آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍رمضان المبارک 1440ھ27؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کا بلاول بھٹوکاغلط نام پکارنا کم ظرفی ہے،اپوزیشن

پشاور(سید سبز علی شاہ، احتشام طورو) اپوزیشن جماعتوں قومی وطن پارٹی، اے این پی، پاکستان مسلم لیگ،جے یو آئی ، پیپلز پارٹی پختونخوا جمہوری اتحاد، نیشنل پارٹی ، مزدور کسان پارٹی ، پختون تھنک ٹینک ، عوامی ورکرز پارٹی اور پختونخوا اولسی تحریک کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے بلاول بھٹو کو بلاول صاحبہ کے نام سے پکارنے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی کم ظرفی اور گندی سیاست قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکمرانوں کی نااہلی سے سیاسی و معاشی بحران بڑھتا جارہا ہے جبکہ ملک کو تباہی و بربادی سے دو چار کر دیا گیا ہے وزیراعظم کو سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھال کر شرافت کی سیاست کا جنازہ نکالنے اور نفرت پھیلانے کی بجائے ملک کو تباہی و بربادی سے بچانے کے لئے معاشی بحران پر قابو پانا چاہیے قومی وطن پارٹی کے قائد آفتاب احمد خان شیر پائو اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور، جے یو آئی کے مرکزی رہنما حاجی غلام علی، پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنما و سابق گورنر انجینئر اقبال ظفر جھڑا ، مسلم لیگ کے مرکزی سینئر نائب صدر و سابق وزیراعلیٰ سنیٹر پیر صابر شاہ صوبائی سینئر نائب صدر ارشد محمود خان بابوزئی ، صوبائی ایڈیشنل سیکرٹری و صوبائی ترجمان پاکستان مسلم لیگ اختیار ولی، پیپلز پارٹی کے صوبائی

پارلیمانی لیڈر شیر اعظم وزیر پشاور کے ڈویژنل صدر لیاقت شباب صوبائی رابطہ سیکرٹری سرتاج خان آف دوران پور، پختونخوا جمہوری اتحاد کے کنوینئر سکندر حیات خان شیر پائو اور اسد آفریدی ایڈوکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بلاول بھٹو کو بلاول صاحبہ پکارنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے حکمرانوں کے خلاف نفرت بڑھتی جاری ہے جبکہ حکمران بڑھتی ہوئی عوامی نفرت سے بوکھلاگئے ہیں کپتان عوامی جدوجہد سے اقتدار میں نہیں آئے لیکن انہیں دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا ۔عمران خان کی طرف سے 2014ء میں اسلام آباد دھرنے میں 10 لاکھ لوگوں کو لانے کی بڑھک ماری گئی لیکن وہ پورے ملک سے 10 ہزار سے زائد لوگوں کو جمع نہ کر سکے عمران خان کی طرف سے سول نافرمانی کااعلان کیا گیا جسے عوام کی طرف سے مسترد کر دیا گیا حتیٰ کہ پی ٹی آئی نے بھی اس پر عمل نہیں کیا۔ پی ٹی آئی اب نظریاتی کارکنوں کی جماعت نہیں رہی بلکہ یہ مفاد پرستوں ،بھگوڑوں اور لٹیروں کا ٹولہ بن گئی ہے ۔پیپلز پارٹی خیبر پختونخو ا کے صوبائی صدر ہمایوں خان ،جنرل سیکرٹری فیصل کریم کنڈی، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات گوہر انقلابی اور پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر راشد خان آفریدی نے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی طرف سے اس قسم کے الفاظ کا استعمال عمران خان کی پست ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ جنگ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئےانہوں نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا بیان قابل نفرت ہے۔ بلاول بھٹو کے بارے میں وزیراعظم کا بیان افسوسناک اور ذہنی پستی کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم سے فوری طورپر معافی مانگنے کامطالبہ کیا اور کہا کہ کسی جگت باز کی طرح جملے بازیاں وزیراعظم کے منصب کے شایان شان نہیں،حیرانی ہورہی ہے کہ ایک ملک کا وزیراعظم اتنی سطحی اور گری ہوئی تنقید بھی کرسکتا ہے ، عمران نیازی کسی اچھے ذہنی امراض کے معالج سے رجوع کریں ،ایسا لگتا ہے جیسےعمران نیازی پاکستان چلانے کی بجائے لکی ایرانی سرکس چلا رہے ہیں خان صاحب اپنا لہجہ اور اطوار درست کریں وہ شاید بھول گئے ہیں کہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں کسی سرکس کے نہیں ،عمران خان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں بیرون ملک جانے پر پابندی لگائی جائے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں