• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عبدالغنی بجیر،تھرپارکر

معاشرے میں جرائم کا خاتمہ مجرم کو قید رکھنے سے نہیں بلکہ اسے جرائم کی دنیا سے دوررکھنے میں پنہاں ہے۔سندھ سمیت ملک بھر کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں آج بھی جرگائی نظام کی حاکمیت قائم ہے،پولیس کے جبر اور بلاتحقیق ایف آئی آرز کی بھینٹ چڑھ کر کئی لوگ حادثاتی طور پر مجرم بن کر معاشرے کے ناسور کا روپ اختیار کرلیتے ہیں۔وہاں پر سزا کی مدت گزارنے والے قیدی جیلوں کو اصلاح خانے کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود،بجائے سدھرنے کے عادی مجرم بن کر نکلتے ہیں۔

جیلوں کی مختلف درجہ بندیاں ہوتی ہیں ، ضلعی سطح پر قائم سب جیل میں کسی قسم کی بنیادی سہولتیںنظر نہیں آتیں ۔مٹھی سب جیل جس میں اس وقت کل 35قیدی ہیں جن میں سے 22 قیدی زیر دفعہ 302کے تحت سز اکی مدت پوری کررہے ہیں، جب کہ ان کا شمار خطرناک نوعیت کے قیدیوں میں کیا جاتا ہے۔ مگر ان کودیگر عام قیدیوں کے ساتھ ہی رکھا گیا ہے۔کمروں کی کمی اور ناقص سکیورٹی میں ان قیدیوں کو مختارکار آفس کی بلڈنگ کی ایک عمارت میں رکھا گیا ہے، جس کو سب جیل کا درجہ دیا گیاہے۔مختلف کمرہ جات میں قیدیوں کی بھرمار ہے ۔جیلر کے مطابق 6کمروں پر مشتمل جیل کی اس عمارت میں ایک سوسےزائد قیدی بھی رکھ چکے ہیں۔ جیل کا تمام تر نظم و نسق،مبینہ طور پر ایک کلرک کے سپرد ہے جس کے پاس سب جیلر کا چارج بھی ہے۔

جنگ کی جانب سے مذکورہ جیل کی حالت زارکا جائزہ لینے کے بعد ایک تحقیقی رپورٹ مرتب کرنے کے لیے جیل کا دورہ کیا گیا ۔اس موقع پر جیلر نے ناقص انتظامات کے سبب مسلسل تین دن تک نمائندہ جنگ کو جیل کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی ، یہاں تک کہ معاملے نے اتنا طول پکڑا کہ مذکورہ نمائندے کو اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنا پڑا، جن کی تحریر ی اجازت ملنے کے بعداسے جیل کا دورہ کرایا گیا ۔اس جیل میںقیدیوں کے لیے پینے کے صاف پانی سمیت دیگر بنیادی سہولتوںکی عدم فراہمی دیکھنے کو ملی۔سب جیل مٹھی میں قیدیوں کے علاج اور بیماریوں کی تشخیص کے لیے سہولتیں ناپید ہیں جب کہ یہاں مستقل بنیادوں پر ڈاکٹر تعینات نہیں کیا گیا ہے بیماری شدت اختیارکرنے کی صورت میں انہیں علاج و معالجے کے لیے سول اسپتال لے جایا جاتاہے۔ قیدیوں کو کھانے کی فراہمی کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں، کچن کھلا اور اس کی صورت حال حفظان صحت کے اصولوں کے منافی ہے۔ یہاں صفائی کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے ۔ایک مرتبہ گندھا ہو اآٹا دو دن تک چلایا جاتا ہے اور جیل مینوئل کے مطابق مینو کی چیکنگ کاکوئی خصوصی نظام نہیں ہے۔

کچھ روز قبل ڈسٹرکٹ ایند سیشن جج مٹھی مشتاق احمد کلوڑ نے سب جیل مٹھی کا اچانک دورہ کیا تو قیدیوں نےان سے خوراک کی فراہمی کے ناقص انتظامات اور دیگرصحت سمیت دیگر بنیادی ضرورتو ں کی عدم فراہمی کی شکایت کی۔قیدیوںنے بتایا کہ کھاناانتہائی کم مقدار میں ملتا ہے جس سے بہ مشکل پیٹ بھرپاتا ہے، جس کی وجہ سے اکثرقیدی بھوکے رہتے ہیں۔ جو ملتا ہے وہ بھی انتہائی غیر معیای ہوتا ہے۔ہماری فریاد سننے والاکوئی نہیں ہے۔ انہوں نےمطالبہ کیا کہ تمام قیدیوں کو جیل قوانین کے مطابق وافر مقدار میں معیاری کھانے سمیت زندہ رہنے کے لیے دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ۔سیشن جج نےقیدیوں کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے جیل انتظامیہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جیل سپرنٹنڈنٹ کو متنبہ کیا کہ قیدیوں کی شکایات کا ازالہ کیا جائے اور جیل مینوئل کے مطابق انہیں خوراک اور طبی سہولتوں سمیت دیگر ضروریات زندگی مہیا کی جائیں۔

نمائندہ جنگ کےدورے کے دوران باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا کہ جیل کچن کے ٹھیکیدار،جیل انتظامیہ سے ملی بھگت کے باعث قیدیوں کو غیر معیاری ، مضر صحت اور ناکافی کھانا فراہم کیاجا رہا ہے ۔کھانے کے بجٹ میں مبینہ کرپشن کی وجہ سے قیدیوں کو غذائی قلت اور نامناسب خوراک کی فراہمی کا سامنا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ جن قیدیوں کے ورثاء معاشی طور پرمستحکم ہیں وہ مبینہ طور پر ہوٹلوں سے کھانے کی فراہمی کاانتظام کرواتے ہیں مگر اکثر قیدیوں کا کھانا’’ غیر سرکاری ٹھیکیدار ‘‘کی مرضی کے مطابق تیار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے قیدی مکمل طور پر اس کے رحم و کرم پرہیں۔ذرائع کے مطابق ، جیل سپرنٹنڈنٹ ،نے جیل پر مکمل طور سے اپنی حاکمیت قائم کررکھی ہے اور جیل کی صورت حال سے حکام کو لاعلم رکھنے کے لیے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جیل کا دورہ کرانے میں سکیورٹی رسک کا بہانہ بنا کر انہیں اجازت نہیں دیتا۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ قیدیوں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات مبینہ طور سے لین دین کے تحت کروائی جاتی ہے۔ اس میں بھی درجہ بندی کی جاتی ہے۔کچھ قیدیوں سے ملاقات پر آنے والے احباب کوگرل گیٹ کے اندرتک جانے کی اجازت دی جاتی ہے جب کہ کچھ کو بر آمدہ سے بھی باہر کھڑا کیا جاتا ہے۔جیل کے دورے کے دوران، قیدی ،نمائندہ جنگ کے سامنے اپنے مسائل بیان کرتے ہوئےخاصے گھبرائے ہوئے دکھائی دیئے ۔ بیشتر قیدیوں نے ملاقات میں دشواری، غذائی صورت حال اور علاج معالجے کی سہولتوں کے نہ ہونے کی شکایات کیں۔کچن کےمعائنےکے دوران، مذکورہ کچن ایک جھگی نما اور غیر معیاری جگہ میں نظر آیا جہاں پر صفائی کی صورت حال خاصی ابتر تھی۔

قیدیوں کو جیل کے اذیت ناک ماحول کی وجہ سےذہنی تناؤ سے نکالنے کےلیے سب جیل میں تفریحی اور پیشہ وارانہ سرگرمیوں اور ان کی تدریسی و فنی تعلیم کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو یہاں مفقود ہے۔ ناکافی جگہ ہونے کی وجہ سے ایک کمرے میں گنجائش سے زیادہ موجود قیدی مختلف ذہنی بیماریوں کا سامنا کرتے ہیں جب کہ خطرناک جرائم میںسزا کاٹنے والے،عادی مجرم ان قیدیوں کی ذہنی اذیت سے فائدہ اٹھا کر ان کی مجرمانہ تربیت کرتے ہیںجس کی وجہ سے جیل کے احاطے، جرم کی نرسریاں بنتے جارہے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مذکورہ جیل کو کسی بڑی جگہ میں منتقل کیا جائے جہاں زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہو۔ سب جیل کو اپ گریڈ کر کے بہتر بنانے کے ساتھ انہیں صوبائی وزیر جیل خانہ جات کے اعلان کے مطابق ،اصلاح گھر بنایا جائے ۔قیدیوں کی تربیت کے لئے ہاتھ کے ہنر سمیت درس و تدریس کا انتظام کیا جائے تاکہ سزاکی مدت پوری کرنے کے بعد رہا ہونے والے افراد ملک و قوم کی بہتر طور سے خدمت انجام دے سکیں۔

تازہ ترین
تازہ ترین