آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

والدین سے مصالحتی معاہدہ ہونے تک یارک فیلڈ پرائمری اسکول میں LGBT کی تعلیم موخر کرنے کا فیصلہ

برمنگھم (نمائندہ جنگ) برمنگھم یارک فیلڈ کمیونٹی پرائمری سکول، ’’نو آئوٹ سائیڈر لیسن‘‘ "No Outsider Lessons"پروگرام (LGBT) گئے لیزبین بائیسیکسچوئیل جنڈر ٹرانسپرنٹGay Lesbian and bisexual characters پر سکول میں کوئی لیسن لیکچر نہیں دیا جائے گا جب تک سراپا احتجاج والدین اور سکول انتظامیہ کے درمیان کوئی مصالحتی معاہدہ طے نہیں پاجاتا۔ یاد رہے کہ اس ایشو پر بنیادی طور پر فاطمہ، مریم اور امیراحمد کی جانب سے احتجاج شروع کیا گیا تھا کہ پرائمری سکول میں صرف چار سال کے بچوں سے اس طرح کی تعلیم نہ شروع کی جائے جس میں جنس کی تبدیلی، مرد کی مرد سے شادی، جینڈر تبدیلی، بچے معصوم ہوتے ہیں انہیں معصوم رہنے دیا جائے اور انہیں صرف سائنس، انگلش، اردو، ریاضی پڑھایا جائے۔ جب اپنی بلوغت کو پہنچیں گے تواس وقت ان کے اپنے جسم میں بھی جوانی کی تبدیلیاں شروع ہوجائیں گی تو انہیںLGBTاور سیکس کی تعلیم دی جائے وہ سمجھ پائیں گے اور انہیں اپنے آپ پر اعتماد بھی حاصل ہوگا۔ والدین کے مطالبہ پر سکول نے انکار کردیا

تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے احتجاج زور پکڑگیا ہر کمیونٹی کے والدین نے بھرپور مطالبہ کیا کہ چار سال بچے کی عمر سے جنسی تعلیم اور ہم جنس پرستی کے لیکچرز اور جنس کی تبدیلی، مرد کی مرد سے شادی اور عورت کی عورت سے شادی جیسی تعلیم معصوم بچوں کیلئے انتہائی عین نامناسب ہے۔ اس ایشو پر مقامی کونسلر کے آوور ویو کی وجہ سے اپنی پارٹی سے معذرت کرنا پڑی تھی۔ لوکل ایم پی لیم برن نے بھی اس ایشو پر کمیونٹی کو اعتماد میں لےکر کام کیا کہ والدین کے اعتماد کے بغیر بچوں کو ہم جنس پرستی کی تعلیم نہ دی جائے۔ سکول کے چیف نے فیصلہ کیا ہے کہ متنازع لیکچرز اس وقت تک نہ دیئے جائیں جب تک ان پر کوئی فیصلہ نہ ہوجائے۔ آج سے والدین اور اساتذہ باہمی مشاورت سے کام کریں گے اور اس کا کوئی مستقل حل نکالیں گے۔ یاد رہے کہ احتجاج جب زور پکڑ گیا تو والدین جو سراپا احتجاج تھے نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم اپنے بچے اس یارک فیلڈ کمیونٹی پرائمری سکول سے اٹھالیں گے اور کسی اور سکول میں داخل کروالیں گے جب کہ ایک جمعہ کو احتجاجاً تمام بچے سکول نہیں بھیجے گئے تھے۔600بچے اس پرائمری سکول میں زیرتعلیم ہیں  اب سکول انتظامیہ نے والدین سے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج ختم کرکے دوستانہ ماحول اپنائیں تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جہاں سے منقطع یا ڈسٹرب ہوا تھا وہاں سے شروع کیا جائے۔ واضح رہے کہ روزنامہ جنگ لندن نے 16فروری 2019کی اشاعت میں والدین کے موقف پر مبنی تفصیلی خبر شائع کی تھی جس پر والدین نے جنگ و جیو سے اظہار تشکر کیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں