آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک دور تھا جب لوگ دیسی گھی سے تر پراٹھے کھاتے تھے لیکن اس کے باوجودصحت مند اور تندرست رہتے تھے۔ تاہم بلڈ پریشر، بڑھتے وزن اور دل کے امراض کے سبب بیشتر افراد چکنائی کا استعمال ترک کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ غذائی ماہرین بھی چکنائی کے کم استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چکنائی کا کم استعمال صحت کے لیے فائدہ مند ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ چکنائی دو طرح کی ہوتی ہے، ایک صحت کے لیے مفید اور دوسری مضرِ صحت۔

آج ہم اپنے مضمون میں ان چکنائیوں کا ذکر کریں گے، جو صحت کے لیے مفید ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ کچھ یوں بیان کی جاسکتی ہے کہ یہ چکنائیاںانسان کا مجموعی اور خراب کولیسٹرول کم کرتی ہیں جبکہ اچھے کولیسٹرول کی مقدار بڑھاتی ہیں۔ یہ چکنائیاں کون سی ہیں آئیے جانتے ہیں۔

ناریل کا تیل

ناریل سے تیار کی گئی مصنوعات صحت کے لیے مفید ہوتی ہیں اور اگر بات کی جائے ناریل کے تیل کی تو اس کا استعمال کھانے پکانے، اسموتھیز، دلیا اور دیگر ڈشز بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ناریل کا تیل کھانوں میں بہت عمدہ چکنائی کا کام انجام دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے کمپاؤنڈ ٹوٹتے نہیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ کھانے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتا۔ ناریل کا تیل اینٹی مائیکروبیال، اینٹی بیکٹریل اور اینٹی کینسر کی خصوصیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس تیل کا استعمال بلڈ پریشر کنٹرول کرنے اور ذیابطیس ٹائپ ٹو مریضوں کے لیے مفید ہے جبکہ یہ میٹابولزم کی رفتار بڑھانے کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اس تیل کی سالماتی ساخت میڈیم ٹرائی گلائسرائیڈہے، جو دیگر چکنائیوں کے مقابلے پانی میں زیادہ تیزی سے حل ہوجاتی ہے۔ حل ہونے کے سبب یہ براہ راست جگر تک پہنچتی ہے، جہاں وہ جسم کے ایندھن کے طور پر جل جاتی ہے اور اس طرح محفوظ نہیں رہتی۔

گری دار میوے

صحت مندچکنائی فراہم کرنے والی غذاؤں میں گری دار میووں کوبھی شمار کیا جاتا ہے۔ یہ میوے ڈائٹ کے لیے بہترین ہوتے ہیں کیونکہ یہ بہت سے غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں۔ گری دار میووں میں اومیگا 3فیٹی ایسڈ پایا جاتا ہے، جو دل کو صحت مند رکھنے اور کولیسٹرول کم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیقی نتائج کے مطابق3اونس بادام کا روزانہ استعمال انسانی جسم میں کولیسٹرول لیول کو 14فیصد تک کم کرتا ہے۔ بادام میں 90فی صد چکنائی’’ نان سیچوریٹڈ فیٹس‘‘ جبکہ پروٹین وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ دیگر معدنیات میں فائبر، کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم، وٹامن ای اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس بھی وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

ایواکاڈو

ایواکاڈوکا شمار مفید غذائی عناصر سے بھرپور پھلوں میں کیا جاتا ہے۔ کولیسٹرول اور وزن میں کمی کے لیے سیلیبرٹیز بھی ایواکاڈو کا ہی انتخاب کرتی ہیں۔ یہ ایک ناسیر شدہ چکنائی سے پُر ہونے کی وجہ سے جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے۔ اس کی وجہ اس میں موجود کاربوہائیڈریٹس کی نہایت قلیل مقدارہے، جو وزن کم کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہی نہیں، ایواکاڈو مختلف وٹامنز جیسے کہ وٹامن سی، ای، کے اور بی6کا بہترین ذریعہ ہے۔ نیز اس میں ریوفلاون، نیاسن، فولیٹ، میگنیشیم اور پوٹاشیم بھی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ ایواکاڈو نوٹین، بیٹا کیروٹین اور اومیگا 3فیٹی ایسڈ حاصل کرنے کا بھی اہم ذریعہ ہے۔

بیج

بیج کی غذائی اہمیت بھی گری دار میووں جیسی ہے۔ قدرت کے یہ نباتاتی اجزا فائبر، اومیگا3فیٹی ایسڈ اور پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہی نہیں، ان میں میگنیشیم،سلینیم اور زنک بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ السی کے بیج، کدو کے بیج، تخم بالنگا اور سورج مکھی کے بیج صحت کے بہترین ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر السی کے بیج میں پایا جانے والا فائبراور صحت مند چکنائی جسم کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔ السی کے بیج اگر روزانہ استعمال کیے جائیں تویہ جسم میں کولیسٹرول کو کم کرنے میں مددگار ہوں گے۔

زیتون کا تیل

زیتون کا تیل صحت کیلئے بہت فائدہ مند مانا جاتا ہے، جس کی وجہ اس میں موجود فیٹی ایسڈز، وٹامنز اور دیگر اجزا ہیں۔ اس تیل کو جسم کیلئے مفید ناسیر شدہ چکنائی شمار کیا جاتا ہے اور یہ آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے۔ اس سے جسم میں صحت مند کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔بیشتر سیلیبرٹیز سلاد میں زیتون کے تیل کا استعمال لازمی کرتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں