آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بقول غالب، لوگ ہمیں ہی بے ننگ ونام کہا کرتے تھے، اب تو امریکہ کے سائنسی تحقیق کے ادارے ناسا کا کچا چھٹا کھل گیا ہے، اُنہوں نے خلا میں خواتین کی واک کا جو اعلان کیا تھا، وہ یکایک منسوخ کردی ہے۔ ناسا کے مطابق اُن خواتین کے سائز کے خلائی سوٹ دستیاب نہیں۔ اِس لئے خواتین کو اسپیس واک پر نہیں بھیجا جا سکتا۔ کمال ہے نا کہ جو سائنسدان خلا میں فتح کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں، اُنہیں خواتین کے لئے اتنی سی زحمت بھی گوارا نہیں کہ وہ اسپیس واک کر سکیں۔ وہی بات ہوئی کہ عورت ہمالیہ پہاڑ تو سر کر سکتی ہے مگر ہمارے ملک میں صدر نہیں بن سکتی۔ آئین کے مطابق تو کوئی غیر مسلح بھی صدر نہیں بن سکتا حالانکہ قائداعظم نے قانون کا وزیر منڈل صاحب کو اور وزارت خارجہ سر ظفر اللہ کو دی تھی جو کہ بعد میں عالمی عدالت کے سربراہ بھی رہے۔ اس وقت تو کسی نے رولا نہیں ڈالا تھا۔ اب جبکہ گزشتہ دنوں عمران خان نے علما حضرات سے ملاقات کی ہے تو دو ایک قانونی موشگافیاں بھی اُنکے ساتھ سرراہے کے طور پر کی جا سکتی تھیں، ایک تو خاتون کی گواہی کامسئلہ کہ یہ قانون اب تک ضیاء کے زمانے سے لاگو چلا آرہا ہے۔ پھر اِسکو کسی بھی حکومت نے تبدیل کرنے کی کوشش ہی نہ کی۔ علاوہ ازیں اکثر ہی ایک نابالغ ہندو لڑکی کو مبینہ طور پر مسلمان کر کے، شادی شدہ لڑکوں سے شادی کر دی جاتی ہے۔ لڑکیوں سے زبردستی بیان بھی دلوا لیا جاتا ہے۔ یہی رویہ مبینہ طور پر کیلاش کی بچیوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا تھا، وہاں تو یونیسکو نے یہ سلسلہ روکا۔ اذیت ناک بات یہ ہے کہ یہ لڑکیاں اکثر چھ ماہ بعد لٹی پٹی پھر گھر پہنچ جاتی ہیں۔ اب نہ خاندان انکو قبول کرتا ہے اور نہ معاشرہ۔ ایسا ہی اکثر برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں جوان ہوتی بچیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ وہ پڑھی لکھی لڑکی، کسی فلٹر بنانے والے کزن سے شادی پہ مجبور کی جاتی ہے۔ اگر نہ مانے تو غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے۔ پاکستان ہی میں کوہستان کیس میں وہ معصوم بچیاں جو صرف تالی بجا رہی تھیں، کو اور ڈانس کرنے والے چاروں بھائیوں سے جو ایک بچہ تھا، کو قتل کردیا گیا۔ شکر ہے سپریم کورٹ نے یہ کیس دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے۔

شکر ہے حکومت کو عقل آئی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے سے، مخالفت کے سبب، گریز کیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ غربت مٹائو پروگرام، ہردور میں چلتے رہے ہیں۔ پاکستان میں کوئی 40بینک کھلے ہیں، جو غریبوں کو قرض دیتے ہیں۔ اگر اتنے سارے بینک غربت مٹانے کے نام پر لوگوں کو سود کی کافی اونچی شرح پر قرض دے رہے ہیں تو ملک میں غربت کم ہونے کے بجائے بڑھ کیوں رہا ہے؟۔ پاکستان میں صاف پانی کیوں میسر نہیں اور افراط زر اتنی انتہا کو کیوں پہنچ رہی ہے؟۔ غربت وزارتیں بنانے سے نہیں مٹتی، میں کئی دفعہ لکھ چکی ہوں کہ عالمی فنڈنگ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر، ہر صوبے میں ہرسال کم از کم 50دیہات میں گھروں، گلیوں، اسکولوں اور ہیلتھ سنٹرز میں چھوٹی صنعتیں لگائی جائیں۔ ملک کا ایک پیسہ نہیں لگے گا۔ سارا بجٹ عالمی فنڈنگ ایجنسیاں اپنی مرضی سے نہیں عوامی ضرورت کے مطابق خرچ کریں گی۔ ایک دفعہ ماڈل ویلیج بننا شروع ہوئے تو دیکھئے گا کہ پرائیویٹ سیکٹر اور دنیا کے امیر ترین لوگ بھی اپنا حصہ ڈالنے کے لئے موجود ہوں گے۔ گزشتہ 8ماہ میں بہت کاغذی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ اگر ایک موبائل کمپنی نے بینک بنایا اور غربت مٹانے کا پروگرام بنایا تو دوسری ٹیلی فون کمپنیاں بھی اسی طرح کے پروجیکٹ کی منصوبہ بندی کر سکتی ہیں۔ اگر ٹیکس بچانے کے لئے یہ سب بکھیڑا ہے تو پھر ایسے ناٹک بہت ہو چکے، تھر پارکر اور بلوچستان کی ہی قسمت بدلے تو کتنی سیاحت بڑھ سکتی ہے مگر ہم تو خاص کر کےپی حکومت تو دس سالوں میں مالم جبہ تک پہنچنے والی سڑک کی مرمت نہیں کر سکی۔

اس وقت صرف تعلیم کے شعبے میں یہ حال ہے کہ زیادہ تر دیہات کے اسکولوں کی بلڈنگیں مخدوش حالت میں ہیں، استاد کلاس میں کبھی کبھی آتے ہیں۔ یہی حال دیہی صحت سنٹروں کا ہے۔ وہاں سردرد کی گولی بھی میسر نہیں۔ مجھے یاد ہے جب ہم ناران کاغان جاتے تھے تو راستے میں ہر عورت مرد، دوائی مانگتے نظر آتے تھے۔ کوہستان کے علاقے میں تو دیہات بھی پہاڑیوں پر ہیں، جہاں پہنچنا ہی دشوار ہے۔ کشمیر کی سرھن گلی کے دیہات میں کوئی بازار نہیں، ایک بندہ اپنے گھوڑے پر صبح کو نکلتا ہے، ہر گھر سے آرڈر لیتا اور شام کو سب کے گھروں میں سامان لاکر دے دیتا ہے۔ ہر گھر سے بھی دس روپے بچت ہو تو وہ روز کے دو تین سو روپے کما لیتا ہے۔ اس طرح جنوبی پنجاب کے دیہات میں عورتیں اور مرد چھوٹا سا کمرہ باہر کی جانب بنا کر، گھروں کی روزمرہ کی ضرورت کی چیزیں رکھ کر اپنی آمدنی کا بندوبست کرتے ہیں۔ 1960میں بکریوں، مرغیوں اور کچن گارڈن کے ذریعہ چھوٹا کاروبار چلا تو سہی مگر بہت وسعت نہیں حاصل کر سکا، نئے زمانے کے مطابق فیکٹریاں لگائیں تاکہ روزگار چلے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں