آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت کی حکمراں سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت خصوصاً بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی انتہا پسندانہ سوچ نے اس خطے کو جنگ کی تباہ کاریوں کے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ بی جے پی کی قیادت یہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ اگر پاک بھارت جنگ ہوئی تو یہ صرف دو ملکوں کے درمیان جنگ نہیں رہے گی بلکہ عالمی جنگ کی صورت میں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس لئے جو قوتیں امن کی خواہش مند ہیں یا عالمی امن کے لئے کام کرتی رہتی ہیں، ان کے لئے یہ صورتحال ایک ایسا چیلنج ہے، جسے انتہائی مختصر ساعتوں کے لئے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

26فروری کو بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارحانہ کارروائی کی۔ یہ بھارتی جارحیت دراصل اعلانِ جنگ تھی۔ اگرچہ پاک فضائیہ نے دو بھارتی طیارے مار کر اس جنگ میں برتری حاصل کرلی اور بھارتی پائلٹ ابھینندن کی گرفتاری کے بعد اسے واپس بھارت کے حوالے کرکے اپنا یہ پیغام بھی دیدیا کہ پاکستان مقابلے کی بھرپور صلاحیت کے باوجود امن کا خواہش مند ہے لیکن جنگ کا خطرہ ٹلا نہیں ہے۔ بھارتی افواج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ بھارت کی تازہ جارحیت میں دو پاکستانی فوجی جوان اور دو شہری شہید ہو چکے ہیں۔

امن دوست قوتوں کے لئے انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ بی جے پی کی قیادت نے اپنے ملک میں جو جنگی جنون پیدا کیا، وہ بھارتی طیاروں کی جارحانہ پروازوں کے ساتھ بھارتی سرحدوں کو عبور کر چکا ہے۔ یہ فطری امر ہے کہ اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرے گا تو پاکستان کے لوگوں میں بھی غم و غصہ پیدا ہوگا اور اگر حملے بار بار ہوتے رہے تو یہ غم و غصہ جنگی جنون میں تبدیل ہو گا۔ دونوں طرف اگر جنگی جنون پیدا ہو گیا تو اس کے نتیجے میں وہ حالات پیدا ہو سکتے ہیں، جن کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ ایک بار شروع ہو گئی تو پھر اسے نہ تو وہ کنٹرول کر سکیں گے اور نہ ہی مودی۔

جو قوتیں اپنے مخصوص مفادات کے لئے جنگی جنون کو ہوا دے رہی ہوں، ان سے امن کی بات کرنا یا جنگ کی تباہ کاریوں کا احساس دلانا بہت حد تک مشکل کام ہے۔ اگر امن کی آواز پاکستان سے اٹھے گی تو اسے بھارت میں کوئی اور رنگ دیا جائے گا اور اسی طرح امن کی آواز اگر بھارت سے اٹھے گی تو اس کا پاکستان میں کوئی اور مقصد لیا جائے گا۔ اس کے باوجود ابھی تک حالات بے قابو نہیں ہوئے اور امید باقی ہے۔ دونوں طرف امن کی آوازیں بہت بلند ہیں اور انہیں مزید بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں طرف کی اکثریت آج بھی ساحر لدھیانوی کی طویل نظم ’’پرچھائیاں‘‘ کے ایک ایک لفظ کو واردات کی طرح اپنے وجود پر محسوس کرتی ہے۔ یہ نظم جنگ کے خلاف ایک ایسی تاریخی دستاویز ہے، جو انسانی روح کو زندہ رہنے کا حق دیتی ہے۔ جی ہاں! تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں۔ پُرامن ماحول میں خوبصورت زندگی کے تصورات۔ دونوں طرف سے یہ آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ ہمیں جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہے۔ ہمارا خون امانت ہے نسلِ نو کے لئے۔ دونوں طرف کی اکثریت کو فیض احمد فیضؔ کے ان الفاظ کا ادراک ہے۔

ہم نے مانا جنگ کڑی ہے

سر پھوٹیں گے، خون بہے گا

خون میں غم بھی بہہ جائیں گے

ہم نہ رہیں، غم بھی نہ رہے گا

خوش آئند بات یہ ہے کہ امن کی ان آوازوں میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی آواز بھی شامل ہے۔ اس کے باوجود خطرہ ٹلا نہیں ہے۔ بی جے پی کی قیادت اپنی روش بدلنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض عالمی طاقتیں بی جے پی کے اس پاگل پن کو اپنے عالمی ایجنڈے کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔ ممتاز برطانوی مؤرخ اور دانشور پال کینیڈی نے 1990ء کے عشرے کی ابتدامیں لکھی گئی اپنی کتاب ’’21 ویں صدی کیلئے تیاری‘‘ میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ 21ویں صدی چین اور بھارت سمیت ایشیا کی صدی ہو گی۔ انہوں نے بھارتی سماج کے جمہوری اور برداشت والے رویے کو بھارت کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا تھا اور یہ متنبہ بھی کیا تھا کہ اگر بھارت انتہا پسندی کا شکار ہوا تو اس کا 21ویں صدی کی عالمی طاقت بننے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ شاید کچھ عالمی طاقتوں نے اسی بات کا ادراک کر لیا ہے، جو مغرب کے بجائے مشرق میں طاقت منتقل ہونے پر خائف ہیں۔ مغربی میڈیا نے شاید اسی لئے نریندر مودی جیسے انتہاپسند شخص کو ’’عظیم لیڈر‘‘ بنانے میں شعوری طور پر کردار ادا کیا۔ مودی وہ شخص ہے کہ 21ویں صدی کو ایشیا کی صدی نہیں بننے دے گا۔ وہ سب سے زیادہ بھارت کو تباہ کرے گا۔ مشرق کی ابھرتی ہوئی طاقت سے خائف یہ مغربی طاقتیں پاکستان کو بھی قابو میں رکھنے کیلئے نریندرمودی کے جنگی جنون کی حمایت کر رہی ہیں اور پاکستان پر انتہا پسندوں کی حمایت کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ یہ مغربی طاقتیں چاہیں گی کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان مکمل اور بڑی جنگ نہ بھی ہو تو بھی محدود جنگ جاری رہنی چاہئے لیکن جنگ کو محدود رکھنا ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان اور بھارت کے مابین جو کچھ بھی ہوا، اگر اسے جنگ نہ بھی کہا جائے تو بھی دونوں طرف بہت بڑا نقصان ہو چکا ہے، جو انسانی جانوں کے نقصان کے علاوہ ہے۔ بقول ساحر لدھیانوی:

بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر

روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے

دونوں ملکوں میں جنگ کے خطرے کے پیش نظر فضائی حدود بند رہیں۔ فضائی آپریشن نہ ہونے سے دونوں ملکوں کی معیشت کو کروڑوں نہیں، اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔ یہ نقصان غربت اور فاقوں کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ ایک اور تشویشناک بات یہ ہے کہ امن کی بات اگرچہ ہر کوئی کر رہا ہے لیکن جنگ کو روکنے والی قوتیں نہ صرف کمزور بلکہ تقسیم ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی کے دوران اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) کے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے اجلاس سے افسوسناک صورت حال سامنے آئی ہے۔ نصف صدی میں یہ پہلا موقع ہے کہ تنظیم کے بانی رکن پاکستان کے وزیر خارجہ نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ بھارت تنظیم کا رکن نہیں ہے اور اسے اس اجلاس میں اس حقیقت کے باوجود مدعو کیا گیا کہ اس نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی اور وہ کشمیریوں پر مظالم کر رہا ہے۔ اجلاس سے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے خطاب بھی کیا اور پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ دہشت گردی کو پناہ دینے اور انہیں مالی امداد دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کو جنگ سے روکنے کیلئے مسلمان ملکوں کا سفارتی ڈیٹرنس (DETERRENCE) بھی نہیں رہا یا تقسیم اور کمزور ہو گیا ہے۔ امن کیلئے ان تمام تر ناموافق باتوں کے باوجود امن کیلئے آوازیں اور بلند ہونا چاہئیں۔ پاکستان جنگ کی نہیں بلکہ اپنی ڈیٹرنس کی پالیسی پر عمل پیرا رہے اور دونوں طرف سے امن کی آوازیں بلند کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ بی جے پی پر عوامی دبائو بڑھے۔ بی جے پی کی قیادت کا سیاسی مقاصد کیلئے پیدا کردہ جنگی جنون اگر امن پسند حلقوں کی کوششوں سے کم یا ختم ہو جائے تو جنگ کرانے کی خواہش مند عالمی طاقتوں کا ’’گریٹ گیم‘‘ بھی نہیں ہو سکے گا اور ان کی سازشیں بھی ناکام ہوں گی۔ ساحر لدھیانوی کی آواز میں یک زبان ہو کر یہ کہتے رہنا چاہئے۔

جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں

صرف میدانِ کشت و خوں ہی نہیں

جنگ وحشت سے، بربریت سے

جنگ مرگ آفریں سیاست سے

جنگ افلاس اور غلامی سے

جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف

امن، پُرامن زندگی کے لیے


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں