آپ آف لائن ہیں
ہفتہ یکم صفرالمظفر 1442ھ19؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آئی ایم ایف سے مذاکرات، وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسران شامل نہیں

انصار عباسی

اسلام آباد :…پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان طے بیل آئوٹ پیکیج کے معیار پر خود حکومت کے اندر ہی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک سینئر افسر کے مطابق حکومت پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی ادارے تین روزہ مذاکرات میں وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام موجود نہ تھے جس پر حیرانی کا اظہار کیا گیا کہ بات چیت کے حتمی مرحلے میں وزارت خزانہ کے حکام شریک کیوں نہیں ہوئے۔ وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسر نے بتایا ہے کہ پاکستان کے حق میں پیکیج کے لئے بڑی جدوجہد کی لیکن انہیں پاکستان کے کیس پر مؤثر دلائل دینے سے روک دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاک آئی ایم ایف مذاکرات کا معیار قابل رحم رہا کیونکہ اسلام آباد نے آئی ایم ایف جو چاہا اس پر تقریباً رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ یہ ایک مکمل خودسپردگی کی کیفیت ہے اس طرح یہ کوئی ’’بیل آئوٹ‘‘ نہیں بلکہ ’’سیل آئوٹ‘‘ پیکیج ہے۔ دوسرے ذریعہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی درحقیقت کچھ کڑی شرائط مانگ لیں جو معاہدہ طے پایا اس کی آئی ایم ایف کے واشنگٹن میں ہیڈکوارٹرز سے منظوری کا انتظار ہے۔ وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور اسٹیٹ بینک کے مقررہ نئے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے آئی ایم ایف سے حتمی مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت کی ۔ دونوں کا تقرر حال ہی میں ہوا ہے۔ گو کہ حکومت کے خیا ل میں ان کا تقرر انہیں حاصل مہارت اور اہلیت کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے لیکن میڈیا اور اپوزیشن کو ان تقرریوں پر سنگین اعتراضات ہیں۔ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے حوالے کردیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف ساڑھے چھ ارب ڈالرز کے تازہ بیل آئوٹ پیکیج پر مذاکرات رہے ہیں۔ ٹیکسیشن سے متعلق آئی ایم ایف کی سخت شرائط ہیں۔ توانائی کے شعبے میں سبسڈی واپس لینے پر بھی زور ہے۔ بیل آئوٹ پیکج پر مذاکرات 10مئی کو مکمل ہوجاتے تھے لیکن فریقین صلاح ومشورے کے بعد کسی قطعی سمجھوتے کے لئے آئی ایم ایف کو مزید دو روز رکنے پر قائل کر لیا ہے۔ آئی ایم ایف کا پاکستان سے مطالبہ ہے کہ آئندہ بجٹ میں 700ارب سے 730ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات کئے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے ساتھ ان میں استثنا واپس لئے جائیں۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ پاکستان نے لچکدار شرح مبادلہ کا آئی ایم ایف کا مطالبہ مان لیا ہے اس کے علاوہ سبسڈیز واپس لینے اسٹیٹ بینک سے قرضوں کی حد میں رکھنے اور نجکاری کا عمل دوبارہ شروع کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف نے ڈسکائونٹ ریٹ میں کم از کم دو فیصد اپ فرنٹ اضافے کا معاملہ دوبارہ چھیڑ دیا ہے جبکہ حقیقی شرح سود پہلے ہی 3.75فیصد ہے۔ دیگر اہم امور میں شرح مبادلہ کا معاملہ ہے۔ آئی ایم ایف ماڈل کے تحت امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر مزید 20فیصد کم کی جائے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک افسر نے بتایا کہ پاکستان کی پوزیشن ایسی نہیں ہے کہ وہ بارگین کرسکے اور اپنی شرائط منواسکے ، بات کرنے والے پاکستانی ہیں اور اپنے ملک کے مفاد کو ترجیح دیں گے ۔

اہم خبریں سے مزید