آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آج بیس واں روزہ اور ماہِ صیام کے دوسرے بابرکت عشرے کا آخری دن ہے۔ غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی تیسرے اور آخری’’ جہنّم سے نجات‘‘ کے عشرے کا آغاز ہوجائے گا۔ یوں تو پورا ماہِ صیام ہی رحمتوں، برکتوں سے معمور ہے، مگر اس ماہِ مقدّس کے اِن آخری ایّام کو سب سے زیادہ فضیلت و اہمیت حاصل ہے۔ اس عشرے میں ایک ہزار راتوں سے افضل’’ لیلۃ القدر‘‘ ہے،جس میں قرآنِ پاک نازل ہوا،تو اِسی عشرے میں دنیا بھر کے لاکھوں فرزندانِ اسلام نبی کریمﷺ کی پیروی میں اعتکاف بھی بیٹھتے ہیں، جو شوال کا چاند نظر آنے تک جاری رہتا ہے۔یوں تو نبی کریمﷺ کا راتوں کو اُٹھ کر عبادت کرنے کا معمول تھا اور آپﷺ نمازِ تہجّد میں اِس قدر طویل قیام فرماتے کہ پاؤں مبارک پر وَرم آجاتا، تاہم بہت سی روایات میں یہ آیا ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں آپﷺ کی عبادات بہت زیادہ بڑھ جایا کرتی تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادات میں جتنی محنت رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کرتے تھے، اتنی کبھی نہیں کرتے تھے۔ “ (مسلم شریف( اسی طرح ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ’’ جب ( رمضان کا)آخری عشرہ شروع ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر بیدار رہتے، کمرکس لیتے اور اپنے گھر والوں کو بھی(عبادت کے لیے) جگاتے ۔‘‘ (بخاری و مسلم) اس حدیثِ مبارکہؐ سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ گھر کے بڑوں کو نہ صرف یہ کہ خود اِن ایّام میں کثرت سے عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے، بلکہ گھر کے دوسرے افراد کو بھی شب بیداری کی ترغیب دینی چاہیے تاکہ وہ بھی اپنے دامن کو اس عشرے کے فیوض و برکات سے منور کر سکیں، تاہم اس مقصد کے لیے لڑائی جھگڑے، زور زبردستی یا مارپیٹ کی بجائے گھر میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کے فضائل اور نبی کریم ﷺ کے معمولاتِ مبارکہ کا بار بار ذکر کیا جائے، تو اس سے بچّوں اور گھر کی خواتین میں بھی عبادات کا شوق پیدا ہوگا۔

عظمت والی رات

روایات کے مطابق بیش تر آسمانی کُتب اور صحائف رمضان المبارک میں نازل فرمائے گئے اور قرآنِ پاک بھی اسی مہینے کی ایک رات میں نازل فرمایا گیا، جو ایک ہزار راتوں سے افضل ہے۔ارشادِ باری تعالی ہے’’ہم نے اِس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا ۔ اور تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر، ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور رُوح( یعنی جبرائیلؑ) اُس میں اپنے ربّ کے اِذن سے ہر حکم لے کر اُترتے ہیں۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے، طلوعِ فجر تک۔‘‘ (سورۃ القدر)سورۂ الدخان میں ارشاد فرمایا’’’’ قسم ہے اِس کتاب کی، جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔ ہم نے اِسے ایک مبارک رات میں نازل کیا۔“ اس رات میں قرآنِ پاک نازل کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس حوالے سے مفتی محمّد تقی عثمانی نے اپنی کتاب’’ علوم القرآن‘‘ میں لکھا ہے کہ’’ لوحِ محفوظ سے اِس( قرآنِ پاک) کا نزول دو مرتبہ ہوا ہے ۔ ایک مرتبہ یہ پورے کا پورا آسمانِ دنیا کے’’ بیتِ عزّت‘‘ میں نازل کر دیا گیا تھا، بیتِ عزّت (جسے البیت المعمور بھی کہتے ہیں ) کعبۃ اللہ کے محاذات میں آسمان پر فرشتوں کی عبادت گاہ ہے ، یہ نزول لیلۃ القدر میں ہوا تھا ، پھر دوسری مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر تھوڑا تھوڑا کر کے حسبِ ضرورت نازل کیا جاتا رہا ، یہاں تک کہ 23 سال میں اِس کی تکمیل ہوئی ۔ نزولِ قرآن کی یہ دو صورتیں خود قرآنِ کریم کے اندازِ بیان سے بھی واضح ہیں ، اس کے علاوہ نسائی،ؒ بیہقیؒ اور حاکمؒ وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے متعدّد روایات نقل کی ہیں، جن کا خلاصہ یہی ہے کہ قرآنِ کریم کا پہلا نزول یک بارگی آسمانِ دنیا پر ہوا اور دوسرا نزول، بہ تدریج آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر۔اِس پر تقریباً اتفاق ہے کہ قرآنِ کریم کا دوسرا تدریجی نزول، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے قلبِ مبارک پر ہوا، اُس کا آغاز بھی صحیح قول کے مطابق لیلۃ القدر میں ہوا، لیکن یہ رات رمضان کی کون سی تاریخ کی تھی ؟ اس بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہی جا سکتی۔ بعض روایات سے رمضان کی سترہویں، بعض سے انیسویں اور بعض سے ستائیسویں شب معلوم ہوتی ہے۔‘‘اس ضمن میں مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا ’’تفہیم القرآن‘‘ میں کہنا ہے کہ’’ اِس رات میں قرآن نازل کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ اِس رات پورا قرآن حاملینِ وحی فرشتوں کے حوالے کر دیا گیا، اور پھر واقعات اور حالات کے مطابق وقتًا فوقتًا ۲۳ سال کے دَوران جبرائیل علیہ السّلام، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی آیات اور سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کرتے رہے۔ یہ مطلب ابنِ عباس ؓ نے بیان کیا ہے ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتدا اِس رات سے ہوئی۔ یہ امام شَعبِیؒ کا قول ہے، اگرچہ اُن سے بھی دوسرا قول وہی منقول ہے جو ابنِ عباسؓ کا اوپر گزر ا ہے۔ بہرحال، دونوں صورتوں میں بات ایک ہی رہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کے نزول کا سلسلہ اِسی رات سے شروع ہوا ۔‘‘نیز، قرآنِ پاک نے اس شب کو’’ شبِ قدر‘‘ کہا ہے، جس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اس رات تقدیر کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ مفتی محمّد شفیع ؒ لکھتے ہیں’’ سال بھر کے معاملات جو سارے کے سارے ہی حکمت پر مبنی ہوتے ہیں، جس طرح انجام دینے اللہ کو منظور ہوتے ہیں، اس طریقے کو متعیّن کرکے اُن کی اطلاع متعلقہ فرشتوں کو کرکے اُن کے سپرد کر دیے جاتے ہیں۔ اور نزولِ قرآن سب سے زیادہ حکمت والا کام تھا، اس لیے اس کے لیے بھی یہی رات منتخب کی گئی۔‘‘( معارف القرآن)’’ قدر کے معنی بعض مفسّرین نے تقدیر کے لیے ہیں، یعنی یہ وہ رات ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ تقدیر کے فیصلے نافذ کرنے کے لیے فرشتوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ اس کی تائید سُورہ الدُخان کی یہ آیت کرتی ہے” اُس رات میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے۔“جب کہ امام زہریؒ کہتے ہیں’’ قدر‘‘ کے معنی عظمت و شرف کے ہیں، یعنی وہ بڑی عظمت والی رات ہے۔( دراصل)شبِ قدر کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی مقصود ہیں۔ ایک یہ کہ یہ وہ رات ہے، جس میں تقدیروں کے فیصلے کر دیے جاتےہیں، یا بالفاظِ دیگر یہ کوئی معمولی رات عام راتوں جیسی نہیں ہے، بلکہ یہ قسمتوں کےبنانے اور بگاڑنے کی رات ہے۔ اِس میں اِس کتاب کا نزول محض ایک کتاب کا نزول نہیں ہے، بلکہ یہ وہ کام ہے ، جو نہ صرف قریش ، نہ صرف عرب، بلکہ دنیا کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا۔ یہی بات سورہ الدُخان میں بھی فرمائی گئی ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ یہ بڑی قدر و منزلت اور عظمت و شرف رکھنے والی رات ہے، اور آگے اس کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ یہ ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اِس سے کفّارِ مکّہ کو گویا متنبّہ کیا گیا ہے کہ تم اپنی نادانی سے حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کی ہوئی اِس کتاب کو اپنے لیے ایک مصیبت سمجھ رہے ہو اور کوس رہے ہو، حالاں کہ جس رات اِس کے نزول کا فیصلہ صادر کیا گیا، وہ اِتنی خیر و برکت والی تھی کہ کبھی انسانی تاریخ کے ہزار مہینوں میں بھی انسان کی بھلائی کے لیے وہ کام نہیں ہوا تھا، جو اِس رات میں کر دیا گیا۔‘‘( خلاصۂ تفہیم القرآن) احادیثِ مبارکہؐ میں شبِ قدر کی تلاش اور اس رات میں عبادت کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جوشخص شبِ قدر میں ایمان اور اجر و ثواب کی نیّت سے عبادت کرے، اُس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔”(صحیح بخاری) حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا’’جب شبِ قدر آتی ہے، تو حضرت جبرائیلؑ فرشوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر آتے ہیں اور ملائکہ کا یہ گروہ ہر اُس بندے کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے، جو کھڑے یا بیٹھے اﷲ تعالیٰ کے ذکر اور عبادت میں مشغول ہو۔‘‘ایک روایت کے مطابق، فرشتے ان بندوں سے مصافحہ بھی کرتے ہیں۔

شبِ قدر کون سی رات…؟؟

اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت اور حکمت کے تحت شبِ قدر کا تعیّن نہیں فرمایا کہ وہ بابرکت رات، رمضان کی کس تاریخ کو ہوتی ہے۔ بخاری شریف کی ایک حدیثِ مبارکہؐ کے مطابق، رسول اللہﷺ کو شبِ قدر کے بارے میں بتا دیا گیا تھا، آپﷺ صحابہ کرامؓ کو آگاہ کرنے کے لیے حجرے سے باہر تشریف لائے، تو دو افراد کسی بات پر آپس میں جھگڑ رہے تھے، اس بنا پر شبِ قدر کی تعیّن کا علم مخفی کر دیا گیا۔ اس روایت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ باہمی جھگڑے فساد کی نحوست اس قدر سنگین ہے کہ اس کی وجہ سے بسا اوقات نعمتیں تک چھین لی جاتی ہیں، جیسے ہم شبِ قدر کی تاریخ کے تعیّن سے محروم کر دیے گئے۔ احادیثِ مبارکہؐ میں اس بابرکت رات کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں( اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں)تلاش کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے فرمایا’’شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘( بخاری شریف)بہت سے صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دین نے اپنے تجربات اور مشاہدے کی بنیاد پر بھی شبِ قدر کا مختلف راتوں میں ہونے کا ذکر کیا ہے۔ حضرت عُمرؓ، حضرت اُبی بن کعبؓ، حضرت ابو ذر غفّاریؓ، حضرت حذیفہؓ، حضرت امیر معاویہ ؓ،حضرت ابنِ عمر ؓاور حضرت ابنِ عباسؓ وغیرہ سے متعلق روایات میں آیا ہے کہ وہ ستائیسویں رمضان ہی کو شبِ قدر سمجھتے تھے، اسی طرح بہت سے بزرگانِ دین نے اسی تاریخ کو شبِ قدر پانے کے بارے میں لکھا ہے۔شاید اسی لیے مسلم دُنیا کے ایک بڑے حصّے میں ستائیسویں شب ہی کو عام طور پر شبِ قدر سمجھا جاتا ہے اور اس رات بڑے اہتمام سے شب بیداری کی جاتی ہے۔تاہم،اصل بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی جانب سے شبِ قدر کا تعیّن نہیں کیا گیا، اس لیے ہمیں آخری عشرے کی تمام ہی طاق راتوں میں نوافل، تلاوت ، درود شریف اور دیگر ذکر و اذکارمیں مصروف رہنا چاہیے کہ نامعلوم وہ بابرکت رات ، کون سی ہو۔شبِ قدر کی عبادات میں توبہ و استغفار کی ایک خاص اہمیت ہے کہ اس موقعے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت پورے جوبن پر ہوتی ہے اور پھر یہ بھی کہ رمضان کا آخری عشرہ تو ہے ہی جہنّم سے نجات کا عشرہ۔ ان ایّام میں جہنّم سے نجات کے پروانے جاری ہوتے ہیں اور کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ، جن کے حصّے میں یہ خوش خبری آئے۔ سو، اس بابرکت رات میں اپنے ربّ کے حضور عاجزی و انکساری سے گڑگڑائیے، کیسی شرم اور کیسی جھجک؟ ضبط کے سارے بندھن توڑ دیجیے،آپ ہوں، چشمِ تر ہو، شرمندہ دِل ہو اور آپ کا ربّ ِ کریم ہو۔ اُس سے مناجات کیجیے، اپنے گناہوں کا اعتراف اور آیندہ کے لیے کچھ وعدے ۔ اُس کے سامنے اپنا دِل کھول کر رکھ دیں، اپنے غم، پریشانیاں، مشکلات سب اُس سے کہہ دیجیے کہ اُس کے علاوہ ہے ہی کون، جو دُکھی دِلوں کی فریاد سُنتا ہو؟ کون ہے؟ جو اُس سے بڑھ کر معاف کرنے والا ہو۔ کون ہے؟ جو خالی دامن بھرتا ہو، وہی دست گیر ہے، مشکلیں حل کرنے والا ہے، مُرادیں پوری کرنے والا ہے، تو ان راتوں کو اس سے راز ونیاز کے نام کردیجیے کہ یہی بندۂ مومن سے مطلوب ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا’’ اگر مجھے شبِ قدر کا علم ہوجائے، تو مَیں کیا دُعا کروں؟‘‘اس پر نبی کریمﷺ نے فرمایا’’اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوّ کَرِیْمُ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَا عْفُ عَنّی‘‘ اے اللہ! تُو بہت معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، تو مجھے بھی معاف فرما دے۔‘‘( ترمذی)

اعتکاف…ایک خاص عبادت

رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ایک اہم خصوصیت اعتکاف بھی ہے۔ گو کہ اعتکاف کبھی بھی کیا جاسکتا ہے، مگر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف، نبی کریمﷺ کی ایک ایسی سُنّتِ مبارکہ ہے کہ آپﷺ نے کبھی اس کا ناغہ نہیں کیا۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ’’ رسول اللہﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے، وفات تک آپﷺ کا یہ معمول رہا۔ آپ ﷺ کے بعد آپﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ اہتمام سے اعتکاف کرتی رہیں۔‘‘ (بخاری ومسلم)حضرت ابو ہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ’’ نبی کریمﷺ ہر رمضان میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ جس سال آپﷺ کا انتقال ہوا، آپﷺ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔‘‘(بخاری) آپﷺ نے اعتکاف کرنے کی بہت ترغیب بھی دی ہے، چناں چہ حضرت عبداللہ بن عبّاسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اعتکاف کرنے والے کے لیے فرمایا’’ وہ (مسجد میں رہنے کی وجہ سے) گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کے لیے نیکیاں اتنی ہی لکھی جاتی ہیں، جتنی کرنے والے کے لیے (یعنی اعتکاف کرنے والا بہت سے نیک اعمال مثلاً جنازے میں شرکت، مریض کی عیادت وغیرہ سے رُکا رہتا ہے، لہٰذا ان اعمال کا اجروثواب اعتکاف کرنے والے کو کیے بغیر بھی ملتا رہتا ہے)۔‘‘(ابنِ ماجہ)پھر یہ کہ اعتکاف کے فضائل اور برکتیں صرف مَردوں ہی کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ خواتین بھی ان سے فیض یاب ہو سکتی ہیں، جیسا کہ اُمہات المومنینؓ بھی اعتکاف کیا کرتی تھیں، تاہم خواتین مساجد کی بجائے گھرکے کسی کونے یا کمرے میں اعتکاف میں بیٹھتی ہیں۔چوں کہ اعتکاف میں بیٹھنے کے لیے کئی روز پہلے سے تیاری کرنا پڑتی ہے اور اب وقت بہت ہی کم رہ گیا ہے کہ خواہش مند افراد آج ہی اعتکاف میں بیٹھیں گے، تاہم جو افراد دفتری مصروفیات یا کسی اور وجہ سے پورے دَس روز تک’’ سُنّت اعتکاف‘‘ نہیں کرسکتے، تو وہ بھی اپنی سہولت کے مطابق مختصر مدّت کے نفلی اعتکاف سے تو فائدہ اُٹھا ہی سکتے ہیں۔ یوں پورا عشرہ نہ سہی، کم ازکم اس کا کچھ حصّہ تو عبادات میں گزارنے کا موقع میسّر آجائے گا اور یہ بھی اِس مصروف دَور میں کم نعمت نہیں۔  

سنڈے میگزین سے مزید