آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍رجب المرجب 1440ھ 18؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’جیمزبانڈ‘‘ دنیائے فلم کی سب سے طویل، مالی طور پر نہایت کامیاب فرنچرائز فلم سیریز

’’مائی نیم اِزبانڈ... جیمزبانڈ‘‘،ہالی وڈ کی بلاک بسٹر سیریز کے خفیہ ایجنٹ 007کایہ شہرہ آفاق مکالمہ گزشتہ سات دہائیوں سے زبان زد عام ہے،جس کے سحر نے کئی نسلوں کو جکڑ رکھاہے۔ ’’جیمز بانڈ‘‘،اس کردار کو 1953میں معروف ناول نگار ایان فلیمنگ نے تخلیق کیا ،انہوں نے بانڈ سیریز کے بارہ ناول لکھے ،1964میں ان کے انتقال کے بعد ایجنٹ جیمز بانڈ کے سلسلے کو مزید چھے ناول نگاروں نے آگے بڑھایا ۔اس دل چسپ اور پرسرار کردار پر اب تک کئی ٹیلی وژن ڈرامے اور فلمیں بنائی جاچکی ہیں۔جیمز بانڈ کا کردار کئی نام وراداکارادا کرچکے ہیں۔ایان فلیمنگ نے اپنے ناول میں جس جاسوس کا کردارتخلیق کیا تھا،وہ ایک سفید فام پرکشش اور وجیہہ مرد تھا،جو ایجنٹ 007کے نام سے شہرت پاتا ہے اور جسے کمانڈر رائل نیوی کا خطاب دیا جاتا ہے۔

جیمز بانڈ کے کردار کے ساتھ اس کے اسٹائل اور شخصیت کے لازمی حصے چشمہ،ہئیراسٹائل،ٹائی،کوٹ اور مخصوص پستول نے بھی کافی مقبولیت حاصل کی۔جیمز بانڈ کی شخصیت سے متاثر ہوکرمداحوں نے اس انداز کو اپنانے کی بھی کوشش کی اور یہی نہیں چوں کہ جیمز بانڈ کا کردار جاسوسی کرداروں میں ایسا سمبل بن چکا تھا کہ آج بھی دیگر بننے والی فلموں اور ڈراموں میں جاسوس کردار جیمز بانڈ کے گیٹ اپ سے متاثر نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے پچاس کی دہائی سے مختلف ناموں سے بننے والی معروف فکشن فلموںنے شہرت کی بلندی کی چھوا ۔ ہر خاص و عام میں مقبول یہ کردار اب ہر دل کی دھڑکن بن چکا ہے اور شاید یہ واحد کردار ہے جو فلم کا محتاج نہیں بلکہ فلمیں اس کردار کی محتاج ہیں ،چنانچہ اب تک دو درجن سے زائد ڈرامہ سیریز اور فلمیں اس کردار پربن چکی ہیں۔’’جیمز بانڈ‘‘ دنیائے فلم کی تاریخ کی سب سے طویل اور مالی طور پر نہایت کام یاب فرنچرائز فلم سیریز ہے، جسے امریکی نژاد برطانوی فلم ساز البرٹ بروکولی (کیوبی) ہنری سالزمین اور کیون میکلوری نے سنیما کے پردے پر ممکن بنایا تھا۔ میکلوری اپنے حقوق کے شیئرز لے کر علیحدہ ہوگئے تھے۔کیوبی بروکولی نے بانڈ سیریز فلموں کی ریلیز کے لیے فلم کمپنی اِی اَن پروڈکشنز قائم کی جو کہ میٹرو گولڈن مئیر اور کولمبیا پکچرز کے تعاون سے بانڈ فلموں کو ساری دنیا میں تقسیم کاری کرتے ہیں۔ بروکولی کی وفات کے بعد سے ان کی بیٹی بار برابروکولی اور سوتیلے بیٹے مائیکل جی ولسن نے اِی اَن پروڈکشنز کے بینر تلے بانڈ فلموں کو سنیما کی زینت بنائے رکھا ہے۔

سنیما کے پردے پر بانڈ کے کردار کو پیش کیا جاناہمیشہ چیلینجنگ رہا ہے۔ بانڈ کے قارئین اسے ویسا ہی دیکھنا چاہتے تھے جیسے کہ وہ ناول کی کہانیوں میں پایا جاتاہے۔ 1962 ء میں بانڈ سلسلے کی پہلی فلم ’’ڈاکٹرنو‘‘ کے لیے ایک غیرمعروف اداکار کو ٹیلنٹ ہنٹ کے ذریعے چنا گیا ، جو ایک عام بجٹ کی سادہ سی جاسوسی فلم تھی لیکن اداکار ’’شین کونری‘‘ نے اپنی شخصیت اور اداکاری کے ساتھ بانڈ کے کردار کو کچھ ایسا نبھایا کہ وہ ادبی دنیا کے بعد سنیما کی جیتی جاگتی حقیقت اور ایک مستقل ’علامت‘ بن گیا۔’ڈاکٹر نو‘ کی غیرمتوقع زبردست کام یابی نے اِی اَن پروڈکشنز کے لیے دولت کے دروازے کھول دیے اور اداکار کونری کو بہ حیثیت بانڈ، ساری دنیا میں شناسائی حاصل ہوئی۔فلم ’ڈاکٹر نو‘ میں شین کونری نے پہلے جیمز بانڈ کا کردار ادا کیا تھا اور جرمن نژاد سوئس اداکارہ اُرزلا اندریس اس فلم میں بطور ہنی رائڈر پہلی بانڈ گرل تھیں ۔ جیمز بانڈ فلموں میں ”بانڈ گرل“ بھی بہت اہم ہوتی ہے اور اس کا انتخاب بھی بہت سوچ بچار کے بعد کیا جاتا ہے ۔ بہت سی اداکاراؤں کے لئے بانڈ گرل بننا کسی اعزاز سے کم نہیں ۔

برطانوی خفیہ ایجنٹ جیمز بانڈ کے کردار کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے سے قبل شین کونری نے ہالی وڈ میں مختلف کردار ادا کیے۔ ان کی پہلی کامیابی 1958ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’Another Time, Another Place ‘ کو قرار دیا جاتا ہے۔تاہم فلم ’ڈاکٹر نو‘ کی کامیابی نے شین کونری کو ایک اسٹار بنا دیا۔جیمز بانڈ سیریز کی ان کی تیسری فلم ’ گولڈ فنگر‘ نے شائقین کی توقعات سے کہیں زیادہ کامیابی حاصل کی اور باکس آفس پر 125 ملین ڈالر کا کاروبار کیا۔’ گولڈ فنگر‘ میں ولن کا کردار جرمن فنکار گیرڈ فرو بےنے ادا کیا ۔ فلم کی کہانی سونے کے ذخائر کے گرد گھومتی ہے ۔ ولن امریکا کے سونے کے ذخائر ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ اُس سونے کی قیمت بڑھ جائے ، جو اس نے محفوظ کر رکھا ہے ۔ بانڈ سیریزمیںشین کونری کے علاوہ جارج لیزنبائی، سَر راجرمور، ٹموتھی ڈیلٹن اور پیئرس بروسنن اور ڈینئل کریگ اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ بانڈ سیریز کی 24 فلموں میں اب تک سب سے زیادہ بانڈ کا رول سات فلموں میں راجر مور نے نبھایا ہے ۔ دی اسپائی ہولو وڈمی 1977ءمیں ریلیز ہوئی ۔ اس فلم میں راجر مورجیمز بانڈ تھے ۔ کرٹ یوگنز نے اس فلم میں کارل اسٹروم برگ نامی ولن کا کردار ادا کیا تھا ۔1987ءمیں ریلیز ہونے والی فلم لِوئنگ ڈے لائٹس میں ٹمو تھی ڈالٹن جیمز بانڈ تھے ۔ اس میں جرمن اداکار اندریاس ووسنی ایوسکی ، نیکروس ، کے روپ میں ولن تھے ۔ 1995ءمیں جیمز بانڈ سیریز کی فلم گولڈن آئی میں سرد جنگ کے بعد کے زمانے کی منظر کشی کی گئی ہے ۔ اس فلم میں ایک روسی جنرل ہتھیاروں کا ایک ایسا نظام چوری کر لیتا ہے جس کے ذریعے اس کے پاس کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرانک نظام مفلوج کرنے کی صلاحیت آ جاتی ہے ،فلم میں پیئرس بروسنن جیمز بانڈ کے روپ میں دکھائی دئیے۔1997میں بانڈ سیریز کی فلم ’ٹومارو نیور ڈائیز‘ میں ایسا دور دکھایا گیا ہے ، جب تیسری عالمی جنگ شروع ہونے کے خطرات دنیا پر منڈلا رہے ہوتے ہیں اور یہ برطانوی ایجنٹ اس خطرے کو ٹالنے کی کوششوں میں مصروف ہوتا ہے ۔ اس میں جرمن اداکار گُوٹز اوٹو کو ایک خطرناک ولن قرار دیا گیا تھا ۔ آج کل ڈینئل کریگ جیمز بانڈ بنتے ہیں ۔ 2006میںکریگ کی پہلی فلم ’’کسینورائل‘‘ نے باکس آفس پر شان دار کام یابی حاصل کی ،جس کے بعد ڈینئل کریگ کو بین الاقوامی شہرت ملی اور وہ ہالی وڈ کے ’اول درجے‘کے اداکار بن گئے۔ کریگ دس سالوں میں بانڈ سیریز کی چار فلموں میں ایجنٹ 007کا کردار ادا کرچکے ہیں اور آخری دو فلموں میں وہ بطور معاون پروڈیوسر بھی تھے۔ جیمز بانڈ کی 24 ویں فلم ’اسپیکٹر‘ 2015 میں ریلیز کی گئی تھی، جب کہ اس سے پہلے 2012 میں اسی سیریز کی 23 ویں فلم ’اسکائی فال‘ ریلیز کی گئی تھی۔چار فلموں میں بانڈ کا کردار ادا کرنے کے بعد ڈینئل کریگ نے مزید کام کرنے سے معذرت کر لی تھی تاہم کچھ پس و پیش کے بعدوہ بانڈ 25کےایجنٹ 007 بننے پر رضا مند ہوگئے۔ بانڈ25 کےڈائریکٹر بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل ان فلموں کے ڈائریکٹر ڈینی بوئل ہوا کرتے تھے لیکن اب ڈائریکٹر کیری جوجی فنکانامہ جیمز بانڈ فرنچائز کے پہلے امریکی ہدایت کار ہوں گے۔ انہیں مقبولیت ایمی انعام یافتہ ٹیلی وژن سیزن ’’ ٹرو ڈیٹیکٹو‘‘ سے ملی۔ وہ اپنی فلم ’’بیسٹس ہف نو نیشن‘‘ کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔کیری جوجی فنکانامہ کی زیر صدارت بانڈ25 کی شوٹنگ کا سلسلہ مارچ میں شروع ہو گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں