آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 11؍ذیقعد 1440ھ15؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت پاکستان کی جانب سے گزشتہ سال اکتوبر میں ’’ کلین اینڈ گرین پاکستان‘‘ مہم کا آغاز کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے ایک نجی اسکول میں پودا لگا کر مہم شروع کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ 5برسوں کے دوران پاکستان کےدریا، سمندر حتٰی کہ مادر وطن کی تمام تر سرزمین یورپ کانقشہ پیش کرے گی، جس کے لیےملک کے تمام شہروں میں10ارب درخت لگائے جائیں گے۔ کلین اینڈ گرین پاکستان ایک ایسا خواب ہے، جو انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر پاکستانی کی خواہش ہے کیونکہ صاف ستھری فضا اس سیارے پر زندگی گزارنے والے ہر ذی روح کی اولین ضرورت ہے، تاہم اگر یہ فضا آلودہ ہوگی تو بیماریوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس صورتحال میں صاف اور سرسبز پاکستان مشن کے لیے آپ کا کردار بے حد اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ سرسبز و شاداب اور صاف ستھرا ماحول ہر پاکستانی کی ضرورت ہے۔ یہ مشن صرف وزیراعظم یا حکومت پاکستان کا نہیں بلکہ اور اس مشن کی تکمیل کے لیے ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

شجر کاری

بچپن سے نصابی کتب میں پڑھتے آئیں ہیں کہ شجر کاری صدقہ جاریہ ہے۔ تاہم اب گلوبل وارمنگ سے متاثرہ دنیا کا ساتواں ملک ہونے کی حیثیت سے شجرکاری اب ہر پاکستانی کی ضرورت بن گئی ہے۔ پاکستان کے دوسرے شہروں خصوصاً کراچی کی ہی مثال لے لیں، رواں برس کراچی کو یکے بعد دیگرے گرمی کی لہروں نے ایسا بے حال کیا کہ ہر شہری بارش ہونے کی دعااور خدا کی پناہ مانگتا نظر آیا۔ موسمیاتی ماہرین گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ موسمیاتی تبدیلیوں کو گردانتے ہیں اور ان تبدیلیوں کی ایک وجہ نئے درختوں کا نہ لگناہے۔ قحط سالی کے دوران یہی درخت اپنے اندر موجود نمی خارج کرکے بادل بننے کے اسباب پیدا کرتے ہیں۔ اگر ہر خاندان اپنے گھر کے سامنے صرف ایک درخت لگالے تو ملک بھر میں چند دنوں میں کروڑوں درختوں کا اضافہ دیکھا جاسکے گا۔ تاہم درخت لگانے سے متعلق سب سے اہم بات یہ کہ ’کونو کارپس‘ نامی درخت ہر گز نہ لگائیں جائیں، ان پودوں کی نگہداشت کے لیے جہاں ایک طرف زیادہ پانی درکار ہوتا ہے،وہیں دوسری طرف یہ پودے فضائی آلودگی اور پولن جیسی بیماریوں کا سبب بن جاتے ہیں۔

گھر پر ایک نہیں، تین ڈسٹ بن رکھیں

عام طور پر ہر گھر میں ایک ہی کوڑا دان دیکھنے میں آتا ہے، جس میں گھر کاتمام تر کچرا، چاہے وہ کچن کے فضلہ کی صورت ہو، پیپر، پلاسٹک، میٹل یا پھر کرسٹل کی صورت، ایک ہی ڈسٹ بن میں ڈال کر جان چھڑائی جاتی ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا یہ عمل فضائی آلودگی کا سبب بن جاتا ہے؟ کچرا اُٹھانے والی گاڑیاںاس کچرے کوکسی بھی جگہ جاکر پھیلادیتی ہیں، جس کے باعث تعفن اُٹھنے لگتا ہےاور یہ تعفن آلودگی میں اضافےکاسبب بنتا ہے۔ اس صورت حال سے بچنے کی خاطر ضروری ہے کہ آپ کچن میں ایک کے بجائے تین ڈسٹ بن رکھیں۔ ایک میں غذائی فضلہ(گیلا کچرا) ، دوسرے ڈسٹ بن میں ردی(کاغذی کچرا) اور تیسرے میں شیشہ وغیرہ رکھیں۔ اس سلسلے میں کچرا اُٹھانے والے اداروں کو بھی کچھ اصول وضوابط پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔

صفائی بڑھائیں

صاف اور سرسبز پاکستان کے لیے ہماری دوسری ذمہ داری صاف ستھرے ماحول کو یقینی بنانے کی ہےاور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم سڑکوں کی صفائی کا بھی خیال رکھیں۔ ہمارے ملک میں چونکہ سڑکوں پر رکھے گئے ڈسٹ بن کی کمی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ آپ اپنے ساتھ ہمیشہ ایک پیپر بیگ رکھیں۔ ردی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دوران سفر اس بیگ میں جمع کرلیں اور گھر جانے کے بعد یا پھر کسی سڑک پر رکھے گئے ڈسٹ بن میں وہ بیگ ڈال دیں۔ اس طرح آپ سڑکوں پر جابجا پھیلی گندگی کو ختم کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔

پانی کا ضیاع روکیں

ان دنوں پاکستان کا اہم ترین مسئلہ پانی کی قلت ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستانی عوام اس مسئلے پر قابوپانے اور ڈیم کی تعمیر کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں لیکن ڈیم کی تعمیر کے علاوہ ہم سب کی ذمہ داری پانی کے ضیاع کو روکنا بھی ہے۔ اگر ہم نلوں سے بہتے پانی، طویل دورانیے کا غسل کرنا اور پانی کی لیکیج جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل پر غور کریں تو روزانہ کی بنیادوں پر ضائع ہونے والا پانی کافی حد تک بچایا جاسکتا ہے۔ مغربی ممالک میں پانی کی حفاظت اور اس کے ضیاع کو روکنے کے لیے گھروں میں rain barrel(بارش کا پانی محفوظ کرنے کے لیے ڈرم یا ٹینک) بنوائے جاتے ہیں، جنھیں بعد میں لان، پودوں کو پانی دینے یا پھر گاڑی وغیرہ دھونے کے لیے استعمال میں لایاجاتا ہے۔

دوبارہ استعمال ہونے والی پلاسٹک کی بوتلیں

پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک پلاسٹک کی بوتلوں کو ماحولیاتی آلودگی کے لیے ایک بڑا خطرہ تسلیم کرتے ہیں۔ سمندر میں پھینکنے کی صورت یہ بوتلیں آبی حیات کی زندگی کو خطرات سے دوچار کرتی ہیں اور جلائے جانے کی صورت یہ فضائی آلودگی کاسبب بنتی ہیں۔ اس مسئلے کا ایک حل یہ ہے کہ پلاسٹک کی وہ بوتلیں خریدی جائیں، جو دوبارہ استعمال کرنے کے قابل ہوں۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں