آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ساؤتھمپٹن میں جب پاکستانی کرکٹرز کو پتہ چلا کہ محمد عامر چکن پاکس میں مبتلا ہیں تو وہ خوف زدہ ہوگئے اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ مرض کسی اور کھلاڑی کو بھی لگ سکتا ہے، اس لئے محمد عامر کو فوری طور پر لندن میں ان کے سسرال منتقل کردیا گیا جہاں اُنہیں الگ تھلگ کمرے (قرنطینہ) میں رکھا گیا ہے اور ڈاکٹر ان کے مزید ٹیسٹ کررہے ہیں۔

چوں کہ چکن پاکس کا مرض ایک سے دوسرے کو لگ سکتا ہے جس کی وجہ سے خدشہ تھا کہ کوئی اور کھلاڑی بھی اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ اس لئے محمد عامر کو لندن میں ان کے سسرال کے گھر منتقل کردیا گیاہے۔

منیجر طلعت علی ملک نے جنگ کو بتایا کہ محمد عامر کی فٹنس کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ڈاکٹر ہی اس بارے میں حتمی رائے دے سکتے ہیں۔

پی سی بی ترجمان نے توقع ظاہر کی ہے کہ محمد عامر چار سے پانچ دن میں چکن پاکس سے صحت یاب ہوکر پاکستان ٹیم کو جوائن کرلیں گے۔

پی سی بی ذرائع کے مطابق محمد عامر کو اس وقت انگلینڈ کے خلاف ہونے والی سیریز سے بھی باہر نہیں کیا گیا ہے۔ محمد عامر نے اوول کا میچ کھیلا تھا جو بارش سے نامکمل رہا تھا جبکہ ساؤتھمپٹن میچ والے دن پتہ چلا کہ انہیں چکن پاکس ہوگئی ہے۔

کپتان سرفراز احمد نے بتایا تھا کہ فاسٹ بولر انفکیشن کی وجہ سے دوسرے ایک روزہ میچ میں بھی شرکت نہیں کرسکے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں محمد عامرکے میڈیکل ٹیسٹ کروائے جارہے ہیں جن کی رپورٹس کا ٹیم انتظامیہ کو انتظار ہے۔

واضح رہے محمد عامر کی ورلڈکپ کے 15 رکنی اسکواڈ میں شمولیت انگلینڈ کے خلاف کارکردگی سے مشروط تھی لیکن ابھی تک انہیں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع نہیں ملا ہے۔

ابھی تک یہ بات بھی سامنے نہیں آئی کہ ان کی بیماری کو ختم ہونے میں مزید کتنا وقت لگے گا۔

چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ایک دن پہلے کہا تھا کہ ہم نے ورلڈ کپ کے لئے ٹیم کا اعلان کیا ہوا ہے اور ضرورت پڑنے پر23مئی تک اس میں تبدیلی کی جائے گی۔ محمد عامر کا نام ورلڈ کپ کے پندرہ کھلاڑیوں میں شامل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ محمد عامر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے ورلڈکپ کے عبوری اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا تھا جبکہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ انگینڈ کے خلاف ہونے والی سیریز میں ان کی کارکردگی ورلڈکپ کے حتمی اسکواڈ میں ان کی شمولیت سے مشروط ہوگی۔

یاد رہے کہ چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل کے بعد سے محمد عامر کیریئر کی بدترین فارم میں نظر آئے اور 27سالہ بولر اس دوران 14میچوں میں کرائے گئے 101اوورز میں 92.60 کی اوسط سے صرف 5 وکٹیں لے سکے۔

ٹیم انتظامیہ نے محمد عامر کو کارڈف کے ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میں بھی شامل نہیں کیا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں