آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

یہ مئی 2004ء کی بات جب امریکہ کے تین بڑے اخبارات نے اپنے اپنے انداز میں کھلے دل سے اعتراف کیا کہ وہ بش انتظامیہ کے ہاتھوں استعمال ہوئے ہیں۔ مجھے انتظار رہے گا کہ کب پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کے میڈیا خاص طور پر چینل کے مالکان ایسا ہی کچھ کریں گے کہ انہوں نے اپنے ناظرین کو گمراہ کیا اور حقائق سے دور رکھا۔

2004ء میں امریکی رائے عامہ کو یہ بتایا گیا کہ عراق کے پاس ’’مہلک کیمیائی‘‘ ہتھیار ہیں اور اسی کو بنیاد بنا کر اُس پر حملہ کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد مارے گئے۔ سابق صدر صدام حسین کی پھانسی کو چینلز پر ’’Live‘‘ دکھایا گیا۔ بعد میں ’’مہلک کیمیائی‘‘ ہتھیار والی ’’خبر‘‘ جھوٹی ثابت ہوئی۔ کم از کم اتنا تو ہوا کہ اخبارات کے مدیروں کی طرف سے معذرت سامنے آئی۔انتظار رہے گا کہ 300فدائین کی بالاکوٹ میں ہلاکت کی خبر پر کوئی معذرت سامنے آئے گی یا نہیں۔ بھارت میں تو آج جو سوال صحافی مودی سرکار سے پوچھ رہے ہیں انہیں یہ ہی سوالات اپنے میڈیا سے بھی پوچھنے چاہئیں کیونکہ وہ ایک ایسی جنگ کرانے جا رہا تھا جو اگر ہو جاتی تو لوگ ہیرو شیما و ناگا ساکی کو بھول جاتے۔ اس جنگی جنون میں پاکستانی میڈیا نے ذمہ داری کا ثبوت دیا۔

جنگ کے دوران ’’پہلی موت سچائی کی ہوتی ہے‘‘ مگر اُس دوران بھی ذرا سی احتیاط کے ساتھ جھوٹ سے بچا جا سکتا ہے۔ چند الفاظ مثلاً خبر سرکاری ذرائع سے، غیر جانبدار ذرائع، عینی شاہدین کے مطابق، مبینہ طور پر، فلاں نے الزام لگایا ہے، سے آپ اپنے آپ کو محفوظ کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے آنے سے جھوٹی، سچی سب خبریں آ رہی ہوتی ہیں مگر ہر خبر کی تصدیق ضروری ہوتی ہے۔

عراق کے واقعہ پر جس مدیر نے معافی مانگی اُس نے لکھا کہ ہم بڑے ’’Scoops‘‘ کی خاطر خبر کی سچائی یا جھوٹ کا فیصلہ ہی نہیں کر سکے۔ 9/11کے بعد دنیائے صحافت میں جھوٹی خبریں یا Fake Newsکا طوفان سا آ گیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب اکتوبر 2002ء میں امریکی اتحادی فوج نے افغانستان پر حملہ کیا تو غیر ملکی صحافیوں کی ایک فوج نے پاکستان کا رُخ کیا۔ اُنہیں کسی بھی مقامی طالبان یا انتہا پسند گروپ کی تلاش رہتی تھی۔ اس کے لئے وہ روزانہ کی بنیاد پر دو سو یا تین سو ڈالر دینے کو تیار رہتے۔ کچھ مقامی صحافیوں نے اس صورتحال سے غلط فائدہ بھی اٹھایا۔ پشاور اور کوئٹہ میں خاص طور پر اور کراچی میں بھی کچھ مقامی پشتون کو طالبان کہہ کر انٹرویو کروا دیئے گئے۔اسی طرح ’’Arab Spring‘‘ کے دوران بھی صحافت کے ساتھ کچھ ’’غیر صحافی‘‘ صحافیوں نے کام کر دکھایا۔

میں نے چونکہ اخبارات، غیر ملکی نیوز ایجنسی اور چینل میں کام کیا ہے، اس لئے مجھے اندازہ ہے کہ اخبارات کے مقابلے میں چینل اور نیوز ایجنسی پر کتنا دبائو ہوتا ہے۔ جس دن 9/11ہوا میں ایک غیر ملکی نیوز سروس کے اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ اچانک دفتر کے فیکس پر ’’لشکر طیبہ‘‘ کے لیٹر پیڈ پر یہ خبر آئی کہ یہ کام ان کے کچھ فدائین نے کیا ہے جن کے نام بھی دیئے گئے۔ ایک لمحہ کے لئے مجھے لگا کہ میرے پاس شاید اس وقت دنیا کی سب سے بڑی’’Breaking News‘‘ آ گئی ہے۔ نیوز ایجنسی یا چینل کے پاس صرف چند سیکنڈ یا منٹ ہوتا ہے خبر کی تصدیق کرنے کے لئے۔میں خبر لشکر کے دعوے یا پریس ریلیز کے حوالے سے دے سکتا تھا لیکن میں نے پہلے اس جماعت کے رہنما سے بات کرنے کی کوشش کی۔ پھر ترجمان سے رابطہ کیا۔ جب دونوں کے فون بند ملے تو میں نے اسلام آباد میں موجود اپنے ایڈیٹر جو کہ ایک غیر ملکی تھا، کو یہ خبر بتائی اور ساتھ میں خبر نہ دینے کی وجہ بھی۔ہمارے غیر ملکی ساتھی نے اسلام آباد سے وہ خبر چلا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سارے میڈیا کی پہلی خبر بن گئی۔ کوئی دس منٹ بعد مجھے اس جماعت کے ترجمان نے فون کر کے کہا ’’مظہر بھائی! یہ خبر غلط ہے اور ہمیں بدنام کرنے کے لئے کسی نے ہمارا لیٹر پیڈ استعمال کیا ہے۔ ہمارا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم ویسے بھی خودکش حملوں کے خلاف ہیں‘‘۔ نیوز ایجنسی کو اس خبر کی تردید چلانا پڑی۔ بعد میں ہمارے باس نے مجھ سے معذرت کی۔ ’’تم نے خبر روک کر درست فیصلہ کیا تھا‘‘۔ صحافی ہمیشہ بڑی خبر کی تلاش میں رہتا ہے۔ خبر مل جائے اور درست ہو تو وہ انتہائی خوش اور مطمئن ہوتا ہے۔ اگر خبر غلط ثابت ہو تو اسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب تو یہ لگتا ہے کہ غلط خبر پر معذرت یا معافی کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے۔ پہلے صحافی اپنی خبر پر ’’قائم‘‘ رہتا تھا کیونکہ اس کے پاس خبر کی صداقت کا ثبوت ہوتا تھا۔ اب بدقسمتی سے بعض صحافی اور چینل ’’جھوٹ‘‘ پر بھی قائم رہتے ہیں۔ صحافت میں ایک مضبوط مدیر کا ادارے میں ہونا اس لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ کوئی تو غلط خبر یا جھوٹی خبر کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرے۔

تصور کریں کہ پاک بھارت کشیدگی یا پلوامہ واقعہ کے بعد جو حالات پیدا ہوئے وہ مکمل جنگ کی صورت میں سامنے آتے تو یہ خبریں کسی تیسرے ملک سے آرہی ہوتیں۔ ہم محض ریٹنگ کی خاطر اس خطے کو ایک ایسی آگ کی لپیٹ میں بھسم کرنے جا رہے تھے جس سے نہ آپ محفوظ رہتے نہ ملک۔ بھارت کے سنجیدہ حلقوں کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ کیا اس طرح کے میڈیا کو کسی بھی طرح مثبت کہا جا سکتا ہے۔ جو صحافی جنگ کے دوران اپنی جان کی پروا کئے بغیر سچائی کی تلاش میں محاذِ جنگ پر جاتے ہیں یا کم از کم جھوٹی خبروں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی تو صحافت کر رہے ہوتے ہیں۔ عراقی جنگ میں چار سو سے زائد صحافی ہلاک ہوئے۔ اگر دیکھا جائے تو ایک غلط خبر اور اس کے پرچار نے خود صحافیوں کی جان لے لی۔بھارتی میڈیا کے دوستوں سے درخواست ہے کہ نیوز روم کو وار روم نہ بنائیں، رپورٹر کو سپاہی نہ بننے دیں، اینکرز کو جنرل نہ بنائیں ورنہ غلط خبروں کی بنیاد پر ہونے والی جنگ کی ذمہ داری تاریخ ’’میڈیا‘‘ پر ڈالے گی اور دفاع کرنے کے لئے شاید آپ اور میں زندہ بھی نہ ہوں۔

اگر عراق میں جھوٹی خبر کی بنیاد پر جنگ کی تباہی کے بعد امریکی اخبارات کے کچھ مدیر معذرت کر سکتے ہیں تو 300افراد کی ہلاکت کی جھوٹی خبر پر کوئی تو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کم از کم معافی تو مانگ ہی سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا سوال مودی سرکار سے نہیں اپنے آپ سے کرے، اس طرح شاید صحافت کی کچھ لاج بچ جائے۔