آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات15؍ جمادی الثانی 1440ھ 21؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیند کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ جب انسان کے نیند کے اوقاتِ کار درست ہوتے ہیں تو انسان کی کارکردگی مؤثر، بروقت اور نتیجہ خیز رہتی ہے لیکن جب نیند کے مسائل درپیش ہوں تو انسان جسمانی اور جذباتی دباؤ محسوس کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند کی کمی انسان کو صحت کے کئی خطرات سے دوچار کرنے کا باعث بنتی ہے، جس میں مختلف بیماریاں اور مزاج میں عدم ٹھہراؤ وغیرہ شامل ہیں۔

کینسر کے خطرات

امریکا کی نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کے مطابق نیند کی کمی کے نتیجے میں انسان کو کینسر جیسے موذی مرض، خصوصاً خواتین میں بریسٹ کینسر اور مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ جان ہاپکنز میڈیسن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کے مطابق انسان کی نیند کو اس کا ’بائیولاجیکل کلاک‘ کنٹرول کرتا ہے۔ یہ بائیولاجیکل کلاک نیندکے علاوہ دیگر ہزاروں کام بھی انجام دیتا ہے۔ جب اس کلاک میں خلل پڑجائے تو انسانی جسم غیرمعمولی انداز میں ردِ عمل دِکھاتا ہے، جس کے نتیجے میں کینسر کے خطرات پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ خصوصاً ان لوگوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے،جو وقتاً فوقتاً مختلف شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ راتوں میں جو لوگ کئی برسوں تک بجلی پر چلنے والی روشنی کے نیچے کام کرتے ہیں، ان میں میلاٹونن(Melatonin)کی سطح کم ہوجاتی ہے، جو کینسر کی وجہ بنتا ہے۔

سوزش اور دل کی بیماریاں

نیند کی کمی کے نتیجے میں سوزش اور دل کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، یہ بات ثابت شدہ ہے۔ اس سلسلے میں حال ہی میں ایک نئی تحقیق میں بھی کہا گیا ہے کہ نیند کی کمی دل کی بیماریوں کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کُلی یا جُزوی طور پر نیند کی کمی کے نتیجے میں CRP Concentrationsکی حساسیت کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق نیند کی کمی سوزش کے عمل کو تیز کردیتی ہے۔

یادداشت کا متاثر ہونا

تحقیق کے مطابق نیند کی کمی کے باعث بالغ افراد کی قلیل مدتی یادداشت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ تحقیق میں دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ مناسب مقدار میں نیند لیتے ہیں، ان کے مقابلے میں نیند کی کمی کے شکار افراد کو سیکھے گئے الفاظ یاد کرنے میں زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں۔ صرف قلیل مدتی ہی نہیں، نیند کی کمی طویل مدتی یادداشت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جرنل آف دی امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق جن افراد کی نیند متاثر ہوتی ہے، ایسے پختہ عمر افراد کی ذہنی صلاحیتیں متاثر ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق الزائمر کے مرض میں مبتلا بڑی عمر کے افراد مناسب اور گہری نیند نہیں لے پاتے، جو ان کی صحت کو مزید گھمبیر بنادیتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق، نیند کا ہماری ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ براہِ راست تعلق ہوتا ہے۔

وزن بڑھنے کا خدشہ

نیند کی کمی موٹاپے کا شکار بھی بناتی ہے۔ جو لوگ کم سوتے ہیں ان کی بھوک بڑھ جاتی ہے۔ نا مناسب نیند جسم میں لیپٹن نامی ہارمون کی مقدار کم کر دیتی ہے اور گریلین نا می ہارمون کی مقدار بڑھا دیتی ہے، جو جسم کی خوراک کی طلب میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ وزن بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، لہٰذا نیند کی کمی موٹاپے کا باعث بنتی ہے اور وزن میں اضافہ کرتی ہے ۔ شام کے اوقات میں چاکلیٹ اور کافی جیسی اشیاکھانے پینے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

مدافعتی نظام کا متاثر ہونا

یہ بات کئی لوگوں کو شاید ناقابلِ یقین محسوس ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ صرف ایک رات کی بُری نیند آپ کے مدافعتی نظام کو متاثر کرسکتی ہے اور نتیجتاً آپ انفیکشن سے زیادہ آسانی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ سردیوں میں اچھی نیند لینے والے افراد کے مقابلے میں، نیند کی کمی کے شکار افراد کو سردی لگنے کے امکانات تین گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اچھی نیند کے ذریعے اپنے مدافعتی نظام کو مضبوط اور صحت مند رکھیں۔

جِلد کی صحت پر اثرات

جو خواتین اپنی جِلد کی صحت، چمک او ر قبل از وقت جھریوں کے بارے میں فکرمند رہتی ہیں، یہ خبر ان کے لیے ایک ’ویک اَپ کال‘ ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جو لوگ مسلسل نیند کے مسائل کا شکار رہتے ہیں ان کی جِلد تیزی سے بوڑھی ہونے لگتی ہے اور وہ اس بات سے مطمئن نہیں ہوتے کہ وہ کس طرح دِکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیند انسانی جِلد کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ سن اسکرین، سیرم یا موئسچرائزر۔

دماغی صحت متاثر ہونا

نیند کی کمی کے صرف جسمانی صحت پر ہی منفی اثرات نہیں پڑتے بلکہ یہ آپ کے مزاج اور دماغی صحت پر بھی بڑی حد تک اثرانداز ہوسکتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جو لوگ نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں وہ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں، ان کے مزاج میں چڑچڑاپن آجاتا ہے اور وہ خوشی بھی کم محسوس کرتے ہیں۔ اگر یہ صورت حال زیادہ عرصہ برقرار رہے تو انسان کو دماغی صحت کے مسائل لاحق ہوجاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ نیند کی کمی کے مسائل سے دوچار نہیں ہوتے، ان کے مقابلے میںبے خوابی (انسومنیا) کا شکار افراد میں ڈپریشن پیدا ہونے کا امکان دُگنا ہوجاتا ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں