آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ14؍ شعبان المعظم 1440 ھ20؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مودی نے ملائیشیا کے وزیراعظم کو بھارتی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی تھی

اسلام آباد(عامر غوری)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی انتظامیہ نے ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کو حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر بھارت کی فضائی حدود سے پرواز کی اجازت نہیں دی ۔ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ یہ اجازت آخری موقع پر واپس لی گئی تھی ، جس کی وجہ سے ملائیشیا کے وزیر اعظم کو خاصا لمبا فضائی سفر کرنا پڑا اور وہ بحیرہ عرب سے عمان تک گئے اور اس کے بعد اسلام آباد پہنچے۔عالمی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو بہت حیرت انگیز ہے کیوں کہ بھارت اور ملائیشیا کے دوستانہ تعلقات کی کئی سالوں سے اچھی تاریخ رہی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 10ارب ڈالرز سے زائد ہے ، جسے 2020تک 25ارب ڈالرز تک لے جانے کی امید کی جارہی ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے اس غیر معمولی اور غیر سفارتی اقدام کی ایک ممکنہ وجہ وزیراعظم مہاتیر کی جانب سے بھارت پر پاکستان کو ’ترجیح‘ دینا ہوسکتی ہے ۔ ایک بھارتی صحافی ایلزبتھ روش نے 2017ء میں نجیب رزاق کے تیسرے دورہ بھارت کے دوران

لکھا تھا کہ ’حکومت میں بہت سے افراد اور بھارتی اسٹرٹیجک کمیونٹی متفق ہیں کہ 1981ء سے 2003ء تک اقتدار میںرہنے والے (سابق ) وزیراعظم مہاتیر محمد کے دور میں دوطرفہ تعلقات غیر مطمئن تھے اور اس کی وجہ بھارت کے ازلی دشمن پاکستان کی جانب ان کا رجحان ہے‘۔ نجیب رزاق کی حکومت کے دوران ملائیشیا اور بھارت کے تعلقات نئی اونچائیوں پر پہنچے ۔ نجیب رزاق نے کئی بار بھارت کا دورہ کیا اور 2017ء میں اپنے آخری دورہ کے دوران ملائیشین بزنس مینوں نے 36؍ ارب ڈالر کے معاہدے کئے جس میں انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ ، فوڈ سیکورٹی اوراسمارٹ شہروں کی تعمیر شامل تھی۔ پاکستان کے ایک سینئر ریٹائرڈ سفارتکار نے کہا کہ ایسا اقدام ان ممالک کے درمیان بہت ہی مشکل ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف نہ ہوں لیکن ہاں ایسے ’سرگرداں ‘ ماحول میں ایسا ہوسکتا ہے جیسا کہ ماحول پاکستان اور بھارت کےدوران ابھی ہے لیکن اس سب سے مودی انتظامیہ کی ذلالت بھی ظاہر ہوتی ہے ۔ ملائیشیا میں تقریباً 17؍ لاکھ بھارتی نژاد ہندو رہتے ہیں اور ملائیشیا میں مقیم ہندوؤں کا 86؍ فیصد بنتا ہے ۔ وزیراعظم مہاتیر محمد خود بھارتی نژاد ہیں۔ ان کے دادا اسکندر کو برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی 1870ء میں کیرالہ سے کیدے رائل پیلس بطور انگریزی زبان کے ٹیوٹر کے طور پر لے کر آئی تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں