کراچی (ٹی وی رپورٹ) تحریک انصاف کے رہنما ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی لڑائی میڈیا پر نہیں آنی چاہئے تھی، پارٹی رہنماؤں کی لڑائی پارٹی کے باہر نہیں اندر ہونی چاہئے ،وزیراعظم عمران خان اٹھارہویں ترمیم کے مخالف نہیں ہیں، ہمارے سسٹم میں اتنی طاقت نہیں کہ پرویز مشرف کو واپس لاسکے، جس افتخار چوہدری نے مشرف کو وردی میں صدر بننے کی ترمیم کی اجازت دی وہ رانا ثناء اللہ کا کزن تھا۔ وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن علی احمد کرد ،ن لیگ کے رہنما میاں جاوید لطیف اور مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب بھی شریک تھے۔علی احمد کرد نے کہا کہ سپریم کورٹ سے نااہلی کے باوجود جہانگیر ترین کی کابینہ میٹنگوں میں شرکت پر قانونی و آئینی پابندی نہیں ہے،جہانگیر ترین کو کابینہ اجلاسوں میں شرکت میں احتیاط کرناچاہئے کیونکہ اس سے غلط تاثر جارہا ہے، بعض حلقے چاہتے ہیں اٹھارہویں ترمیم کو آئین سے نکالا جائے مگر ایسا ممکن نہیں ہے، اٹھارہویں ترمیم ختم نہیں ہوسکتی صوبوں کو اختیارات دینا پڑیں گے۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ قانونی طور پر وزیراعظم کسی شخص کو بھی کابینہ اجلاس میں بلاسکتا ہے، اخلاقی اعتبار سے سپریم کورٹ سے نااہل شخص کو کابینہ میٹنگ میں نہیں بلانا چاہئے، وفاق کو پیسوں کی کمی ہے تو ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا چاہئے، پرویزمشرف کو وطن واپس لانے کیلئے عدالتی احکامات پر عمل کرنا چاہئے۔ میاں جاوید لطیف نے کہا کہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی لڑائی کو سنجیدگی سے لینا چاہئے، پی ٹی آئی پنجاب میں بہت سے دھڑے بن گئے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کو فعال نہیں ہونے دیا جارہا وہ صرف دستخط کرتے ہیں، جیسے ہی چھتری ہٹے گی آج کی ق لیگ پی ٹی آئی کو تتربتر ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ندیم افضل چن نےکہا کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی لڑائی میڈیا پر نہیں آنی چاہئے تھی، پارٹی رہنماؤں کی لڑائی پارٹی کے باہر نہیں اندر ہونی چاہئے تھی۔