آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 19؍ صفرالمظفّر 1441ھ 19؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گلوٹن فری ڈائٹ ابتدائی طور پر ان کیلئے سامنے آئی جو پیٹ (Celiac disease )کی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ حال ہی میں بہت سے لوگ اس ڈائٹ کی طرف راغب ہوئے ہیں، جن میں لیڈی گاگا اور ملی سائرس جیسی سیلیبرٹیز بھی شامل ہیں اور ان دونوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ ڈائٹ ان کا وزن کم کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوئی ہے۔

گلوٹن کیا ہے؟

گلوٹن ایک مادہ ہے، جو پروٹین جیسا ہوتاہے۔ یہ خاص طور پر گند م اور جو میں بڑی مقدار میں موجودہوتاہے، دراصل روٹی یا ڈبل روٹی میں لوچ اور نرمی گلوٹن کی ہی وجہ سے آتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر غذا میں وٹامن ، کیلشیم اور منرلز ہوتے ہیں لیکن بعض غذائوں سے فائدے کے بجائے نقصان ہونےلگتاہے۔ مثلاً کچھ لوگوں کو ڈیری مصنوعات سے درد شقیقہ کی تو کسی کو میوے یا مچھلی کھانے سے جسم پر دانے نکلنے کی شکایت ہوجاتی ہے۔ یہ غذائیں ناقص نہیں لیکن ہمار ا جسم یا معدہ جب ان غذائوں کو قبول نہیں کرپاتا تو اس کا مختلف رد عمل سامنے آتاہے۔ اسی طرح کچھ لوگوں کو گلوٹن والی غذائوں سے الرجی کی شکایت ہوتی ہے۔ دراصل یہ لوگ گلوٹن کو ہضم نہیں کرپاتے۔ یہ بیماری موروثی بھی ہوسکتی ہے، یعنی ایک نسل سےدوسری نسل میں منتقل ہو سکتی ہے۔

گلوٹن سے سرچکرانا، الٹی اور متلی، پیٹ میں مروڑ اور شدید درد ہونا، قبض، بالوںکا تیزی سے گرنا، خون کی کمی (اینیمیا) ، ہیضہ، چھوٹی آنت میں انفیکشن اور وزن میں کمی جیسی بیماریاں سامنے آ سکتی ہیں۔ گلوٹن کی وجہ سےہونے والی بیماری سو میں سے ایک فرد کو ہوتی ہے لیکن اس میں علاج سے زیادہ احتیاط سے کام لیا جاتاہے۔

احتیاطی تدابیر

٭ایسے افراد جنھیں گلوٹن ہضم نہیں ہوتا ان کو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے اور اپنا گلوٹن فری چارٹ مرتب کروانا چاہئے۔

٭ مارکیٹ میں دستیاب پہلے سے تیار شدہ کھانے کھانے سے اجتناب کرنا چاہئے۔

٭■کھانے پینے کے معاملات میں احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔

٭■بازار میں دستیاب اسٹور شدہ گوشت اور سبزیوں کی جگہ تازہ اشیا استعمال کرنی چاہئیں۔

٭■جنک فوڈ سے پرہیز اور سلاد کا زیاد ہ استعمال کرناچاہیے۔

٭میدے، آٹے اور اس سے بنی اشیا میں گلوٹن زیادہ ہو تاہے، اسی لئے اس سے بنے پزا، ڈبل روٹی، کیک، بسکٹ، پاستہ اور پیسٹری وغیرہ کو غذا میں شامل نہیں کرنا چاہئے۔

٭ پیک شدہ کھانوں کے ڈبوں پر گلوٹن سے متعلق ہدایات کو لازمی پڑھنا چاہئے۔

گلوٹن فری ڈائٹ کیا ہے؟

ہماری غذا میں گندم اور جو بہت زیادہ شامل ہوتا ہے،جس سے ہمیں نشاستے کی بڑی مقدار حاصل ہوتی ہے، لیکن اگر ہم گلوٹن کی وجہ سے یہ غذائیں نہیں کھا رہے ہیں تو پھر ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگاکہ ہم گندم اوردیگر اناج کا متبادل قرار دی جانے والی غذائیں استعمال کریں تاکہ مکمل غذائیت سے محروم نہ رہیں۔ ویسے تو مارکیٹ میں گلوٹن سے پاک غذائیں اور مصنوعات بآسانی دستیاب ہوتی ہیں لیکن یہ قدرے مہنگی ہوتی ہیں، اسی لیے آپ کی کوشش ہونی چاہئے کہ گھر میں موجود اشیا سے گلوٹن سے پاک غذائیں تیار کی جائیں۔ اگرچہ گلوٹن فری آٹے سے بسکٹ اور روٹی بنانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ گلوٹن نہ ہونے کی وجہ سے اس میں لوچ پیدا نہیں ہوتی لہٰذا جئی، اراروٹ اور چاول کا آٹا استعمال کرکے بہترین بسکٹ بنا کر کھائے جاسکتے ہیں۔

گندم کا متبادل باجرہ، مکئی اور چاول کا آٹا بھی ہوسکتے ہیں جن سے نان خطائی ، روٹی یا نان بنا کر اپنی خوراک کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح بیسن یعنی چنے کے آٹے سے روٹی، پراٹھا یا پین کیک تیار کیے جاسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ انڈے، دودھ ، مکھن اور دہی یعنی ڈیری مصنوعات کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے پروٹین کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے۔لوبیا، خشک میوے، بیجوں، تازہ سبزیاںاور پھل سے مختلف ڈشز بنائی جاسکتی ہیں، جو کہ گلوٹن فری ہوتی ہیں۔

اس ضمن میں خیال رکھیں کہ اگر آپ خود گلوٹن فری کھانے بنارہے ہیں تو اس کے لیے استعمال ہونے والے برتن اور مشینوں کو دوسرے کھانوں کی تیاری کیلئے استعمال نہ کریں۔ ریڈی ٹو کک اورفریز کیے گئے کھانوں کو کم سے کم استعمال کرنا چاہئے۔

گلوٹن فری ڈائٹ کیلئے مزید مشورے

٭ روایتی اناج کے بجائے چاول یا مکئی کا لطف اٹھائیں۔

٭اپنے آپ کو مکمل غذایت سے بھرپور رکھنے کے لئے چاول اور آلو پر مبنی کھانوں کا استعمال کریں۔

٭اپنی بھوک کو پورا کرنے کے لئے گلوٹن فری پاستا ٹرائی کریں۔

٭پاپ کارن بھی ایک عمدہ انتخاب ہے ۔

٭مختلف ڈپس کے ساتھ مکئی اور چاول سے بنے کیک اور چپس ٹرائی کریں۔

٭اگر آپ کو کیک اور کوکیز کی کمی محسوس ہوتی ہے، تو آپ کینڈیز سے دل بہلائیں۔

٭مارش میلوز اور سخت کینڈیز اکثر گلوٹن سے پاک ہوتی ہیں۔

٭ قریبی بیکری جاکردیکھیں، ہوسکتا ہے کہ وہاں گلوٹن سے پاک کیک اور پیسٹریاں دستیاب ہوں۔ 

صحت سے مزید