آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍شوال المکرم 1440ھ 27؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سال مارچ کا مہینہ کیفین (Caffeine) کے مثبت و مضر اثرات سے آگہی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ کیمیائی عنصر کافی، چائے، توانائی والے مشروبات، چاکلیٹ اور دیگر غذائی مشروبات میں پایا جاتا ہے۔ فوڈ گائیڈ لائنز میں امریکیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ کیفین کا استعمال روزانہ 400ملی گرام سے زائد نہ کریں، زائد مقدار مضرصحت ہوسکتی ہے۔ دن بھر کافی کے تین کپ اور ڈارک چاکلیٹ کے 3ٹکڑے صحت مند خوراک کے زمرے میں آتے ہیں۔کیفین کی معتدل مقدار جسم اور ذہن کو صحت مند و خوشگوار رکھتی ہے،جبکہ حد سے تجاوز کرنا کئی امراض کا موجب بنتا ہے۔کسی بھی چیز کی عادت اعتدال کی حدود کو ختم کرکے جسم و ذہن پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

کیفین کی زائد مقدار سے لاحق امراض

کیفین ایک نشہ آور سفید قلمی مادہ ہے، جو مرکزی اعصابی نظام کو متحرک رکھتے ہوئے جسم میں توانائی لاتا ہے۔ تاہم اس کی زائد مقدار سے میگرین، سردرد، بے چینی و بے خوابی، الجھن، الرجی، دل کی تیز دھڑکن، معدے کے مسائل اور انزائٹی جیسے امراض لاحق ہوسکتے ہیں اگر جسم میں کیفین کی مقدار زیادہ ہوجائے تو صبح و شام چہل قدمی اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔ اس کے علاوہ جڑی بوٹیوں سے بنی چائے (ہربل ٹی)، لیموں پانی اور کرسی پر پانچ منٹ پائوں پھیلانے سے افاقہ ہوسکتا ہے۔

کیفین کی مطلوبہ مقدار سے طبی فوائد

کافی کی مناسب مقدار کینسر کے خطرے کو کم، جسم کو توانا، درد کو کم، یادداشت کو مضبوط اور دل کی دھڑکن کو معتدل کرسکتی ہے۔

کیفین کی تاریخ

کیفین سینٹرل نروس سسٹم کو متحرک کرنے والا میتھیل زن تھائین کلاس سے تعلق رکھنے والا کیمیائی جزو ہے، جسے اعصابی امراض میں مبتلا مریضوں کیلئے ادویات اور غذائی اجزا میں استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ کیفین کا عمومی جزو کافی اور چائے میں پایا جاتا ہے، جس کا مناسب مقدار میں استعمال تھکن اور نیند کے اثرات سے نکال کر تروتازہ کردیتا ہے۔ تاہم کیفین کی زائد مقدار جسم پر منفی اثرات مرتب کرکے ذہن و جسم کو بیماریوں میں بھی مبتلا کرسکتی ہے۔ چائے میں کیفین کی سرور آور مقدار کو سب سے پہلے تقریباً 300سال قبل از مسیح میں چینی شہنشاہ شینونگ نے دریافت کیا تھا۔ انہوں نے چائے کی پتی کو اُبالا تو اس میں سے نکلنے والی سوندھی خوشبو نے فضا کو معطر کردیا، اسے پینے کے بعد ذہنی سکون ملا۔ کافی کے ذائقے سے ہمیں یمن کے صوفیوں نے متعارف کروایا، جہاں وہ کافی کو ارتکاز توجہ اور سکون کیلئے استعمال کرتے ہوئے ذہن و جسم کو پرسکون بنا کر خود کو اللہ سے لو لگانے میں مگن رکھتے تھے۔ یہاں سے کافی مصر اور پھر شمالی افریقہ سے ہوتے ہوئے یورپ جاپہنچی اور یورپیوں کو یہ اتنی بھائی کہ ان کے من پسند مشروبات میں کافی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ چاکلیٹ کا تحفہ ہمیں قدیم مایا تہذیب کے باشندوں نے 600قبل از مسیح میں دیا۔ اس وقت کیفین کا عالمی استعمال سالانہ ایک لاکھ20ہزار ٹن ہے۔

اعتدال زندگی ہے

زندگی، اعتدال اور توازن کا نام ہے۔ کیفین ہی کیا، تمام غذائی اشیا میں اعتدال کا سب سے اہم کردار ہے۔ چائے، کافی اور چاکلیٹ کا معتدل استعمال آپ کو ڈپریشن سے نجات دلاسکتا ہے، تاہم اس کا زیادہ استعمال آپ کو ڈپریشن اور انزائٹی میں مبتلا کرکے مایوسی کے گڑھے میں پھینکنے کاسبب بن سکتا ہے۔ اس لئے ماہرین طب ذہنی و جسمانی عادتوں میں توازن اور احتیاط برقرار رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ماہرینِ طب زیادہ ورزش کرنے، پانی کے زائد استعمال اور کافی کی مقدار کم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کافی کی مناسب مقدار دن بھر تروتازہ رکھتے ہوئے زیرک فیصلے کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔

کیفین کا لفظ اپنے اندر کیف و سرور کو سمائے ہوئے ہے۔ انسان کا جسم ہڈیوں کے ساتھ گوشت پوست سے عبارت ہے، جس کی صفائی کا کام خون سرانجام دیتا ہے۔ صاف پانی کی مناسب مقدار جسم کے پمپنگ اسٹیشن یعنی دل سے خون کی صورت میں تبدیل ہوکر پورے جسم کی صفائی کا خاص انتظام کرتی ہے۔ ایسے میں کوئی بھی بے احتیاطی پورے جسمانی عمل کو متاثر کرتی ہے۔ اس لئے اطباء ’’احتیاط علاج سے بہتر‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے صحت مند غذائوں اور پانی کی مناسب مقدار استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں