آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


اے میرے دل کہیں اور چل جیسے متعدد گیتوں کو اپنی آواز سے لازوال بنا دینے والے برصغیر کے لیجنڈ گلوکار و اداکارطلعت محمود کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے۔

اپنے آپ کو آوارہ بادل کہنے والے طلعت محمود 1924 میں لکھنو میں پیدا ہوئے۔انہوں نے مرزا غالب، داغ اور جگر کی غزلوں کو اپنی آواز دی جس کے بعد برصغیر میں غزل گائیکی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔

طلعت محمود کی آواز کو درد اور کرب کا ترجمان کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ انکی گائیکی میں غم کی تصویر جھلکتی ہے۔

دیس بدیس کے بنجارے طلعت نے بنگالی، گجراتی، سندھی اور پنجابی سمیت تیرہ زبانوں میں آٹھ سو سے زائد گیت گائے مگر راجندر کے لکھے اور سلیل چوہدری کے موسیقی ترتیب دیئے ہوئے گانے اتنا نہ مجھ سے پیار بڑھانے طلعت محمود کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

اپنی فلمی زندگی میں طلعت محمود نے سب سے زیادہ گانے دلیپ کمار کی فلموں کے لیے ہی گائے: جیسے شامِ غم کی قسم یا حسن والوں کو، اور یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

طلعت محمود نے گلوکاری کے علاوہ فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، انہیں اپنی بے مثال گائیکی پر فلم فئیر اور پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔

9مئی 1998 کو ممبئی میں طلعت محمود کا انتقال ہوا، تاہم آج بھی ان کی غزلیں ایک خاص کیفیت پیدا کردیتی ہیں۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں