آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل15؍رمضان المبارک 1440ھ 21؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 چار مارچ کو بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے ایک بیان جاری کیا۔ وہ کہتے ہیں، مرنے والوں کی تعداد گننا ہمارا کام نہیں تھا۔ واضح رہے کہ بھارت کی فضائیہ کے سابق سربراہ پر ان کی ناکامی کا بڑا الزام لگا۔ بالاکوٹ پر ناکام حملے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بی ایس دھنوا کو نیا سربراہ بنایا۔ انہوں نے کمان سنبھالنے کے بعد کہا کہ بھارتی فضائیہ نے ہدف کو تو نشانہ بنایا مگر مرنے والوں کی تعداد سے انہیں کوئی سروکار نہ تھا اور نہ ہی لاشیں گننا فضائیہ کا کام تھا۔

انہوں نے اس الزام کو بھی دھونے کی کوشش کی کہ بھارتی طیارے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ بھارتی فضائیہ کے نئے ایئر چیف مارشل بریندر سنگھ دھنوا نے یہ بیان بھارتی حکومت کی جانب سے اس دعوے کے بعد دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بھارتی فضائیہ نے ہوائی کارروائی کر کے بالاکوٹ میں جیش محمد کے250سے زیادہ کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا۔بھارتی حکومت کے اس دعوے پر بڑی لے دے ہوئی تھی کیونکہ نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی اس دعوے کو مشکوک قرار دیا کیونکہ بھارت کوئی بھی تصویری شواہد پیش نہیں کر سکا تھا اس لئے بھارت کی سبکی ہو رہی تھی۔ اس دوران نئے سربراہ کا یہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مرنے والوں کی تعداد سے قطعی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ پھر پاکستان نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اس علاقے کا معائنہ کرا دیا جہاں بھارتی دعوے کے مطابق بم گرا کر دہشت گردوں کے کیمپ تباہ کئے گئے تھے۔

اب بھارتی فضائیہ کے نئے سربراہ بھی گول مول بیانات دے رہے ہیں۔ مثلاً ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے جنگل میں بم گرائے ہوتے تو پاکستان نے اس کا جواب نہیں دیا ہوتا۔ دوسری طرف اتنی سبکی کے بعد بھی بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ اپنے اس بیان کو دہراتے رہے کہ بھارتی فضائیہ نے ڈھائی سو سے زیادہ دہشت گرد مار دیئے ہیں۔

اب بھارتی میڈیا میں اس بات پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ مگ21طیارے کتنے استعمال کئے گئے اور میراج 2000 طیارے کتنے تھے۔ روسی ساخت کے مگ21طیارے پرانے ہو چکے ہیں ، ویسے بھی ان کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی ہے۔ نئے بھارتی چیف کہتے ہیں کہ، کارروائی میں استعمال ہونے والے طیارے جدید آلات سے مزین تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی کارروائی میں میراج طیارے استعمال ہوئے اور دوسری میں مگ21۔

اب اس کارروائی میں ناکامی کے بعد بھارتی فضائیہ کو موقع مل گیا ہے کہ وہ ایک بار پھر جدید نئے طیارے شامل کرنے کا مطالبہ کر کے بھارتی حکومت کو مجبور کرے کہ فرانس کے جدید ترین رافیل طیارے اور روس میں بنے ہوئے سخوئی طیارے بھی خرید کر بھارتی فضائیہ میں شامل کرے۔حالیہ پاک ،بھارت کشیدگی کے بعد سب سے بڑا فائدہ ان ممالک کا ہو گا جو ہتھیار فروخت کرتے ہیں۔ ایک بار پھر بھارت اور پاکستان دونوں جدید ترین ہتھیاروں ، طیاروں کی تلاش اور خریداری میں لگ جائیں گے ، نقصان عوام کا ہو گا ،کیونکہ اس طرح جو رقوم عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونی چاہئیں وہ تباہی و بربادی کے سامان خریدنے میں ضائع ہوتی رہیں گی۔ اسکول و کالج اور اسپتال کے بجائے گولہ بارود اور طیارے خریدے جائیں گے۔

دوسری طرف لائن آف کنٹرول پر حالات بدستور کشیدہ ہیں ، دونوں طرف کے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں کیونکہ گولہ باری سے سویلین آبادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ اسکول بند کئے جا چکے ہیں ۔ لوگ اپنے کام کاج بھی نہیں کر سکتے۔ دونوں اطراف کی سویلین آبادی میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جو سرحد کے قریب ہو اور جن کے گھر کا کوئی فرد اس کشیدگی سے متاثر نہ ہوا ہو۔ اس کے تدارک کے لئے سرحدی علاقوں میں بنکر تعمیر کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں مگر اس کے لئے ہزاروں بنکروں کی ضرورت ہو گی اور وہ صرف شدید صورتحال میں ہی کام آ سکتے ہیں کیونکہ روزمرہ کے کام تو بنکر میں بند ہو کر نہیں کئے جا سکتے، لوگوں کو اپنے ذریعہ معاش کے لئے گھروں سے باہر تو نکلنا ہی پڑے گا ، اس وقت وہ گولیوں کا شکار ہو جاتے ہیں، نہ ہی یہ بنکر کوئی مستقل حل پیش کر سکتے ہیں۔

ان تمام مسائل کے باوجود بھارتی وزیراعظم مودی کہتے ہیں کہ اگر بھارت کے پاس جنگی جہاز رافیل ہوتے تو وہ بہت بہتر نتائج دے سکتے تھے،ساتھ ہی انہوں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کی افواج پر شک کرنا بند کریں۔ اس طرح کے مطالبات وہ حکومتیں کرتی ہیں جن کی افواج مسلسل غلط بیانی کرتی ہے۔

بھارتی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اگر ملک کے سامنے چیلنج کھڑا ہو تو اپنے ملک کا مذاق نہ اڑانا چاہئے۔ دراصل مودی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ لوگ اپنے ملک کا مذاق نہیں اڑاتے بلکہ اس رویئے کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔مثلاً لڑنے کی سکت نہ ہو اور پھر بھڑکیں ماری جائیں۔ ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کی باتیں کی جائیں۔ ان باتوں سے عوام اب بے وقوف بننے پر تیار نہیں ہے۔ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اگر عام میڈیا پر پابندی لگائی جاتی ہے تو سوشل میڈیا کے ذریعے ویڈیو عام ہو جاتی ہیں جن سے غلط دعوئوں کی قلعی کھل جاتی ہےاس لئے عوام سے یہ توقع نہیں کرنی چاہئے کہ وہ جنگ پر خاموش رہیں گے۔بھارتی وزیراعظم مودی کا یہ دعویٰ ہے کہ ساری دنیا ان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے اور بھارت کی حمایت کر رہی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو حکومت اور فوج کے خلاف تنقید پر اعتراض کی کیا ضٗرورت ہے۔بھارت میں رافیل طیاروں کی خریداری پر حزب مخالف نے بہت شور مچایا تھا کہ اس میں کرپشن کی جا رہی ہے۔

اب خاص طور پر راہول گاندھی نے ہندوستانی پارلیمان میں بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور چوکیدار چور ہے کا نعرہ بلند کیا ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی حزب اختلاف کا کردار قابل تحسین ہے کہ اس نے حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کیا اور اس سلسلے میں بنیادی سوال اٹھائے ہیں۔ عام طور پر ہر حکومت یہ توقع کرتی ہے کہ جنگی صورتحال میں آنکھ بند کر کے سب حکومت کی حمایت کریں۔ یہ رویہ غلط ہے، اس سے جنگی جنون مزید بڑھتا ہے۔ اگر حکومت غلط دعوے کر رہی ہے تو یہ حزب مخالف کا کام اور ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کو جنگی جنون سے باز رکھے اور جنگ سے بچنے کا کہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں