روز آشنائی _… تنویرزمان خان، لندن چار اپریل کو گزرے تو کئی روز بیت گئے لیکن تاریخ ہر سال اس طرح آتی ہے یہ دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن بن گیا جسے ذوالفقارعلی بھٹو کے خون سے عدلیہ نے لہولہان کردیا، میں پیپلز پارٹی کا حصہ نہیں نہ ہی کبھی رہا لیکن اس دن کے ساتھ تو میری زندگی کا اہم حصہ جڑگیا۔1979 میں آمر نے بھٹو کو پھانسی دی تو اس ریاستی بے انصافی پر سیاسی کارکنوں کی آنکھوں پر لہو ٹپکنے لگا تو ریاستی جبر سیاسی کارکنوں پر جھپٹ پڑا۔ میں بھی ایک سازش کیس میں دھر لیا گیا۔ قلعے اور پرتشدد تفتیشی مراحل سے گزرنے کے بعد جب عدالتی ریمانڈ پر جیل گیا تو راولپنڈی جیل میں کئی برس گزرے اور میں نے کئی مہینے ان چکیوں میں بھی گزارے جہاں بھٹو نے اپنی آخری ایام اور گھنٹے گزارے تھے ۔ اس وقت جیل کے عملے میں چند ایسے لوگ موجود تھے جو بھٹو کی پھانسی کے وقت وہاں تعینات تھے۔ بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کارکنوں پر کوڑے ، جیلوں ،تشدد اور پھانسیوں کے دروازے کھل گئے کیا اس پورے دور کا حساب ہو پایا۔ یہی بات ہے جو اس دن کے حوالے سے کرنے والی ہے۔ میں کوڑے، پھانسیوں اور جیلوں کا حساب کوڑے پھانسیوں اور جیلوں کی شکل میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ البتہ کیا اس پُرآشوب دور کے بعد عوام اور سیاسی کارکنوں نے کوئی ایسی صبح دیکھی جس میں انصاف کا بول بالا ہوا ہو۔ غریب کی غربت کے خلاف کچھ ہوا ہو۔ دولت چند ہاتھوں سے نکل کر عام آدمی کی طرف چل نکلی ہو۔ مجھے تو قربانیوں اور سیاسی کارکنوں کی اتنی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد بھی پورا دور ٹوٹل LOSSہی لگتا ہے۔ گزشتہ دنوں نامور صحافی سہیل وڑائچ بھی آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے وہی دلچسپ بات دہرائی جو کہ پہلے بھی بہت سے لوگ کرچکے ہیں لیکن جب تک بات پوری نہ ہوجائے اسے دہراتے رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کی پھانسی کا انصاف اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک عدالت اس قتل پر آمر کو سزائے موت نہ سنائے اور جنرل ضیاء کی نعش کو قبر سے نکال کر پھانسی کی رسی پر نہ جھلایا جائے۔ گوکہ یہ سب علامتی ہوگا لیکن ایساکرنا ضروری ہے لیکن یہاں کس کس کا حساب ہونا چاہیے لیکن ابھی تک تو قانون بھی صرف عوام کا ہی حساب لے رہا ہے اور سیاست بھی عوام کے نام پر عوام ہی کے درپے ہے لیکن ان تاریخ کے مجرموں کا نہ تو آج تک حساب پوا ہے نہ ہی کسی میں حساب لینے کی جسارت ہے،بھلا مالکوں سے کون حساب لیتا ہے حساب تو کمزور اور بے کسوں سے لیا جاتا ہے انہی کی جزاوسزا اس دنیا میں، انہی کا یوم حساب اگلے جہاں، یہ شتر بے مہارہیں، یہ بپھرے ہوئے مست ہاتھی ہیں، جسے چاہیں روندیں، جسے چاہیں اٹھا کے آسمان کی طرف اچھال دیں ۔ مگر کچھ ذمہ داری تو عوام کی بھی بنتی ہے۔ مجھے اس مینڈک کی مثال یاد آگئی جسے جب ایک دیگچی میں پانی ڈال کر اس میں ڈالا گیا اور دیگچی کے نیچے آگ جلادی گئی۔ جیسے جیسے پانی گرم ہوتا گیا۔ مینڈک اپنی خصوصیت کی وجہ سے پانی کے گرم کے ساتھ ساتھ پانی جسم کا درجہ حرارت بدلتا رہا اور پانی کی گرم کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کرتا رہا۔ جونہی پانی ابلنا شروع ہوا وہ مرگیا۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مینڈک اپنی درجہ حرارت کی ایڈجسٹمنٹ کی صلاحیت کی وجہ سے مر ایا پانی کے ابلنے سے، کیا وہ بچ سکتا تھا، کہا یہی جاتا ہے کہ اگر وہ مینڈک نصف تک درجہ حرات کے بڑھنے کو دیکھتا اور پھر باہر چھلانگ لگادیتا تو بچ جاتا۔ یعنی حالات کو بھانپتے ہوئے اسے صحیح وقت پر ایک جست لگانے کی ضرورت تھی۔ یہ بات تو ہم اس جانور کیلئے کہہ رہے ہیں، ہم جو انسان ہیں۔ ہم ظلم کو برداشت کرنے کے طریقے ڈھونڈنے رہتے ہیں اور ہر وقت کسی میسحا کی تلاش میں رہتے ہیں۔ جو ہمیں اس کی ظلم کی چکی سے نکالے۔ ہم انسان ہو کر وقت پرجست لگانا نہیں سیکھتے۔البتہ عوام میں اپنے اردگردکی بے انصافی ہر اس وقت اکساتی تو رہتی ہے ۔ وہ بھٹو کا حساب نہیں لینا چاہتے ہیں۔ اس بوسیدہ نظام کے چیتھڑے نوچنا چاہتے ہیں۔ وہ اس نظام کے پیچھے چھپے اس نظام کے پہرے داروں کو عوام پر آزمائے دارو رسن کو ان ہی کی طرف واپس لوٹاناچاہتے ہیں۔ ہے کوئی جو اس مشق ستم کے آگے دیوار بنے گا۔ اس دیگچی کے نیچی آگ لگا کے تماشا دیکھنے والوں کا تماشا بنادے گی۔ اب اس سارے کام کو کرنے کوئی اور نہیں آئے گا۔ یہ کام میں نے اور آپ نے خود ہی کرنا ہے یہ محشر ہمیں برپا کرنا ہے، وگرنہ یہ آگ جلتی رہے گی۔ پانی ابلتا رہے گا اور ہم مینڈک کی طرح ایک ایک کرکے مرتے چلے جائیں گے اور یہ نظام ظلم چلتا چلا جائےگا۔