آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غیر ملکی مسافروں کیلئے ویزا پابندیوں میں نرمی، بلاگرز کی تیزی سے آمد

اسلام آباد (اے ایف پی) جس طرح سے ملک کی سیکورٹی میں بہتری آرہی ہے، وزیر اعظم عمران خان پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے خواہشمند ہیں، ساتھ ہی ساتھ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بہت سے غیر ملکی مسافروں کیلئے ویزا پابندیوں میں نرمی کردی ہے۔ اس اقدام کا نتیجہ بیرون ملک سفر کرنے والے بلاگرز کی ملک میں تیزی سے آمد کی صورت سامنے آیا ہے جو پاکستان کےپہاڑوں اور سمندروں کے ساتھ ساتھ قدیم سندھی تہذیب سے بدھ مت کے مقبروں اور اسلامی یادگاروں تک ملک کے اعلیٰ ورثے اور تاریخ کی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں۔ کھانے اور سفر کے یوٹیوبر مارک وینس نے اپنے چالیس لاکھ سبسکرائبرز کو بتایا کہ پاکستان کا سفر پوری زندگی کا سفر تھا۔ پولش بلاگر ایواژو نے اپنے فالوورز کو بتایا کہ پاکستان دنیا میں نمبر ون سیاحتی منزل بن سکتا ہے جبکہ کینیڈین سوشل میڈیا کے صاحب اثر روزی گبریل کا کہنا تھا کہ وہ وہ چاہتی ہیں کہ اپنی کہانی میں پاکستان کے حوالے سے سچ بتائیں۔ لیکن کچھ تحفظات ہیں کہ سوشل میڈیا بلاگرز کا مواد ان بڑے چیلنجز کی عکاسی نہیں کرتا جن کا سامنا پاکستان کر رہاہے۔ ان چیلنجز میں انفرا اسٹرکچر سے لے کر انتہا پسندی شامل ہیں۔ ملک میں 1970 کی دہائی سے سیاحوں کی تعداد میں کمی آئی جب ملک کو پہلے جہادی گروہ کو جھیلنا پڑا اور پھر خونی جنگ

کا سامنا کرنا پڑا۔ جان لیوا حملے اب بھی ہوتے ہیں لیکن سیکورٹی خدشات میں کمی آرہی ہے لہٰذا حکام اور اس تصور کو ختم کرنے کے خواہشمند ہیں کہ یہ ایک خطرناک جگہ ہے۔ وینس کے سفر میں مدد کرنے والے پاکستان ٹریول مارٹ کے سی ای او علی حمدانی کا کہنا ہے کہ لوگ ان پر یقین کرتے ہیں، بلاگرز کے تاثرات کو مستند کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستانی اور تجربہ کار غیر ملکی سیاح خبردار کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی پوسٹس پاکستان کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتیں۔ ٹورازم انفرا اسٹرکچر ناکافی ہے، غیرملکی جن جگہوں کا دورہ کرسکتے ہیں وہاں مبہم حکومتی پابندیاں ہیں اور سیاحوں کو اکثر ہراساں کیا جاتا ہے۔51 سالہ برطانوی خاتون جون نے بتایا کہ یہ کہنا کہ پاکستان میں سب کچھ حیرت انگیز ہے بالکل غیرذمہ دارانہ ہے، انہیں شمال مغربی وادی سوات کے دورہ کے دوران پولیس افسر کی جانب سے ہراساں کیا گیا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں