آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کنزہ یار خان

مشتاق احمد یوسفی کے بقول ’’اگر کسی اچھی کتاب سے کئی نسلوں کو بیزار کرنا ہو تو اسے نصاب میں شامل کر دیا جائے‘‘. انہوں نے یہ جملہ ازراہِ مذاق ہی کہا تھا، مگر دور حاضر میں یہ تجزیہ سو فیصد صادق آتا ہے۔ آج طلباء ڈگریاں حاصل تو کرلیتے ہیں مگر شعوری اعتبار سے صفر ہیں۔ آج تعلیم برائے علم و آگاہ کی خاطر حاصل نہیں کی جاتی اور نہ ہی اس لیے حاصل کی جاتی ہے کہ پڑھ لکھ کر والدین کا سر فخر سے اونچا کریں یا سماج کی خدمت کی جائے بلکہ تعلیم برائے بہترین نوکری کی غرض سے حاصل کی جاتی ہے۔ طلبہ و طالبات زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی دوڑ میں نصابی کتابوں کو سمجھ کر پڑھنے کی بجائے رٹا لگانے کو اہمیت دیتے ہیں، سمجھ کر پڑھنے کو بے وقوفی اور وقت کا زیاں تصور کیا جاتا ہے۔ نسل نو کی یہ ہی کوشش ہوتی ہے کہ، کہیں سے ایسی کتاب مل جائے جو مختصر اور جامع ہو۔ یہ طریقہ شاید امتحانات کے لئے کارگر ثابت ہو جائے مگر، اس طرح علم بہت محدود ہو جاتا ہے۔

ایک دور تھا جب طالب علموں کو سیکھایا جاتا تھا کہ علم حاصل کرنا ایک عبادت ہے جو ہر مسلمان پر فرض ہے۔ علم حاصل کرو چاہئے چین کیوں نہ جانا پڑے۔ یہ اور اس طرح کے کئی اقوال طلباء نے نصابی کتابوں میں پڑھے تو ہیں لیکن کبھی سمجھے نہیں۔ کبھی غور ہی نہیں کیا کہ علم سے مراد کیا ہے، اسے حاصل کرنا کیوں ضروری ہے۔ آخر قدرت کے وہ کون سے راز ہیں جن سے پردہ اُٹھنا ابھی باقی ہے۔ اس پہیلی کو اُسی وقت سلجھایا جاسکتا ہے جب علم برائے آگاہی و شعور حاصل کیا جائے، نہ کہ چند فارمولائے، تعریفیں اور قوانین صرف اس غرض سے حرف بہ حرف یاد کریں کہ کہیں نمبر نہ کٹ جائیں۔ آج کل طلباء کا یہ شیوہ بن گیا ہے کہ وہ صرف اتنے سوال جواب ہی یاد کریں گے جتنے اساتذہ نے اہم بتا کر نشان لگوا دیئے ہوں۔ یا پھر پانچ سال کے امتحانی پرچوں کا جائزہ لے کر انہیں ہی رٹ لیا جاتا ہے، کیوں کہ آج طالب علموں کا مقصد علم حاصل کرنا نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ نمبر اور جی پی اے حاصل کرنا ہے، کیوں کہ اسی بنیاد پر ان کی قابلیت کو جانچہ جاتا ہے، اسی کی بنیاد پر اسکول کے بعد کالج اور کالج کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ ملتا ہے، اور پھر بنیاد پر نوکری ملتی ہے۔ اگر ہم اس صورت حال کا بغور جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ، رٹا لگانے میں صرف طالب علموں کی غلطی نہیں ہے بلکہ تعلیمی بورڈ بھی ذمہ دار ہے۔ کیوں کہ وہ کئی برسوں تک چند خاص خاص کتابوں سے ایک مخصوص حصہ ہی امتحان میں دیتے چلے آئے ہیں، باقی حصہ بڑی مجرمانہ غفلت سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض تعلیمی اداروں میں نصاب کا وہ حصہ جو امتحانات میں نہیں آتا وہ پڑھایا ہی نہیں جاتا، یہ عمل اساتذہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اب اگر کوئی طالبِ علم وہ حصے بھی خصوصی توجہ سے پڑھے جس کے امتحان میں پوچھے جانے کا امکان بہت کم ہیں تو انہیں اہم حصوں کی تیاری کا مناسب وقت ہی نہیں ملتا۔ یہ سلسلہ نیاء نہیں بلکہ چھوٹی جماعتوں سے لے کر جامعات کی سطح تک بغیر سمجھے، زیادہ سے زیادہ نمبر لینے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔ اس روایے کی وجہ سے طلباء کی قابلیت محدود ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر طلب علم جامعہ کی سطح تک پہنچ کر بھی اچھی درخواست لکھنے یا سی۔وی بنانے سے قاصر رہتے ہیں۔ کیونکہ انہیں کبھی اس لحاظ سے تعلیم دی ہی نہیں جاتی کہ کتابوں سے رٹی گئی چیزوں کو عملی جامہ کیسے پہنایا جاتا ہے۔ ان کی اس عادت کا ذمہ دار اسکول انتظامیہ کو قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا، کیوں کہ رٹا فیکشن کی بنیاد یہں رکھی جاتی ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ بیشتر اسکول، کالجز میں سوال و جواب پر نشانات لگواکر، ان کے علم میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے اسے نظر انداز کرتے ہوئے، صرف اچھے نمبروں کی یقین دہانی کروا کے یاد کرنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ اگر ان طلباء سے پوچھا جائے کہ، وہ جو پڑھ رہے ہیں اس کا مطلب انہیں معلوم ہے تو جواب نفی میں ہی آئے گا۔ بعض اساتذہ اضافی آمدن کی خاطر خود نوٹس تیار کرکے طلباء کو فراہم کرتے۔ جس سے ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، وہ کتابوں کا مطالعہ کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اسکول سے کالج اور پھر کالج سے جامعہ پہنچتے پہنچتے تک طلبہ کی یہ عادت اس قدر پختہ ہوچکی ہوتی ہے کہ ان کے لئے ایک مضمون لکھنا بھی محال ہو جاتا ہے اور وہ طلبہ جو میٹرک میں اچھے نمبرز حاصل کرتے ہیں انٹر میں اکثرکئی کئی پرچوں میں ناکام ہوجاتےہیں، جس کے سبب کسی اچھی جامعہ میں داخلہ ملنا محال ہوجاتا ہے۔ اگرہم اس روش کا جائزہ لیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس کی وجہ نصابی کتاب کے مخصوص حصوں کا مطالعہ ہے۔ جب یہ طلباء جامعات میں پہنچتے ہیں تو وہاں بھی اساتذہ کے لیکچرز اور چند ایک کتابوں سےآگے نہیں بڑھتے اور اگر کوئی استاد غلطی سےکوئی اسائنمنٹ دے دے تو ’’کاپی پیسٹ‘‘ کی بھرمار کر دیتے ہیں۔ اکثر پی۔ایچ۔ڈی اسکالرز پر سرقہ نویسی کے الزامات بھی لگتے رہتے ہیں یا پھر پوری ڈگری ہی مشکوک قرار دے دی جاتی ہے جو پوری دنیا میں ہمارا سر شرم سےجھکانے کے لئے کافی ہے۔ دوسری جانب ہمار المیہ ہے کہ اگر اچھی ملازمت حاصل کرنی ہے تو مہنگی سے مہنگی جامعہ میں داخلہ ہونا لازمی ہے۔ اگر یہ کہیں کہ جتنی اچھی رقم اتنی اچھی ڈگری اور اتنی ہی اچھی نوکری تو غلط نہ ہوگا۔ افسوس آج ڈگری محض تعلیمی اداروں کے اخراجات کی رسید بن کر رہ گئی ہے۔ طالب علموں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’’جس قوم میں تعلیم محض نوکری کے لئے حاصل کی جائے تو وہاں عالم اور لیڈر نہیں نوکر پیدا ہوتے ہیں‘‘۔

یہ ہم سب کے لئے بےحد ضروری ہےکہ چاہے ہم اساتذہ ہوں یا طلبہ سب کو اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر کوئی استاد ہے تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس طرح تعلیم دے کہ ان کا شوق اور بڑھے، بجائےاس کہ وہ تعلیم کو بوجھ سمجھنے لگیں، اگر وہ بچے اپنے استاد کی بدولت شوق سے تعلیم حاصل کریں گے تو یقینَا قابل ہوں گے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں