آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 11؍ذیقعد 1440ھ15؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (انصار عباسی) وزیراعظم کی جانب سے اسد عمر کو ہٹایا جانا دراصل حکومت کی 8؍ ماہ کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ وفاقی کابینہ کے سب سے اہل ترین رکن اور پی ٹی آئی حکومت میں ترپ کا پتہ سمجھے جانے والے اسد عمر کا استعفیٰ کوئی معمول کا واقعہ نہیں بلکہ حکومت حتیٰ کہ حکمران جماعت کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسد کی جگہ کون بطور وزیر خزانہ آئے گا کیونکہ حالات اس وقت تک نہیں بدلیں گے جب تک حکومت اپنا رویہ نہیں بدلے گی۔ ملک میں سیاسی استحکام تک کوئی معاشی پالیسی کام نہیں آئے گی۔ لیکن گزشتہ 8؍ ماہ کے دوران حکومت کیلئے باعثِ تذبذب بات یہ تھی کہ اس نے سیاسی تصادم کو ہوا دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ عموماً انتخابات کے نتیجے میں استحکام آتا ہے اور کاروباری طبقے اور معیشت کو اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اقتدار میں آتے ہی پی ٹی آئی حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف یہ کوشش جاری رکھی کہ ملک کا سیاسی ماحول غیر مستحکم رہے بلکہ ملکی معیشت کی ایسی مایوس کن منظر کشی کی کہ ملک میں

کاروبار کیلئے ماحول بدتر ہوگیا۔ ایسے حالات میں جہاں کاروباری افراد کو معلوم ہی نہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے، تو وہ کیوں سرمایہ لگائیں گے۔ یہ حالات نئے سرمایہ کاروں (ملکی و غیر ملکی) کو بھی دور بھگانے کیلئے کافی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں ساکھ اچھی ہونے کے باوجود پی ٹی آئی حکومت ان غیر ملکی پاکستانیوں سے اربوں ڈالرز وصول ہونے کی توقعات پوری نہ کر سکی حالانکہ ڈیم کی تعمیر کیلئے عطیات کی اپیل بھی کی گئی تھی۔ جس وقت نئی حکومت سے توقع تھی کہ وہ کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھے گی تاکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اپنے منشور میں وضع کردہ اہداف حاصل کیے جا سکیں اُس وقت حکومت اور کابینہ ارکان نے اپوزیشن جماعتوں اور ان کی سینئر قیادت کو لے کر چور ڈاکو کی رٹ لگا رکھی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے الیکشن کے فوراً بعد حکومت کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی لیکن پی ٹی آئی حکومت نے ملک میں سیاسی استحکام آنے نہ دیا۔ افسوس کی بات کہ عرمان خان کی زیر قیادت اپوزیشن کیخلاف تنقیدی مہم جاری رہی اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ نیب جو کچھ کر رہا ہے اس سے حکومت تو خوش ہو رہی ہے لیکن اس سے اس کی اپنی ناکامیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت نیب کے بہت زیادہ حد تک فعال ہونے اور اپوزیشن رہنمائوں کیخلاف مشکوک کریک ڈائون پر خوش ہے اور بیورو میں اصلاحات نہیں لائی جا رہیں، بیورو اکثر اوقات بیوروکریسی اور ملک کے کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ یہ بات پہلے ہی واضح ہو چکی ہے کہ حکومت کو نیب کے رویے کے سوا اور کوئی خطرہ نہیں۔ جب بھی نیب کسی اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کرتی ہے یا کوئی اپوزیشن کا رہنما نیب کے ریڈار پر آتا ہے تو اگرچہ حکومت اور حکمران جماعت والے مزے لیتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ بیورو کی وجہ سے حکومت کو نقصان ہو رہا ہے، کسی حد تک حکومت کو اس بات کا احساس ہے لیکن اس کے باوجود کرتی کچھ نہیں۔ نہ صرف نیب کے بیوروکریسی کے ارکان کیخلاف اقدامات کی وجہ سے بیوروکریٹس فیصلے نہیں کر پا رہے اور غیر فعال ہو چکے ہیں بلکہ بیورو نے تقریباً ہر کاروباری شخص کیخلاف کرپشن کی فائل کھول رکھی ہے، ان میں ایسے کاروباری افراد بھی شامل ہیں جن کی ساکھ بہترین ہے اور ان میں سے کچھ کو پی ٹی آئی کی اپنی حکومت نے 23؍ مارچ کو اعزاز سے نوازا تھا۔ ایسے ماحول میں جہاں مقامی کاروباری افراد کے پیچھے نیب لگا ہو اور انہیں برسوں تک جیل میں ڈالے جانے کا خطرہ محسوس ہو تو یہ لوگ کیسے پاکستان میں کاروبار کرنے میں دلچسپی لیں گے؟ حکومت کی جانب سے بھی کئی مرتبہ اس بات پر پریشانی کا اظہار کیا جا چکا ہے کہ نیب کس طرح بیوروکریسی اور کاروباری افراد کو پریشان و ہراساں کر رہا ہے۔ استعفے سے ایک دن قبل اسد عمر نے ٹی وی انٹرویو میں نیب کے اختیارات کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا تاکہ ادارے کو نجی کاروباری افراد کے پیچھے جانے سے روکا جا سکے۔ اسد عمر نیب قانون میں ترمیم چاہتے تھے لیکن یہ بات حکومت کی ترجیح میں شامل نہیں کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات گھر کر گئی ہے کہ ہر اپوزیشن لیڈر کو جیل میں ڈالنا ہے اور اسی خیال کی وجہ سے وہ اداروں بشمول نیب میں اصلاحات پر توجہ نہیں دے پا رہے۔ ایسے ماحول میں جہاں بیوروکریسی کام نہ کر پائے، کاروباری افراد خود کو غیر محفوظ محسوس کریں اور بڑھتا سیاسی درجہ حرارت ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرے تو حکومت کارکردگی نہیں دکھا سکتی۔ اگر اسد عمر مطلوبہ نتائج نہ دے پائے تو ان کی جگہ آنے والا بھی کامیاب نہیں ہو پائے گا چاہے چیلنجز بالخصوص معیشت اور طرز حکمرانی سے وابستہ مسائل سے نمٹنے کے معاملے میں حکومت کتنی ہی مخلص کیوں نہ ہو۔ حکومت کو فعال بیوروکریسی، پراعتماد کاروباری افراد اور دوستانہ پارلیمنٹ کی ضرورت ہے۔ ان کے بغیر، حکومت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ حکومت نے تصادم کی بیکار سیاست کے چکر میں 8؍ ماہ گنوا دیے۔ حکومت آنے والے مہینوں اور برسوں میں نئے تجربات کے متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سے ملک کو نقصان ہوگا۔ اب وقت ہے کہ دوسروں کو برطرف کرنے کی بجائے حکومت اپنی پالیسیوں اور ترجیحات پر غور کرے تاکہ اداروں میں اصلاحات لائی جا سکیں، گورننس اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔ نیب، ایف بی آر اور ایف آئی اے جیسے اداروں میں اصلاحات لائی جائیں اور انہیں کسی بھی سیاسی مداخلت کے کرپٹ افراد، ٹیکس چوروں اور منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کرنے دی جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں