آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کیا جمع شدہ ایڈوانس یا زرِ ضمانت پر زکوٰۃ بنتی ہے؟

تفہیم المسائل

(گزشتہ سے پیوستہ)

جمع شدہ ایڈوانس یا زرِ ضمانت پر زکوٰۃ نہیں ہے

واضح رہے کہ دو سو درہم چاندی کا موجودہ وزن 612.36گرام ہے اور 20دینار سونے کا موجودہ وزن 87.48گرام ہے۔ایک تولہ 11.664گرام کے برابر ہوتا ہے۔اگر مال مخلوط ہے یعنی کچھ سونا ، چاندی ،نقد رقم یا مالِ تجارت وغیرہ ،تو اس صورت میں وجوبِ زکوٰۃ کے لیے چاندی کا نصاب معتبر ہے ،سونے کا نہیں ،لیکن اگر مال صرف سونا ہے اور دیگر مُتفرق اموال میں سے کچھ بھی نہیں ہے ،تو پھر سونے کے نصاب کا اعتبار ہوگا ۔

آپ کے بیان کے مطابق آپ کے بھائی صاحبِ نصاب ہیں اور اُن پر زکوٰۃ کی ادائی لازم ہے ۔ ایڈوانس کی رقم پر زکوٰۃ نہیں ہے ،کیونکہ اس کی حیثیت رہن شدہ مال کی سی ہے کہ اس پر مالک کی ملکیت تو ہے ،لیکن قبضہ نہیں ہے اور نہ وہ اس پر تصرُّف کرسکتاہے ۔لہٰذا دکان میں جو ڈھائی لاکھ روپے مالیت کا مال ِ تجارت ہے ،اس پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر اس کے علاوہ کوئی نقد رقم یا چاندی /سونا وغیرہ ہے تو زکوٰۃ کی ادائی کے لیے اسے بھی مالیت میں جمع کرنا ہوگا ۔

اقراء سے مزید