آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں پاکستان سپر لیگ فور کے فیصلہ کن مقابلوں خصوصاً فائنل میچ کا کامیاب انعقاد محض بین الاقوامی اہمیت کے ایک بڑے کرکٹ ٹورنامنٹ کا بحسن و خوبی اور شاندار اختتام ہی نہیں بلکہ امریکہ میں نائن الیون کے سانحے کے بعد پاکستان میں یہ دہشت گردی کے خلاف نہ صرف ہماری بہادر مسلح افواج کی فتح عظیم بلکہ پاکستان کے خلاف بھارت کے حالیہ جارحانہ اقدامات اور برصغیر کو ایٹمی جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کے مذموم عزائم کی شکست فاش کی علامت بھی ہے جسے بجا طور پر امن کی فتح قرار دیا جا سکتا ہے لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد دہشت گردی سے داخلی امن کو لاحق خطرات کے خدشات کو جواز بنا کر غیر ملکی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا تھا لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے ہمالیہ سے بلند تر عزم کے ساتھ جس طرح دہشت گردی کو شکست دے کر ملک میں امن و سلامتی کا ماحول یقینی بنایا ا س سے پاکستان کی ایک پرامن ملک کے طور پر عالمی ساکھ بحال ہوئی اور معاشی و معاشرتی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ کھیلوں خصوصاً کرکٹ کی بحالی کے امکانات بھی قوی تر ہوئے اس حوالے سے پی ایس ایل کے کچھ میچ پاکستان میں کرانے کا اعلان کیا گیا مگر بھارت نے پلواما کا ڈرامہ رچا کر بالاکوٹ پر فضائی جارحیت کی اور برصغیر میں ایٹمی جنگ کا خطرہ لاحق ہو گیا تو پی ایس ایل

فور کیا معمول کی ساری زندگی پر سیاہ بادل منڈلانے لگے لیکن یہ پاکستان کی حکومت، عوام اور مسلح افواج کے استقلال اور عزم محکم کا نتیجہ ہے کہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی پر دشمن کے طیاروں کو مار گرانا ہو یا سفارت کاری میں شکست دینا دشمن کو ہر محاذ پر پسپا کر کے نہ صرف برصغیر بلکہ عالمی امن کو بھی بچا لیا گیا اس شکست کے بعد بھارت نے پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے کا ناپاک منصوبہ بنایا تھا اور خدشہ تھا کہ اس سے پی ایس ایل فور کےمیچ بھی متاثر ہوں گے چنانچہ مسافر پروازوں کے شیڈول میں ردوبدل سے لاہور کے میچ کراچی منتقل کرنا پڑے جو مقررہ وقت پر اور نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئے اتوار کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے درمیان فائنل میچ میں 33 ہزار سے زائد تماشائیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا ۔نیشنل اسٹیڈیم امن کی فتح اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے سارا وقت گونجتا رہا سیکورٹی کے انتظامات قابل رشک تھے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، گورنر سندھ کئی وفاقی و صوبائی وزراء سمیت متعدد اہم شخصیات نے اسٹیڈیم پہنچ کر میچ دیکھا کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی اور تماشائیوں کے نعروں کا جواب دیا انٹرنیشنل کرکٹ کانفرنس کے چیف ایگزیکٹو نے میچ کے سیکورٹی انتظامات کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کرکٹ کی بحالی کے لئے صحیح سمت میں گامزن ہے میچ کے پرامن انعقاد اور تماشائیوں کے جوش و خروش اور نظم و ضبط سے یقیناً ملک سے باہر یہ تاثر ختم ہو رہا ہے کہ پاکستان کوئی خطرناک جگہ ہے عالمی شہرت کے حامل سارے کھلاڑی پاکستان آ کر کھیلنا چاہتے ہیں کسی بھی ملک کی ٹیم کے پاس اب پاکستان نہ آنے کا کوئی جواز نہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ میچ سے پہلے تماشائیوں میں سفید ٹوپیاں تقسیم کی گئیں جو امن کی علامت ہیں یہ دشمن کے لئے ایک پیغام ہے کہ کھیل میں سیاست کو مت ملوث کرو وزیراعظم عمران خان کا یہ اعلان خوش آئند ہے کہ آئندہ پی ایس ایل کے تمام میچ پاکستان میں ہوں گے اور فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے یہ کہہ کر لوگوں کے دل جیت لئے کہ یہ میچ میران شاہ، مظفر آباد اور خیبر میں بھی ہوں گے۔ پاکستان کا بیانیہ ہمیشہ سے امن ہے اسلام کی یہی تعلیم ہے اور قائداعظم کا پیغام بھی یہی تھا پاکستان نے بھارت کے حالیہ جارحانہ اقدامات کا جو اب بھی امن سے دیا توقع کی جانی چاہئے کہ بین الاقوامی کرکٹ پاکستان میں جلد واپس آئے گی اور امن و آشتی کا پیغام لائے گی ۔دنیا پاکستان کے موقف کو بہتر طور پر سمجھنے لگی ہے یہی وجہ ہے کہ اولمپک ایسوسی ایشن نے پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے نہ دینے پر آئندہ اولمپک مقابلوں میں بھارت کی شرکت پر پابندی لگا دی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں