے اسی طرح امّاں کے ہاتھ میں پکڑادی تھی۔ پیسا مَیں بہت سوچ سمجھ کر خرچ کرتا ہوں، کوشش رہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچت کروں۔

س: کبھی کسی اور شعبے میں جانے کا موقع ملے، تو کون سا شعبہ اختیار کریں گے؟

ج: مجھے نیوز اینکرنگ سے عشق ہے، کچھ بھی کروں گا، اسی فیلڈ میں کروں گا۔ ویسے میں رپورٹنگ بھی کرتا رہا ہوں۔

س: خود کو پانچ برس بعد کہاں دیکھتے ہیں؟

ج: مَیں پانچ برس کے بجائے پانچ دن یا پانچ ہفتے کی پلاننگ کرتا ہوں۔ویسے آئندہ پانچ سال بعد شاید آپ مجھے کوئی پروگرام کرتا ہوا دیکھیں۔

س: کس نیوز اینکر/صحافی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں؟

ج: حامد میر اور شاہ زیب خان زادہ اس وقت پاکستان کے بہترین اینکر پرسنزہیں۔ان سے بہت متاثر ہوں اور ان کے پروگرامز ضرور دیکھتا ہوں۔

س: بہ ظاہر ناظرین کو ایک نیوز اینکر کی زندگی بہت پُرکشش دکھائی دیتی ہے، کیا حقیقتاً بھی ایسا ہی ہے؟

ج: نیوز اینکر کو چوں کہ ایک شو پیس کی مانند دیکھا جاتا ہے، تو عام خیال ہے کہ شاید ہم ہر وقت اسی طرح ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے، ہم بھی عام انسانوں کی طرح بالکل نارمل زندگی گزارتے ہیں۔

س: کبھی ڈراموں،فلموں میں کام کی آفر ہوئی،اگرہوئی، تو قبول کرلیں گے؟

ج: میں نے چوں کہ فلم اینڈ ٹی وی میں ماسٹرز کیا ہے، تو میرا تعلق ایکٹنگ کے شعبے سے بھی رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر نہیں، لیکن شارٹ فلمز وغیرہ کرتا رہا ہوں، ویسے مجھے ایکٹنگ کا بہت شوق ہے۔جہاں تک فلموں میں کام کی بات ہے، تواگر آفر ہوئی، توضرور کروں گا۔

س: کوئی ایسی شخصیت، جس سے مل کر اچھا لگتا ہو، یا پھر کوئی ایسا فرد، جس سے ملنے کی خواہش ہو؟

ج: پہلی بار جب مَیں عبدالسّتار ایدھی صاحب سے ملا، تو بہت خوشی ہوئی تھی، میں نے انتہائی عقیدت سے ان کے ہاتھ کا بوسہ لیا تھا۔ پاکستان میں تو بہت سی شخصیات سے ملاقات ہوتی رہتی ہے، ویسے شاہ رخ خان سے ملنے کی تمنّا ہے۔

س: اخبارباقاعدگی سے پڑھتے ہیں اور اخبار کا کون سا حصّہ زیادہ شوق سےپڑھتے ہیں ؟

ج: اخبار نہیں بلکہ کئی اخبارات باقاعدگی سے پڑھتا ہوں اور کوشش ہوتی ہے کہ پورا اخبار پڑھوں۔ خاص طور پر کالمز، اداریے وغیرہ ضرور پڑھتا ہوں۔

س: زندگی کا کون سا دَور سب سے اچھا لگتا ہے؟

ج: مجھے اپنا 2008ء سے 2011ء کا وہ دَوربہت اچھا لگتا ہے، جب میں پاکستان آیا تھا اوراسکین کالج( SKANS )کالج، لاہور میں اے سی سی اے اکاؤنٹنگ میں ایڈمیشن لیا تھا۔ سعودی عرب سے ایک دَم پاکستان شفٹ ہونا اور پاکستان کے نئے دوست اور نئے گروپ سے متعارف ہونا، بہت اچھا لگاتھا۔ اصل میں ہم سب بھائی، بہن شفٹوں میں پاکستان منتقل ہوئے، البتہ والدین مدینے ہی میں رہے۔ تو اُس دَور میں جو دوست بنے، وہ سب یادیں، باتیں آج بھی دہرانا بہت اچھا لگتا ہے۔ اُس دَور کے سنے ہوئے گانے تک یاد ہیں۔

س: عشق و محبت کا زندگی میں کس حد تک دخل ہے، خود کبھی عشق کیا؟

ج: میرا خیال ہے دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا، جس نے عشق نہ کیا ہو۔ سبھی عشق کرتے ہیں اور میرے خیال میں جو عشق مل نہ سکے، وہی کام یاب عشق ہے۔

س: کون سی فلم ہے، جو آپ نے کئی بار دیکھی، لیکن آج بھی دیکھنا اچھا لگتا ہے؟

ج: فلم’’ کل ہو نہ ہو‘‘ اور ’’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘‘ بہت پسند ہیں۔ کئی بار دیکھ چکا ہوں۔

س: زندگی میں کسی اور ملک جا بسنے کا موقع ملے تو کہاں رہنا پسند کریں گے؟

ج: مدینے ہی میں رہنا پسند کروں گا، کیوں کہ وہاں سے ایک روحانی عقیدت اور تعلق کی ساتھ ساتھ بچپن کی بہت سی خوش گوار یادیں بھی وابستہ ہیں۔ مجھے تواب بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’بہ ظاہر لوٹ آیا ہوں، مگر واپس نہیں آیا.....مدینے ہی میں ہوں اب بھی، مَیں گھر واپس نہیں آیا۔‘‘

س: شادی کا ارادہ کب تک ہے؟

ج: شادی جتنی دیر سے اور سوچ سمجھ کر ہو، اچھی رہتی ہے۔ویسے یہ نصیب کی بات ہے کہ جوڑے توآسمانوں پر بنتے ہیں۔ والدین کی بھرپور کوشش ہے اور وہ زور بھی دے رہے ہیں، لیکن فی الحال شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

س: کھانا پکانے میں دل چسپی ہے یا صرف کھانے میں؟

ج: کھانا کھانے میں۔ مجھے بھنڈی اور آلوقیمہ پسند ہے، اس کے علاوہ بھی جو مل جائے، صبر شُکر کرکے کھالیتا ہوں۔

س: کتب/شاعری سے کس حد تک شغف ہے، کس مصنف یا شاعر کو پڑھنا پسند کرتے ہیں؟

ج: میں جون ایلیا کی شاعری سے بہت متاثر ہوں۔ میرے والد بھی ایک اچھے شاعر ہیں، اُن کی نعتیہ شاعری کی چار کتابیں شایع ہوچکی ہیں۔ اُن کا ایک بہت مشہور شعر ہے کہ؎ ’’لب جب تک وضو نہیں کرتے، ہم تری گفتگو نہیں کرتے..... ان کو ہرگز خدا نہیں ملتا، جو تری جستجو نہیں کرتے۔‘‘

س: کس بات پر غصّہ آتا ہے، اور آئے تو ردِعمل کیا ہوتا ہے؟

ج: میں بڑا مجلسی بندہ ہوں، جہاں بیٹھتا ہوں، توجّہ کا مرکز ہوتا ہوں، بڑا شرارتی سا انسان ہوں، ہنسی مذاق، موج مستی کرتارہتا ہوں، لیکن جب غصّہ آتا ہے، تو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، بس،اس موقعے پر درود شریف کا ورد کرلیتا ہوں۔

س: شہرت نے آپ کی شخصیت پر کیا اثرات مرتب کیے؟

ج: میرے والدین نے ہمیشہ یہ تلقین کی ہے کہ ہر کسی سے جُھک کر ملو، تومجھ پر شہرت کا کچھ خاص اثر نہیں ہوا۔ ویسے بھی میں تو ابھی سیکھنے کے مراحل میں ہوں، شہرت اور نام وَری تو بہت دُور کی بات ہے۔

س: پریشانی سے نکلنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟

ج: اگر کبھی اس طرح کی صورتِ حال پیدا ہوجائے، تو مخلص دوستوں یا فیملی ممبر سے ڈسکس کرلیتا ہوں۔ ویسے میرے نزدیک کوئی پریشانی ایسی نہیں کہ جس کا کوئی حل نہ ہو۔

س: والدین کی محبت کو کس طرح بیان کریں گے، خصوصاً ماں کی محبت کو؟

ج: اگر زندگی میں کچھ کرنا ہے، آگے بڑھنا ہے، تو والدین کی عزت و احترام، اُن سے پیار اور اُن کی خدمت کرکے ہی کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے، ماں باپ کو خوش کرنے سے ہر منزل آسان ہوجاتی ہے، اورمیری تو آج بھی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ماں کے پائوں ضرور دبائوں، اُن کے قدم ضرور چوموں۔

س: آپ کا کوئی راز؟

ج: راز تو صیغہ راز ہی میں رہے، تو اچھا ہے۔

س: اگرموبائل فون کو زندگی سے نکال دیا جائے تو؟

ج: آج موبائل فون زندگی کا انتہائی اہم حصّہ بن چکا ہے۔ اس حیرت انگیز ایجاد میں ہر چیز سماگئی ہے۔ اب یہ صرف فون کالز کی حد تک نہیں،گھڑی،کیلکولیٹر، ای میلز، میسجز، تصویریں کھینچنے، اَپ لوڈ کرنے سے لے کر موسیقی تک ہر کچھ اسی میںموجود ہے۔ موبائل فون کا چارج ختم ہوجائے، تو ایسا لگتا ہے کہ زندگی بے جان سی ہوگئی ہے۔

س: موسیقی کا شوق کس حد تک ہے؟

ج: مجھے گلوکار، سجاد علی بہت پسند ہیں، مَیں سمجھتا ہوں کہ اس وقت پاکستان میں سجاد علی سے بڑا سنگر کوئی نہیں۔ اس کے علاوہ علی سیٹھی اور نیّرہ نور کے صاحب زادے، جعفر زیدی بھی پسند ہیں۔

س: ای میلز چیک کرتے ہیں، میسجز کے جواب دیتے ہیں؟

ج: کوشش ہوتی ہے کہ سب کو ریپلائی کروں، بہت سے میسجز میں کام کی تعریف یا تنقید ہوتی ہے، تو میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جواب ضرور دوں۔

س: شاپنگ کس کے ساتھ کرنا پسند کرتے ہیں، خریداری کرتے وقت بھاؤ تاؤ کرتے ہیں؟

ج: عموماً دوستوں کے ساتھ شاپنگ کرتا ہوں۔ بھاؤ تاؤ بھی خوب کرتا ہوں۔

س: کون سے کھیل، کھلاڑی اچھے لگتے ہیں؟

ج: کرکٹ بہت پسند ہے، کرکٹ کھیلتا بھی ہوں۔ شعیب اختر میرے پسندیدہ کرکٹر ہیں۔

س: اپنی شخصیت کو کس طرح بیان کریں گے؟

ج: میں بڑا فن لَونگ اور حسّاس انسان ہوں۔

س: فارغ اوقات کے کیا مشاغل ہیں؟

ج: فارغ اوقات میں اپنے ڈھابے ’’چائے ہوجائے‘‘ میں بیٹھتا ہوں۔

س: کوئی دعا، جو ہمیشہ لبوں پر رہتی ہے؟

ج: اللہ میرے ماں باپ کو سلامت رکھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں