آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستا ن میں نئی حکومت آچکی ہے لیکن مسائل پرانے ہیں، جس میں سب سے بڑا مسئلہ اقتصادیات کا ہے۔ اس کے حل کیلئےنئی حکومت آئی ایم ایف کے پا س جاتی ہے یا نہیں یا پھر کوئی نئی حکمت عملی اپناتی ہے، اس کا فیصلہ وقت کردے گا۔ تاہم یہ تاثر درست ہے کہ آئی ایم ایف سمیت دیگر مالیاتی ادارے سخت مالیاتی نظم و ضبط قائم کرنے اور اخراجات کم کرنے پر زور دیتے ہیں، جس سے بالعموم قرض لینے والے ممالک میں اقتصادی ترقی کی شرح (جی ڈی پی) کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور یوں بیروزگاری کی شرح میں اضافے جیسے منفی اثرات معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف کی تاریخ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ) ایک عالمی مالیاتی ادارہ ہے جو ملکی معیشتوں اور انکی باہمی کارکردگی بالخصوص زر مبادلہ اور بیرونی قرضہ جات پر نظررکھتا ہے جبکہ انکی معاشی فلاح اور مالی خسارے پر قابو پانے کے لیے قرضے اور تیکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے سونے کی زبردست قلت کی بنا پر دوران جنگ دنیا کے بیشتر ممالک کو 1880ءسے جاری باہمی کرنسیوں کے تبادلے کی شرح کو متعین کرنے والے گولڈ اسٹینڈرڈ کے نظام کو خیرباد کہنا پڑا۔

1930ء کے معاشی مسائل اور اس کے بعد دوسری جنگ عظیم نے یورپی ممالک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا۔ خصوصاً جنگ کے اخراجات کی وجہ سے ان کا ادائیگیوں کا توازن بہت بگڑ گیا۔ اس کے علاوہ برطانیہ نے جنگی اخراجات سے نمٹنے کے لیے خوب نوٹ چھاپے، جو اس اصول کے خلاف تھے کہ نوٹ چھاپنے میں اس بات کو مدِ نظر رکھا جائے کہ بینک آف انگلینڈ کے پاس سونے کے ذخائر کتنے ہیں۔ برطانوی پاؤنڈ پر دوسرے ممالک کا اعتماد کم ہو گیا۔ اُس وقت پاؤنڈ کو بین الاقوامی مالیاتی معاملات میں مرکزیت حاصل تھی، جو ختم ہو رہی تھی۔ بریٹن ووڈز کا معاہدہ، جو1945ء میں ہوا، اس کے مطابق ایک ایسے ادارے کی ضرورت تھی جو مندرجہ ذیل کام کرے۔

٭دنیا کے لیے ایک نیا اور پراعتماد مالیاتی نظام تشکیل دے۔

٭ان ممالک کی مدد کرے، جو توازنِ ادائیگی کے مسائل کا شکار ہیں۔

٭رکن ممالک کے زر مبادلہ کی شرح کا درست تعین کیا جائے اور اس کے لیے ایک نظام وضع کیا جائے۔

دنیا کے 29ممالک کے نمائندوں کی منظوری سے آئی ایم ایف کا ادارہ قائم کیا گیا۔ اس کا قیام ایک خود مختار ادارے کے طور پر عمل میں لایا گیا، جس کا الحاق اقوام متحدہ سے ہے۔ وہ تمام ممالک جو آرٹیکل آف ایگریمنٹ کے تحت اس کیلئے رقم فراہم کرتے ہیں، انہیں اسکی ممبر شپ آفر کی جاتی ہے۔ آج اس کے ممبر ممالک کی تعداد 183ہو چکی ہے۔ آئی ایم ایف میں ہر ممبر ملک کو اسکی قومی آمدنی اور بین الاقوامی تجارت میں شرح تناسب کی بنیاد پر ایک کوٹہ الاٹ کیا جاتا ہے اور ہر ممبر ملک اس کوٹے کا 75فیصد اپنی کرنسی میں ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے اور 25فیصد گولڈ کی صورت میں جمع کرایا جاتا ہے۔ تاہم 1967ءمیں آئی ایم ایف نے مختلف حکومتوں کے مابین قرضوں کے معاملات طے کرنے کے لیے SDRs (Special Drawing Rights)) متعارف کرائے۔ یہ گولڈ کے متبادل کے طور پر آئی ایم ایف کی متعارف کردہ گارنٹڈ کاغذی کرنسی ہے اور یہ گولڈ کے مساوی بین الاقوامی ریزرو کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔

آئی ایم ایف اور پاکستان

ترقی پذیر ممالک کی طرح ملکی معیشت کی بہتری کیلئے ماضی میں پاکستانی حکومت اور عوام کو بھی آئی ایم ایف کی کڑوی گولی اکثر کھانا پڑی ہے۔ آئی ایم ایف سے قر ض کے حصول کے لئے ہر حکومت کو باقاعدہ درخواست دینی پڑتی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے اقدام کی منظوری دی جاتی ہے۔خیال رہے کہ نئے منصوبے کے مطابق مائیکرو اکنامکس پالیسیوں کا اچھی طرح نفاذ کرنے والے ملک، جن کی معیشت اب عالمی بحران کا شکار ہے ،وہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے اہل تسلیم کئے جاتے ہیں۔اس بات کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ قرض کی ادائیگی کا ٹائم فریم بھی آئی ایم ایف ہی طے کرتی ہے۔قرض لینے والے ہر ملک کو آئی ایم ایف کی تمام شرائط تسلیم کرنا پڑتی ہیں۔ ان شرائط میں سود کی شرح میں اضافہ، قومی اداروں کی نجکاری، بین الاقوامی اور کثیر القومی کارپوریشنوں کے لیے زیادہ سے زیادہ آزادی ،سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکس نیٹ میں وسعت ،زرعی ٹیکس کے نفاذ اور حکومتی اخراجات میں کمی کے مطالبات نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آئی ایم ایف مقروض ممالک پر جو شرائط عائد کرتا ہے، وہ معاشی حالات کوسدھارنے کے بجائے بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ اس بگاڑ سے مقروض ممالک میںگمبھیر مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ کڑوا سچ تو یہ ہے کہ اکثر مالیاتی پالیسیاں آئی ایم ایف کے ایجنڈے کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود ملک کی معیشت اکثر و بیشتر دگر گوں رہتی ہے اور حکومت ان مسائل کو حل کرنے کی تگ ودو میں مزید مسائل میں گھرتے چلے جاتے ہیں۔ 

کامرس سے مزید