آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنا آپ مٹا ڈالا اس بیکار سی خواہش میں

میرا ذکر کتابوں میں ہو میراذکر رسالوں میں

(شبنم شکیل)

کچھ لوگ دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اپنے نقوش ہمیشہ کے لیےچھوڑ جاتے ہیں۔ ایک عہد بن کر، ایک خوبصورت ماضی بن کر اور ماضی بھی ایسا، جو کہ تحریروں کی صورت مستقبل کے لیے راہیں ہموار کردے۔ رضیہ بٹ اردو ادب کا ایک ایسا ہی نام ہیں، جن کے ناول آج بھی قارئین کے دل ودماغ پر اپنا تاثر قائم کیے ہوئے ہیں۔ زمانہ طالب علمی کی بات کریں تو کالج میں پڑھنے والی اردو ادب سے متاثر زیادہ تر طالبات رضیہ بٹ کے ہی ناول پڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔ رضیہ بٹ کا ناول’’ بچھڑے لمحے‘‘ ان کی حقیقی زندگی سے نزدیک ترین محسوس ہوتا ہے۔ ان کے ناولوں کی خاصیت یہ تھی کہ وہ ان میں زندگی کی تلخ حقیقت کے عنصر کو یوں نمایاں کرتیں تھیں کہ ایک طرف معاشرتی ناہمواریوں اور اداس لمحوں کا تاثر قائم رہتا تو دوسری جانب چلتے پھرتے کرداروں اور الفاظ کی اثرانگیزی بھی برقرار رہتی تھی ، اسی سبب رضیہ بٹ کے ناول مقبول سے مقبول ترین ہوتے چلے گئے۔ آج اردو کی اس عظیم اور منفرد ناول نگار کی 95ویں سالگرہ کے موقع پران کی زندگی کا کچھ تذکرہ کرتے ہیں۔

ابتدائی حالاتِ زندگی

رضیہ بٹ 19مئی 1924ء کوراولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا تعلق کشمیر کے علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ اصل نام رضیہ نیاز بٹ تھالیکن آپ رضیہ بٹ کے نام سے مشہور ہوئیں۔ آپ نے اپنا زیادہ تر بچپن پشاور میں گزارا۔ علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہونے کے سبب آپ کو بچپن سے ہی اپنی تخلیقی و ادبی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے مواقع حاصل رہے۔ آپ نے بچپن میں ہی مضمون نویسی شروع کردی تھی۔ انتہائی کم عمری میں معیاری مضامین پر تحریر آپ کے اساتذہ کو حیران کردیتی تھی۔ جوش قلم اور ادب سے لگاؤ دیکھ کر اساتذہ کو آپ میں مستقبل کی نامور شخصیت کی جھلک نظر آتی تھی۔

ادبی کیریئر

والد کی حوصلہ افزائی کی بدولت رضیہ بٹ سے متعلق ان کے اساتذہ کی پیشگوئی کچھ عرصے بعد ہی درست ثابت ہوگئی۔ مستقبل کی اس عظیم ناول نگار کا نام سب سے پہلے1940ء کے ادبی جریدے میں شائع ہوا جبکہ 1946ء میں رضیہ بٹ کا پہلا ناول ’’نائلہ‘‘ شائع ہوا۔1946ء میں ہی رضیہ بٹ ازدواجی بندھن میں بندھ گئیں لیکن اس بندھن کو انھوں نے اپنے کیریئر کی بیڑیاں نہیں بننے دیا اور کچھ وقت بعد ہی ناول نگاری شروع کردی۔ آپ نے اپنے ادبی کیریئر کے دوران تقریباً50ناول اور 350سے زائد کہانیاں لکھیں ۔آپ کے سینکڑوں مضامین کو ایک کتاب کی صورت بھی ترتیب دیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نےبیشتر ریڈیو پلے بھی لکھے۔

خواتین کی پسندیدہ ناول نگار

رضیہ بٹ نے اپنے ناولوں میں عورت کے کردار اور اس کے فرائض و ذمہ داریوں کو خاص اہمیت دی۔ اپنے کئی ناولوں میں انھوں نے عورت کوناولوں کا مرکزی کردار بنایا اور ان کے مسائل پر بحث و مباحثہ کیا، جس کی بازگشت برسوں بعد بھی سنائی دیتی ہے اور ہر دور میں سنائی دیتی رہے گی۔ ناول نگاری کو ایک خاص رنگ اور مقام دینے والی رضیہ بٹ نے فکشن نگاری میں بھی ایک خاص مقام حاصل کیا، جس کے باعث انھیں خواتین میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ناول نگار کا درجہ حاصل ہوا۔ اردوادب بالخصوص ناول نگاری میں ناقابل فراموش خدمات انجام دینے والی رضیہ بٹ نے تحریک پاکستان میں بھی اپنے تئیں بھرپور کردار ادا کیا۔

ناولوں پر بننے والی فلمیں اور ڈرامہ سیریل

آپ کی لکھی گئی کہانیوں پر بیشتر ڈرامہ سیریل اور فلمیں تخلیق کی گئیں، جن میں آپ کے مشہور ناول نائلہ، گل بانو،صاعقہ اور انیلا قابل ذکر ہیں۔ ان کی دیگرکہانیوں میں آئینہ، ریشم، رفاقتیں کیسی، میں کون ہوں اور فاصلے شامل ہیں۔

گہرے مطالعہ کا شوق

رضیہ بٹ زمانہ طالب علمی کے دوران مطالعہ میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں اور اس وقت کے تمام مشہور لکھاریوں جیسے کہ سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، صلاح الدین اور عصمت چغتائی کو پڑھ چکی تھیں۔ وہ فارسی ناول کا ترجمہ بھی دلچسپی سے پڑھا کرتی تھیں لیکن انھوں نے کبھی انگریزی کتابیں یا نظمیں پڑھنے میں دلچسپی ظاہر نہ کی۔ وہ آپ بیتی پڑھنے کی دلدادہ تھیں، اس حوالے سے ان کا نظریہ تھا کہ خود نوشت آپ بیتی کسی بھی انسان کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے ۔

وقت کے ساتھ ساتھ رضیہ بٹ نے مطالعہ کرنا چھوڑ دیا تھا، جس کی بنیادی وجہ ان کی آنکھوں کی بینائی تھی۔ کتب بینی نہ کرنے کے باوجود مشہور و معروف ناول تخلیق کرنے کے حوالے سے رضیہ بٹ کا کہنا تھا،’’کمزور بینائی کےباوجود تیزی سے ترقی کرتے میڈیا نے میرے لیے ناول نگاری کو آسان بنادیا۔ الیکٹرانک میڈیا پر دکھائے جانے والے ثقافتی اور ادبی شوز میرے لیے کتابوں کا بہترین متبادل ثابت ہوئے، جنہیں دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا جو خوراک ایک لکھاری کو کتابوں سے حاصل ہوتی ہے، وہ مجھے ان شوز سے حاصل ہورہی ہو‘‘۔

اردو کی یہ مشہور ناول نگار اور کہانی نویس طویل علالت کے بعد 89برس کی عمر میں 4اکتوبر 2012ء کو خالق حقیقی سے جاملیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں