• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
انداز بیاں … سردار احمد قادری
مسلمان حکمرانوں کی ایک تاریخ تو وہ ہے جس میں علم و حکمت فراست و دانائی اور عالمگیر سیاست و جہاں بانی کے وہ درخشندہ باب ہیں جو تاریخ انسانی کے سر کا تاج اور ماتھے کا جھومر ہیں، لیکن ایک تاریخ وہ بھی ہے جس میں باہمی جدال اور قتال ہے، فتنے ہیں، لڑائیاں ہیں اور بارہا یہ دیکھا گیا کہ مسلمانوں نے مسلمانوں کا خون بہایا اور ایک دوسرے کو قتل کرنے کیلئے صف آراء ہوئے۔ بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے سیاسی افتراق اور انتشار کی پہلی مثال شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دردناک واقعے کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ امیر المومنین کو قتل کردیا گیا دارالخلافہ میں اور وہ بھی وہ شہر مقدس جہاں نبی کریم رئوف الرحیم ﷺ کا مزار مقدس اور آپ کی مسجد مبارک ہے۔ احتجاجی مظاہرین کے زیراثر چند افراد نے ان کے گھر پر دھاوا بول دیا اور انہیں بے دردی سے شہید کردیا۔ اس کے دیرپا سیاسی اثرات مرتب ہوئے، یہ تو معلوم نہ ہوسکا کہ قاتلین عثمان کو کس نے اکسایا تھا لیکن اس کے سیاسی پس منظر سے کچھ تاریخی واقعات ملتے ہیں، جو کہ مختصر انداز میں بیان کیا جائے تو اس کا خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ صوبوں کے گورنروں کے متعلق شکایات تھیں اور عوام الناس بعض صوبائی عمال سے بے زار اور ناخوش تھے۔ احتجاج دبے لفظوں کے اظہار سے بڑھتا بڑھتا بالآخر قتل عثمانؓ پر ختم ہوا۔ لیکن یہ بحران کا خاتمہ نہیں تھا اس کی ابتداء کیونکہ اب قاتلین عثمانؓ سے قصاص کے نام پر ایک تحریک شروع ہوگئی، جس کا امیرالمومنین سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنے پورے دور حکومت میں سامنا کرنا پڑا۔ انہیں قصاص کے نام پر برپا ہونے والی انتقامی تحریک اور بغاوت کو کچلنے کیلئے جنگ جمل اور جنگ صفین لڑنا پڑیں جس میں  دونوں  طرف سے ہزاروں مسلمان قتل ہوئے پھر ایک معاہدے کی صورت میں امن بحال کرنے کی کوشش ہوئی تو ایک نیا فتنہ پرور گروہ ’’خوارج‘‘ سامنے آگیا اور انہی خارجیوں میں سے ایک عبدالرحمٰن ابن ملجم نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو نماز کی امامت کے دوران مسجد میں شہید کردیا سیدنا علی المرتضیٰؑ کی شہادت کے بعد حضرت امیر معاویہ اسلامی دنیا کے حکمران بن گئے یہ اموی خاندان کے دور حکومت کی ابتدا تھی یہ مسلمان حکمرانوں میں  خاندانوں کے دور حکمرانی کا آغاز تھا، بنوامیہ قریش کے قبیلے کی ایک اہم شاخ تھے جب سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ یزید کی صورت میں ایک غیراسلامی کردار و افعال کا بدکردار شخص حکمران بن بیٹھا ہے بلکہ خاندان کی حمایت سے برسراقتدار آیا ہے تو بنو امیہ نے سیدنا امام حسین کی مخالفت کو بنوامیہ اور بنوہاشم کی دیرینہ اور تاریخی چپقلش اور باہمی مخاصمت کے طور پر قبائلی عصبیت کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنے قبیلے میں اچھالا۔ بنوامیہ اور بنوہاشم میں ایک تاریخی کشمکش اور باہمی مخالفت پہلے سے موجود تھی جسے سرور کونین رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انقلاب آفریں پیغام نے دفن کردیا تھا لیکن بنوامیہ کے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں نفرت کی یہ چنگاری ابھی تک سلگ رہی تھی۔ جیسے ہی امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی غیراسلامی اور خاندانی آمریت اور طاغوتی حکمرانی کے خلاف کلمۂ حق بلند کیا اور رائے عامہ ہموار کی تو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے اسے ایک اسلامی حکمران ایک امیرالمومنین کےخلاف بغاوت کا فعل قرار دیا اور بنوہاشم کی بنوامیہ سے دشمنی کا شاخسانہ کے طور پر پیش کیا۔ تاریخ نے یہ المناک منظر بھی دیکھا کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو، آپ کے صاحبزادوں (امام زین العابدین کے سوا) آپ کے بھائیوں، بھتیجوں اور خاندان کے دیگر افراد اور جاں نثار ساتھیوں کو کربلا کے میدان میں شہید کرکے فتح کے شادیانے بجائے اور نواسۂ رسول ﷺ کو اپنے راستے کا سب سے بڑا پتھر سمجھ کر اسے ہٹانے کے بعد جشن منایا اور یہ وہ لوگ تھے جو بظاہر کلمہ گو تھے، نمازیں بھی پڑھتے تھے، آل نبی اولاد علی پر درود و صلوٰت بھی پڑھتے تھے اور انہیں بھوکا پیاسا رکھ کر شہید بھی کردیا اور پھر بھی یہ دعویٰ کہ انہوں نے یہ سب کچھ ایک امیرالمومنین کی حکومت کے استحکام کے لئے کیا اور اس خاندانی حکومت کو بچانے کے لئے جگر گوشۂ بتول نواسۂ رسولﷺ کو بھی شہید کرنا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ بنوامیہ نے خاندانی حکومت کے قیام کے بعد حکمرانوں کی طرف سے اپنی زندگی میں اپنا خاندانی جانشین حکومت یعنی اگلے سربراہ مملکت کے تقرر کا جو طریقہ اپنایا یہ مسلمان حکمرانوں کی تاریخ میں تسلسل سے جاری رہا۔ ایوان اقتدار کے جاہ و جلال اور شان و شوکت کا آغاز ہوا اسلام کے اصول حکمرانی کی درخشندہ روایات یعنی عدل و انصاف کی حکمرانی، حکمرانوں کی سادگی اور کفایت شعاری اور عوام کی فلاح و بہبود کے تصور کی بجائے حصول اقتدار کی کشمکش اور جاہ و منصب کی طلب عام ہوگئی۔ عوام کا سربراہ مملکت سے براہ راست رابطہ اور تعلق تقریباً ختم ہوگیا۔ عوامی رابطے کے انقطاع کی وجہ سے درباری اور خوشامدی مشیروں نے حکمرانوں کی ہمدردیاں حاصل کرلیں۔ انہیں اعزازات و اکرام سے نوازا جاتا۔ مسجد کو جو حکمران اور محکوم کے باہمی رابطے کا مرکز اور امور حکومت کی مشاورت کے لئے ایک بنیادی ادارہ تھا اسے نظرانداز کردیا گیا، دین اور سیاست کو دو شعبوں میں تقسیم کردیا گیا۔ مذہبی شعبہ مساجد کے حصے میں آیا جبکہ امور حکومت اور اقتدار شاہی محلات میں منتقل ہوگئے۔ عوامی ہمدردی کے حصول کے لئے حکمران مساجد میں آتے تو یہاں بھی ان کے جاہ و جلال کے مناظر سامنے آتے۔ ایسے مناظر عوام کے لئے اور بالخصوص عرب کے قبائلی معاشرے میں عوام کے لئے حیران کن تھے کہ اسلامی طرز حکمرانی کے دعویدار مسلمان خاندانی حکمران مساجد میں سپاہیوں اور ذاتی محافظ دستوں کے ہمراہ ادائیگی نماز کے لئے آتے تھے ان کے لئے مسجد پر علیحدہ جگہ مخصوص کردی گئی تھی، اس چبوترے پر حفاظتی حصار میں صرف حکمران ہی بیٹھ سکتا تھا۔ وزارت خزانہ حکمرانوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز بن گئی امانت کے اسلامی تصور نے حکمرانوں کو اس وزارت کے معاملات حددرجہ احتیاط اور کڑی نگرانی سے چلانے کا جو شعور دیا تھا وہ مفقود ہوتا گیا چونکہ اس وزارت کا تعلق عوامی سرمائے (بیت المال)، اس لئے اولین اسلامی دور حکومت (عہد خلفائے راشدین) میں مالی معاملات کی کسی قسم کی بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ حکومت کے اثاثوں کو قومی امانت تصور کیا جاتا تھا۔ جبکہ بادشاہت کے دور میں یہ قومی امانت ذاتی اور خاندانی وراثت میں بدل گئی کبھی اس سرمائے کا استعمال صرف عوامی فلاح و بہبود کے لئے ہوتا تھا اب اس کے مالک و مختار حکمران بن گئے۔ اس لئے جسے چاہا اسے نواز دیا، تعریف کے پل باندھنے والوں اور خوشامدی قصیدہ گو شاعروں پر دولت نچھاور کی جانے لگی اس کے علاوہ اپنی عیاشیوں، ذاتی اخراجات و آسائشات، محلات ان کی تزئین و آرائش اور دیگر لوازمات کیلئے بھی سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال کیا جانے لگا۔ دوستوں، حاشیہ نشینوں اور رشتہ داروں کو دیئے جانے والے عطیات اور انعامات اس کے علاوہ تھے انہی اطوار اور افعال کی وجہ سے قبائلی اور علاقائی، نسلی، لسانی عصبیتوں نے دوبارہ جنم لیا، وہ تمام معاشرتی خرابیاں جو عہد رسالت مآبﷺ کی تعلیمات برکات اور فیوضات سے ختم ہوگئی تھیں دوبارہ سر اٹھانے لگیں۔ خاندانی تفاخر کا احساس بڑھنے لگا اور مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری کی وجہ سے مظلوم پسماندہ اور بے بس طبقات میں احساس محرومی بڑھا۔ غریب اور نادار لوگوں کو اپنی کسمپرسی کا یقین ہوچلا تو وہ اپنی تقدیر پر راضی برضا ہوکر بیٹھ گئے یا پھر بغاوت کا علم بلند کرکے کھڑے ہوئے اور کچلے گئے خاندانی حکومت اپنے خاندانی اقتدار کے استحکام کیلئے ہر حربے استعمال کرتی تھی۔ مخالفین کی زبانیں بند کرنے کے لئے پہلے انہیں خریدنے کی کوشش کی جاتی اور اقتدار کے فوائد حاصل کرنے کا لالچ دیا جاتا اور جب اصولی بنیادوں پر تنقید کرنے والے باز نہ آتے تو انہیں بے دریغ قتل کردیا جاتا۔ حکومت کے مخالفین کا قتل عام معمول بن گیا ظلم و ستم کا بازار اتنا گرم ہوا کہ اسلامی اقدار اور احکام تو کجا، معاشرتی اور قبائلی روایات کی خلاف ورزی کی جانے لگی اس کی ایک مثال ہی کافی ہے، یمن کے صوبہ کے گورنر عبید اللہ بن عباس جو حضرت علی المرتضیٰؓ کے نامزد کردہ گورنر تھے ان کے دو کمسن بچوں کو گرفتار کرکے قتل کردیا گیا۔ عربی اور عجمی تعصب کو ہوا دے کر جس فتنے کا آغاز کیا گیا اس کے نتائج کسی نہ کسی انداز میں آج تک باقی ہیں اور انہی اثرات کی وجہ سے عالم اسلام کے اتحاد کے حقیقی ثمرات حاصل نہیں ہوسکے۔
تازہ ترین