آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ حقیقت شاید ہی کچھ لوگ جانتے ہوں کہ پاکستان کا شمار دنیا میں خیرات کرنے والے سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے اور پاکستانی قوم غریبوں کی مدد میں جتنا بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے، دنیا میں اُس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ پاکستان میں زکٰوۃ اور خیرات دینے کا سلسلہ یوں تو سال بھر جاری رہتا ہے مگر رمضان المبارک میں اِس میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے اور لوگ اِس ماہِ مقدس میں دل کھول کر زکٰوۃ اور عطیات کی مد میں ایک بڑی رقم غریبوں اور مستحقین میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں صدقات، خیرات، عطیات اور زکٰوۃ کی مد میں سالانہ 400ارب روپے سے زائد رقوم مختلف فلاحی و سماجی اداروں، مذہبی تنظیموں، مدارس اور مساجد میں دی جاتی ہیں۔ پاکستان سینٹر فار فلنتھراپی کے سروے کے مطابق پاکستانیوں کی جانب سے انفرادی سطح پر دی جانے والی زکٰوۃ، فطرہ اور عطیات 240ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے جس کا 68فیصد زکٰوۃ اور خیرات براہ راست غریبوں، فلاحی اداروں اور پیشہ ور بھکاریوں جبکہ 32فیصد مساجد اور مدارس میں دیا جاتا ہے۔ ایک عالمی سروے کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا شمار خیرات کرنے والے شہروں میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہوتا ہے جہاں کے عوام سالانہ 75ارب روپے خیرات کی مد میں دیتے ہیں جبکہ صوبائی سطح پر صوبہ پنجاب میں سالانہ 113ارب روپے، سندھ میں 78ارب روپے، خیبرپختونخوا میں 38ارب روپے اور بلوچستان میں 10ارب روپے سے زائد زکٰوۃ، خیرات اور عطیات کی مد میں دیئے جاتے ہیں۔

حکومت بھی ہر سال یکم رمضان المبارک کو بینکوں کے کھاتے داروں کی رقوم سے ڈھائی فیصد زکٰوۃ کی مد میں کاٹتی ہے، جس سے حکومت کو تقریباً 4ارب روپے سے زائد حاصل ہوتے ہیں لیکن حکومت پر اعتماد نہ ہونے کے باعث بیشتر کھاتہ دار اپنی رقوم زکٰوۃ کی کٹوتی سے بچنے کیلئے رمضان المبارک کی آمد سے کچھ روز قبل ہی نکلوا لیتے ہیں یا پھر زکٰوۃ ڈکلیئریشن جمع کروا دیتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو حکومت کو زکٰوۃ کی مد میں تقریباً 3 گنا زائد یعنی 12ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔ حکومت پر اعتماد نہ ہونے کے سبب مخیر حضرات اپنی زکٰوۃ، خیرات اور عطیات سے براہ راست فلاحی اداروں، غریبوں اور مستحقین کی مدد کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں تاہم اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ نام نہاد فلاحی و سماجی تنظیمیں یتیموں، مسکینوں اور غریبوں کے نام پر حاصل کئے گئے عطیات اُن غریبوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے بجائے دہشت گردی اور انتہا پسندی یا پھر اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ انفرادی خیرات کے مقابلے میں پاکستان میں اداروں کا کارپوریٹ سوشل ریسپونسبلٹی (CSR)میں کردار بہت کم ہے۔ پاکستان میں کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے حکومتی ادارے سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)کے قانون کے مطابق ہر کمپنی کو اپنے منافع کا 2فیصد CSRپر خرچ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے مگر یا تو اِس پر عمل نہیں ہو رہا یا پھر منافع بخش ادارے اس مد میں خرچ کئے بغیر اپنی بیلنس شیٹ میں ظاہر کر کے ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہورہے ہیں۔ بھارت میں حال ہی میں ایک قانون منظور کیا گیا ہے جس کی رو سے ہر ادارے کیلئے اپنے منافع کا 2فیصد CSRکی مد میں خرچ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے جس کے باعث یہ ادارے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اپنے منافع کا 2فیصد خرچ کررہے ہیں جس سے بھارت میں غربت میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

نبی کریمﷺ کا فرمان ہے۔ ’’اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور زکٰوۃ و خیرات دینے سے انسان کے مال میں کمی نہیں ہوتی‘‘۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ معاشرہ اُسی وقت ترقی کرتا ہے جب اس کے صاحب حیثیت افراد اپنی دولت کا ایک حصہ نادار اور مستحق لوگوں پر خرچ کریں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی یہ امانتیں ذمہ داری کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے اصل حقداروں تک پہنچائیں اور اِس میں ہرگز خیانت نہ کریں کیونکہ زکٰوۃ، خیرات، عطیات اور صدقات صرف غریبوں اور محتاجوں کا حق ہے۔ پاکستان میں غربت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لاعلاج مرض میں مبتلا بچوں کی آخری خواہشات کی تکمیل کے میرے ادارے میک اے وش فائونڈیشن میں کینسر کے مرض میں مبتلا کچھ بچے ایسے بھی ہیں جن کی آخری خواہش رمضان المبارک اور عید کے موقع پر اچھے کھانے، نئے کپڑے اور جوتے پہننے کی ہے۔ ادارے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ رمضان المبارک اور عید کے موقع پر زیادہ سے زیادہ بچوں کی خواہشات کی تکمیل کی جائے تاکہ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔ میک اے وش فائونڈیشن کی ویب سائٹ www.makeawish.org.pkپر اُن بچوں کی خواہشات کی فہرست موجود ہے جو زندگی کے آخری ایام میں اپنی آخری خواہشات کی تکمیل کا انتظار کررہے ہیں۔ ایسے میں ہم اُن کی خواہشات کی تکمیل کرکے ان کے چہروں پر خوشیاں بکھیر سکتے ہیں۔ اپنے کالم کے توسط سے مخیر حضرات اور قارئین سے میری درخواست ہے کہ وہ میک اے وش فائونڈیشن کو رمضان المبارک میں دیئے جانے والے ڈونیشن میں یاد رکھیں اور اپنے عطیات میک اے وش فائونڈیشن پاکستان بینک الفلاح لمیٹڈ سائٹ ایریا برانچ کے اکائونٹ نمبر 0019-1003279804یا میک اے وش پاکستان کے ایڈریس 208-A،کلفٹن سینٹر، بلاک 5کلفٹن کراچی پر بھیجیں۔ اگر ملک کا ہر مخیر شخص یہ ذمہ داری لے کہ وہ ایک لاعلاج بچے کی آخری خواہش پوری کرے گا تو پاکستان کا کوئی بچہ اپنا خواب یا حسرت لئے اس دنیا سے رخصت نہیں ہو گا اور شاید ہمارا یہی عمل آخرت میں نجات کا سبب بن جائے۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہ فرمان ہے کہ ’’میری خوشنودی کے ساتھ میری مخلوق کی خوشی بھی حاصل کرو‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں