• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میزبان:محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

رپورٹ:طلعت عمران

عکّاسی:اسرائیل انصاری

ہمارے ہاں نان فائلر کو تھوڑا سا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے اور اس کی جان چھوٹ جاتی ہے، کرنسی کی قدر میں کمی ان ممالک کے لیے بہتر ثابت ہوتی ہے کہ جن کی متوازی معیشت چھوٹی ہو،

آمدنی اٹھنی ..... خرچہ روپیہ
اشفاق تولہ
رکن، ٹیکس ایڈوائزری کاؤنسل

 کرنسی کی قدر کو مستحکم رکھنا حکومت وقت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے،اسد عمر کو قربانی کا بکرابنایا گیا،شرحِ سود بڑھا کر معیشت کو قتل کر دیا گیا، اس وقت عوام مہنگائی کی وجہ سے بلبلا رہے ہیں،سب سے بڑی غلطی دسمبر 2018ء میں مفتاح اسمٰعیل نے روپے کی قدر کم کر کے کی،موجودہ حالات میں عبدالحفیظ پاشا ایک اچھی چوائس ہو سکتے ہیں، کسی اور ملک کا ماڈل کاپی کر کے معیشت کو پروان نہیں چڑھایا جا سکتا،جب تک ٹیکس بیس نہیں بڑھائیں گے، تو مسئلہ حل نہیں ہو گا، ایف بی آر افسران کے صوابدیدی اختیارات کم کر دیے جائیں اور اگر ٹیکس ریفارم کمیشن کی رپورٹ پر 50فیصد بھی عمل ہو جائے، تو سارے مسائل حل ہو جائیں گے

اشفاق تولہ

موجودہ ٹیکس سسٹم غیر منصفانہ ہے اور اس کی وجہ سے شہری ٹیکس نیٹ میں آنا نہیں چاہتے،ٹیکس ریفارم کمیشن کی تجاویز پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا گیا، ایف بی آر نے آسان حل یہ نکالا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس سمیت دوسرے ان ڈائریکٹ ٹیکسز لگا دیے اور خود ٹیکس جمع کرنے کے بہ جائے بزنس کمیونٹی سے ساری امیدیں وابستہ کر لیں،

آمدنی اٹھنی ..... خرچہ روپیہ
انجم نثار
سابق صدر، کراچی چیمبر آف کامرس
اینڈ انڈسٹریز

یہ ایف بی آر کی ناکامی ہے،ایگری کلچر سیکٹر سے بھی ٹیکس وصول کرنا ہو گا، بجٹ سےقبل معاشی ٹیم میں ردوبدل درست عمل نہیں،ایف بی آر میں اعلیٰ سطح پر صوابدیدی اختیارات ہونے چاہئیں، تاکہ لوگوں میں کچھ ڈر خوف ہو، لیکن نچلے افسران کو صوابدیدی اختیارات حاصل نہیں ہونے چاہئیں،کرنسی کی قدر میں 30فیصد کمی کی، لیکن اس کے نتائج اچھے نہیں نکلے، حکومت کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرے، ٹیکس ریفارمز کرے، نئے ٹیکسز عاید کرنے کے بہ جائے عوام کو ریلیف دے، زرعی آمدنی پر ٹیکس عاید کیا جائے، تاکہ صوبوں کو اس میں سے حصہ ملے اور وفاق پر بوجھ کم ہو

انجم نثار

3فیصد ٹیکس فائلرز مجموعی ٹیکسز کا تقریباً 60فیصد ادا کرتے ہیں، ٹیکس دینے والا ٹیکس دینا نہیں چاہتا، ٹیکس لینے والا ٹیکس لینا نہیں چاہتا اور اس کی مختلف وجوہ ہیں،

آمدنی اٹھنی ..... خرچہ روپیہ
عابد شعبان
رکن، ٹیکس ریفارم کمیشن

 ہماری ٹیکس پالیسی نے مینوفیکچرنگ انڈسٹری کا گلا دبا کر رکھ دیا ،ہمارے ملک میں ٹیکس قوانین اردو میں ترجمہ کیوں نہیں ہوتے،ماضی میں پانچ ایمنسٹی اسکیمز متعارف کروائی گئیں، جس سے بعض لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور بعض فائدہ نہ اٹھا سکے، مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کچھ کامیاب ہو گی اور کچھ ناکام،آج کل آٹومیشن بہت عام ہو چکی ہے اور ٹیکس کلیکشن کے لیے ہمیں اسے استعمال کرنا چاہیے، ایف بی آر کو ٹیکس بیس بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، پاکستان کی بقا ہی ٹیکس بیس میں اضافے میں پوشیدہ ہے

عابد شعبان ایڈووکیٹ

میرا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ عوام اور ایف بی آر میں اعتماد کا بہت زیادہ فقدان ہے۔

آمدنی اٹھنی ..... خرچہ روپیہ
خالد امین
چانسلر، انڈس یونی ورسٹی

اگر شہریوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ انہیں ریلیف اور سہولتیں فراہم کی جائیں گی، تو وہ یقیناً ٹیکس دینے پر تیار ہو جائیں گے۔ اس وقت عوام جن مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، اس سے پہلے شاید کبھی نہیں گزرے۔ محصولات میں اضافے کے لیے ایف بی آر کو عوام کا اعتماد بحال کرنا ہو گا،فیس پر عاید ٹیکس ختم کرنا چاہیے

خالد امین


ان دنوں سیاسی سے زیادہ معاشی خبریں زبان زدِ عام ہیں اور ملک کی معاشی صورتحال تشویش ناک ہے۔ آئے روز ہمارا بجٹ خسارہ بڑھ رہا ہے، جسے کم کرنے کے لیے آمدنی بڑھانے کی ضرورت ہے اور آمدنی بڑھانے کا ایک ذریعہ ٹیکس وصولی بھی ہے۔ گزشتہ دنوں انڈس یونی ورسٹی، کلفٹن کیمپس میں ’’پاکستان میں ٹیکس سسٹم کیسے بہتر کیا جائے؟‘‘ کے موضوع پر جنگ فورم منعقد کیا گیا، جس میں پاکستان کے ٹیکس میکینزم، ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز میں فرق، مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے وابستہ توقعات، ماضی میں متعارف کروائی گئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیمز کے نتائج، حکومت کی نئی معاشی ٹیم سے وابستہ امیدوں، آئی ایم ایف کی مبینہ شرائط کے عوام پر اثرات، آیندہ مالی سال کے بجٹ اور عوام پر بوجھ ڈالے بغیر محصولات میں اضافے سے متعلق جاننے کی کوشش کی گئی۔اس موقع پر ٹیکس ایڈوائزری کائونسل کے رکن، اشفاق تولہ، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سابق صدر، انجم نثار، ٹیکس ریفارم کمیشن کے رکن، عابد شعبان ایڈووکیٹ اور انڈس یونی ورسٹی کے چانسلر، خالد امین نے اظہار خیال کیا۔ فورم میں ہونے والی بات چیت ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

آمدنی اٹھنی ..... خرچہ روپیہ
انڈس یونی ورسٹی، کلفٹن کیمپس میں ’’پاکستان میں ٹیکس سسٹم کیسے بہتر کیا جائے؟‘‘ کے موضوع پر منعقدہ جنگ فورم کے شرکا کا ایڈیٹر جنگ فورم اکرم خان کے ساتھ گروپ فوٹو

جنگ :عوام پر بوجھ ڈالے بغیر محصولات میں اضافہ کیسے ممکن ہے؟

خالد امین :میرا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ عوام اور ایف بی آر میں اعتماد کا بہت زیادہ فقدان ہے۔ اگر شہریوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ انہیں ریلیف اور سہولتیں فراہم کی جائیں گی، تو وہ یقیناً ٹیکس دینے پر تیار ہو جائیں گے۔ اس وقت عوام جن مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، اس سے پہلے شاید کبھی نہیں گزرے۔ محصولات میں اضافے کے لیے ایف بی آر کو عوام کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔

جنگ :کیا طلبہ کی فیس پر عاید ٹیکسز میں بھی ریلیف کی ضرورت ہے؟

خالد امین :جی بالکل۔ مہنگائی میں اضافے کے باعث والدین عام نجی اسکولوں، کالجز اور جامعات کی فیس بھی بہ مشکل ادا کر پا رہے ہیں۔ لہٰذا، فیس پر عاید ٹیکس ختم کرنا چاہیے۔

جنگ :ہم اپنے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیوں نہیں کر پائے اور اس ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟

انجم نثار :دراصل، موجودہ ٹیکس سسٹم غیر منصفانہ ہے اور اس کی وجہ سے شہری ٹیکس نیٹ میں آنا نہیں چاہتے۔ ہم پاکستان میں ٹیکس کلچر پیدا نہیں کر سکے۔ پاکستان میں 25سے 26فیصد ٹیکس بزنس کمیونٹی ادا کرتی ہے، جب کہ زرعی شعبے کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایگری کلچر ہماری جی ڈی پی کا پانچواں حصہ ہے، لیکن یہ شعبہ اس حساب سے ٹیکس ادا نہیں کرتا۔ تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں کون سے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ٹیکس ریفارم کمیشن میں ملک کے تمام چیمبرز آف کامرس، تجارتی اداروں، چارٹر اکائونٹنٹس اور ایف بی آر کے درمیان اتفاق طے پایا تھا اور ملک بھر سے تجاویز لی گئی تھیں، لیکن ڈیڑھ، دو سال بعد بھی ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اس کے بنیادی نکات یہ ہیں کہ ایف بی آر افسران کے صوابدیدی اختیارات کم کیے جائیں اور اسمگلنگ کے تدارک کے لیے ٹیرف ریٹس کم کیے جائیں، لیکن اگر ٹیرف ریٹس کم ہو جاتے، تو حکومت کو ریونیو نہیں ملتا۔ اسی طرح ماضی میں حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ ٹیکس نیٹ پر نظر رکھی جائے گی اور اس مقصد کے لیے 7لاکھ نوٹس بھی بھیجے گئے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ 8ہزار ارب ڈالرز ٹیکس جمع کیا جا سکتا ہے، لیکن ہم اس کا نصف بھی حاصل نہیں کر پا رہے۔ اس 4000میں سے بھی ہم بہ مشکل اپنا قرض ہی ادا کر پاتے ہیں، جو 2200سے 2300ارب ہو چکا ہے اور ہم روزانہ1600کروڑ روپے کا نیا قرضہ لے رہے ہیں، تو یہ قرضہ کیسے اترے گا۔ اگر آمدنی کا بڑا حصہ قرض اتارنے اور دفاعی بجٹ پر خرچ ہو جائے، تو وفاقی حکومت کے پاس کیا بچے گا۔

جنگ :محصولات کا بڑا حصہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز پر مشتمل ہے، تو اس میں ایف بی آر کا کتنا کردار ہے؟

انجم نثار :دراصل، ایف بی آر نے آسان حل یہ نکالا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس سمیت دوسرے ان ڈائریکٹ ٹیکسز لگا دیے اور خود ٹیکس جمع کرنے کے بہ جائے بزنس کمیونٹی سے ساری امیدیں وابستہ کر لیں۔ یہ ایف بی آر کی ناکامی ہے۔ جب تک سیونگ ریٹ اور انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی ریٹ نہیں بڑھتا، ہم اپنا ٹیکس بیس کیسے بڑھا سکتے ہیں۔ اس وقت جو ہمارا انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی ریٹ ہے، اس کا ہم خطے کے کسی ملک کے بہ جائے روانڈا سے بھی موازنہ نہیں کر سکتے۔ اس وقت بنگلا دیش کا انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی ریٹ 30فیصد کے قریب ہے اور ہمارا 15فیصد کے قریب ہے۔ جب ہماری سیونگ اور انوسٹمنٹ ہی نہیں ہو گی، تو آمدنی کیسے ہو گی۔ حکومت کو ان شعبوں کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ اس کے علاوہ ایگری کلچر سیکٹر سے بھی ٹیکس وصول کرنا ہو گا۔

جنگ :حکومت کی معاشی ٹیم میں رد و بدل اور شبر زیدی کی چیئرمین ایف بی آر کے طور پر تقرری کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

انجم نثار :معاشی ٹیم تبدیل کرنے کا وقت درست نہیں تھا اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران اس کا اچھا تاثر قائم نہیں ہوا۔ حکومت کو چہرے نہیں، بلکہ سسٹم تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشی ٹیم کی تبدیلی سمیت دیگر اقدامات سے ملک میں بے یقینی پھیل رہی ہے۔ تاہم، شبر زیدی ٹیکس امور کے حوالے سے مہارت رکھتے ہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ وہ کامیاب ہوں، لیکن میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ بجٹ سے پہلے معاشی ٹیم میں تبدیلی درست عمل نہیں۔

جنگ :مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اور ماضی میں متعارف کروائی جانے والی اسکیمز کے بارے میں کیا کہیں گے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اور ایف بی آر کے کردار کے بارے میں کیا کہیں گے؟

عابد شعبان ایڈووکیٹ :آج ہر ایک کا یہی کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کی شرح اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بہت کم ہے۔ دسمبر 2018ء میں پورے پاکستان میں سیلز ٹیکس کے پیمنٹ فائلرز اور نِل فائلرز کی تعداد 84ہزار تھی۔ ہر وہ امپورٹر، ایکسپورٹر، مینوفیکچرر اور ری ٹیلر وغیرہ جن کی سیل 5کروڑ سے زاید ہے، انہیں سیلز ٹیکس ادا کرنا ہے۔ انکم ٹیکس کے حوالے سے حکومت کا کہنا ہے کہ اس سال 18لاکھ افراد نے ریٹرنز فائل کیے، جبکہ ان 18لاکھ میں سے 30فیصد نِل ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں۔ یعنی 30فیصد افراد ٹیکس فائلر تو بن گئے، لیکن انہوں نے حکومت کو کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔اگر ماضی کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے، تو پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 3فیصد ٹیکس فائلرز مجموعی ٹیکسز کا تقریباً 60فیصد ادا کرتے ہیں۔ پورے پاکستان میں بزنس انکم کے 6لاکھ ٹیکس ریٹرنز فائل ہوتے ہیں اور اس صورت حال کی ذمہ داری ٹیکس دہندگان اور ٹیکس جمع کرنے والے اداروں دونوں ہی پر عاید ہوتی ہے۔ ٹیکس دینے والا ٹیکس دینا نہیں چاہتا، ٹیکس لینے والا ٹیکس لینا نہیں چاہتا اور اس کی مختلف وجوہ ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس وصولی میں کمی کا سلسلہ نیا نہیں، بلکہ یہ 1990ء کی دہائی میں شروع ہوا۔ اس وقت ہمارا پورا ٹیکس سسٹم امپورٹ سینٹرک ہے۔ مثال کے طور پر آج اگر میں قلم درآمد کرتا ہوں، تو مجھے کسٹم کے مرحلے پر 17فیصد سیلز ٹیکس دینا پڑتا ہے اور 6فیصد انکم ٹیکس کٹ گیا، لیکن میں اگر قلم برآمد کرتا ہوں، تو مجھے ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری ٹیکس پالیسی نے مینوفیکچرنگ انڈسٹری کا گلا دبا کر رکھ دیا ہے۔ ایک بہت بڑی ریزر بنانے والی کمپنی نے صرف اس وجہ سے اپنی مصنوعات تیار کرنا ترک کر دیں کہ انہیں امپورٹ کے مقابلے میں مینوفیکچرنگ مہنگی پڑ رہی تھی۔ جب ہم امپورٹ سینٹرک ہو جائیں، تو پھر ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں ہوتے۔ دنیا بھر میں دوستی اس سے کی جاتی ہے کہ جو آپ سے سامان خریدتا ہے۔ آج ہم چین سے سامان درآمد کر رہے ہیں اور یورپ اور مغرب میں اپنی مصنوعات برآمد کر رہے ہیں، تو ہمارا دوست کون ہوا۔ اب جہاں تک ٹیکس ریفارمز کی بات ہے، تو اسے دو حصوں میں تقسیم کرنا ہو گا۔ جن میں پالیسی اور ایڈمنسٹریشن شامل ہے۔ ٹیکس ریفارم کمیشن نے فروری 2016ء میں 2083صفحات کی رپورٹ تیار کی تھی، لیکن حکومت نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔ ہم نے آٹومیشن، کاروبار میں سہولت اور ٹیکس دہندگان کو سہولت دینے کی بات کی تھی۔ اگر ان تجاویز پر عمل درآمد ہوتا، تو ٹیکس جمع کرنے والوں کا اختیار کہاں جاتا۔ لہٰذا، یہ رپورٹ انہیں موزوں نہیں لگی۔ شہریوں اور ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد کا قیام، ٹیکس دہندگان کو سہولتوں کی فراہمی اور ٹیکس چوری میں کمی بنیادی نکات ہیں۔پاکستان قائم ہوئے 70بر س سے زاید عرصہ گزر چکا ہے، لیکن کیا کبھی کسی نے انکم ٹیکس آرڈینینس اردو میں پڑھا ہے اور کیا سیلز ٹیکس ایڈ کو اردو میں دیکھا ہے۔ اس کے برعکس بنگلا دیش کا قیام 1971ء میں عمل میں آیا۔ ان کی ویب سائٹس پر انگریزی کے ساتھ بنگالی زبان میں معلومات درج ہیں۔ اسی طرح بھارت میں انگریزی کے ساتھ ہندی میں معلومات درج ہیں۔ ہمارے ملک میں ٹیکس قوانین اردو میں ترجمہ کیوں نہیں ہوتے۔

جنگ :فائلر بننے میں رکاوٹ یہ بھی ہے کہ ایک عام آدمی انکم ٹیکس فارم بھر نہیں سکتا۔

عابد شعبان ایڈووکیٹ :جی ہاں۔ ہمیں اس عمل کو سادہ بنانے کی ضرورت ہے۔ جب شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم تھے، تو انہوں نے 2نومبر 2018ء کو ایک صفحے پر مشتمل فارم کی منظوری دی تھی، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، کیوں کہ اگر ایسا ہو جاتا، تو ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کی اجارہ داری ختم ہو جاتی۔ اب جہاں تک ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی بات ہے، تو ماضی میں پانچ ایمنسٹی اسکیمز متعارف کروائی گئیں، جس سے بعض لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور بعض فائدہ نہ اٹھا سکے۔ 2016ء میں تاجروں کے لیے ایک ایمنسٹی اسکیم لائی گئی تھی۔ انہیں ایک مختصر سا فارم پر کرنا تھا اور ان کے اثاثوں کا آڈٹ بھی نہیں کیا جانا تھا۔ حکومت نے اس ایمنسٹی اسکیم کی بڑی تشہیر کی۔ اس اسکیم سے 9ہزار 90افراد نے فائدہ اٹھایا۔ 2018ء میں غیر ملکی اور مقامی اثاثوں کے لیے ایک اور ایمنسٹی اسکیم لائی گئی۔اس اسکیم سے 84ہزار 443افراد نے فائدہ اٹھایا۔ 3جون 2018ء کو مختلف بینکوں میں تقریباً 3کروڑ 20لاکھ کرنٹ اکائونٹس تھے، جبکہ تقریباً 2کروڑ 40لاکھ سیونگ اکائونٹس تھے۔ ہم سیونگ اکائونٹس کو ایک طرف کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ کل6لاکھ بزنس ریٹرنز فائل ہوئے اور ہمارے پاس 3کروڑ سے زاید کرنٹ اکائونٹس ہیں۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ان میں سے نصف سرکاری اکائونٹس ہیں، تو اس کے باوجود بھی 1.5کروڑ اکائونٹس بچتے ہیں، تو یہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک جانب ہمارے ٹیکس کلکٹرز کو ٹیکس جمع کرنے کا شوق نہیں ہے اور دوسری جانب شہری ٹیکس نہیں دینا چاہتے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو۔ مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کچھ کامیاب ہو گی اور کچھ ناکام۔ بے نامی ایکٹ کی وجہ سے کاروباری طبقہ اپنے اکائونٹس اور دوسرے اثاثہ جات سامنے لانے سے ہچکچا رہا ہے اور پھر بین الاقوامی طور پر بھی اس کی بہت زیادہ رپورٹنگ ہوئی ہے۔ لہٰذا، میرا خیال ہے کہ مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اتنی کامیاب نہیں ہو گی، جتنی توقع کی جا رہی ہے۔

جنگ :ہمارا بجٹ خسارہ کیسے پورا ہو گا اور آمدنی میں اضافے کے لیے حکومت کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟

اشفاق تولہ :اگلے مالی سال کے بجٹ کا حجم تقریباً 5200ارب ہو گا۔ ڈائریکٹ ٹیکسز کے ذریعے 1925ارب جمع کیے جائیں گے۔اس میں سروس سیکٹر کا حصہ 58فیصد ہے اور اس میں ہول سیل اور ری ٹیل سیکٹر کا حصہ 18.6فیصد ہے، جبکہ جی ڈی پی کا 19فیصد ایگری کلچر پر مشتمل ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جی ڈی پی کا 19فیصد پنجاب سے 4ارب، سندھ سے 1.5ارب اور کے پی کے سے 50کروڑ روپے دے رہا ہے۔ اس کے دو فارمولے ہوتے ہیں۔ فی ایکڑ اور انکم کا فارمولا، جو زیادہ ہوتا ہے۔ اگر صرف قابلِ کاشت اراضی ہی کو لیا جائے، تو پنجاب سے کم از کم 10ارب روپے ملنے چاہئیں، جو نہیں مل رہے۔ اگر 62.4فیصد معیشت 1925ارب دے گی، تو 1125ارب کا فرق موجود ہے۔ ہمیں ایگری کلچر سے 558ارب روپے کا جو ٹیکس ملنا چاہیے، وہ نہیں مل رہا۔ اسی طرح 568ارب ری ٹیلرز اور ہول سیلرز سے ملنا چاہیے، لیکن اس کے بہ جائے بہ مشکل 2سے 3ارب روپے ایف بی آر کو مل رہے ہیں۔ اس طرح ہمارا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 17سے 18فیصد بنتا ہے اور یہ اس خطے میں سب سے زیادہ تناسب ہے۔ اس وقت ایف بی آر انکم ٹیکس کے ساتھ سیلز ٹیکس بھی جمع کر رہا ہے۔ ورلڈ بینک کے ذریعے ایس آر بی، پی آر اے، کے پی آر اے اور وی آر اے کا اتنا بڑا انفرااسٹرکچر بنوایا گیا ہے، تو کیا ان چاروں اکائیوں کو ٹیکس کی وصولی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ کیا ان اداروں کے سربراہان کا ایف بی آر کا تجربہ نہیں ہے۔ کیا یہ افراد یہ نہیں جانتے کہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کس طرح وصول کرنا ہے۔ اگر یہ سب اسی طرح چلتے رہنا ہے اور نئے ٹیکس دہندگان تلاش نہیں کرنے، تو پھر نئے اور پرانے پاکستان میں کوئی فرق نہیں۔ 2016ء کی جس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی بات کی گئی ہے، وہ میں نے آئی ایم ایف سے منظور کروائی تھی اور اس سلسلے میں حکومت ناکام ہو گئی تھی۔ میں نے پزیزنٹیشن دی تھی اور اس موقعے پر مسعود نقی اور ہارون اختر میرے ساتھ تھے۔ ہم نے ڈھائی سے تین گھنٹے کی تگ و دو کے بعد انہیں قائل کیا، مگر اس کی پالیسی بناتے وقت ایف بی آر نے بہت بڑی غلطی کی تھی اور ایف بی آر سے وابستہ چند افراد نے اس اسکیم کو سبوتاژ کر دیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میں یہ اسکیم منظور کروا کر لایا ہوں، تو آپ تاجروں کو 60فیصد کاروباری اثاثوں اور 40فیصد ذاتی اثاثوں کی اجازت دے دیں، تو انہوں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ دوسری قدغن یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ چار برس تک آڈٹ کے بارے میں نہیں پوچھیں گے، جبکہ انکم ٹیکس آرڈینینس پانچ سال کی اجازت دیتا ہے۔ میں نے پانچ سال کرنے کا کہا، تو انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی نہیں کریں گے۔ نتیجتاً یہ اسکیم ناکام ہو گئی اور اس کی ناکامی کے ذمہ دار ایف بی آر کے پرانے افسران ہیں۔ پھر عید کے بعد ہماری ٹیم ایف بی آر گئی اور ہم نے اپنی فرمز کی دستاویزات انہیں فراہم کیں۔اس ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں صرف 5363غیرملکی اثاثوں کو ڈکلیئر کیا گیا۔ میری طارق باجوہ صاحب سے اس معاملے پر بڑی بحث بھی ہوئی کہ آپ ایکسچینج کمپنیز کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی ادائیگی کی اجازت دے دیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ایف اے ٹی ایف اسے روکتی ہے، تو میں نے جواب دیا کہ اگر ایف اے ٹی ایف کی تجاویز میں یہ بات شامل ہے، تو میں سرِ تسلیم خم کرتا ہوں۔ وزارتِ خزانہ کے اس فیصلے کی وجہ سے معیشت تباہ ہو گئی، لیکن وزیرِ خزانہ کو کسی نے کچھ نہیں کہا۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور میں اس سلسلے میں ٹیکس دہندگان کو موردِ الزام ٹھہرائوں گا۔ یہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں لوگ زکوٰۃ تو بڑے زور و شور سے ادا کرتے ہیں، لیکن ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

جنگ :عوام میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ حکومت ان پر ٹیکس کی رقم خرچ نہیں کرتی، تو وہ ٹیکس کیوں ادا کریں؟

اشفاق تولہ :اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں چار شعبوں کو نچلی سطح پر منتقل کیا گیا۔ اس ترمیم سے قبل Divsible Pool کا 45.5فیصد صوبوں کو ادا کیا جاتا تھا اور 4فیصد کلیکشن چارچز لیتے تھے، تو یعنی خالصتاً41.5فیصد صوبوں کو دیتے تھے، جبکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد کلیکشن چارجزکو ایک فیصد کر دیا گیا اور صوبوں کے حصے کو 58.5فیصد کر دیا۔ جن چار شعبوں کو نچلی سطح پر منتقل کیا گیا، ان میں تعلیم، صحت، سیکوریٹی اور سیفٹی شامل ہیں۔ اب صوبائی حکومتوں نے عوام کو سہولتیں فراہم کرنا تھیں، لیکن کیا کبھی کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے فرد یا سول سوسائٹی نے سندھ اسمبلی کے باہر کھڑے ہو کر کسی سے یہ پوچھا کہ صوبے کو جو 1000ارب روپے ملے تھے، وہ کہاں خرچ ہوئے۔ اس کے برعکس ہم وفاقی حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، جبکہ درحقیقت یہ صوبوں کی ذمہ داری ہے۔

جنگ :لیکن یہ تو حال کی بات ہے؟

اشفاق تولہ :گزشتہ پانچ برسوں میں صوبوں 2122ارب روپے انکریمنٹل پیمنٹ ہوئی ہے اور یہ بہت بڑی رقم ہے۔

اعظم عباس :ہمارے ملک میں ٹیکس کلیکشن تخمینوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، تو اسے کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے؟

عابد شعبان ایڈووکیٹ :آج کل آٹومیشن بہت عام ہو چکی ہے اور ہمیں اسے استعمال کرنا چاہیے۔ کسی بھی فرد کی فلائٹس یا بینک اکائونٹس کا ڈیٹا بہ آسانی حاصل کیا جا سکتا ہے اور پھر پیش رفت کی جا سکتی ہے۔ اگر ایف بی آر ان سب چیزوں کا پتہ لگائے، تو ٹیکس نا دہندگان تک پہنچ سکتا ہے۔ دنیا بھر میں کوئی بھی فرد بہ خوشی ٹیکس ادا نہیں کرتا اور امریکا میں یہ قانون بنایا گیا ہے کہ کوئی بھی فرد چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اگر ٹیکس چوری کرے گا، تو اسے ہتھکڑی لگائی جائے گی۔ امریکا کی بہت مشہور خاتون کو ٹیکس چوری کرنے پر چند سیکنڈز یا ایک منٹ کے لیے ہتھکڑی پہنائی گئی اور اسے تمام چینلز پر دکھایا گیا، تو تمام امریکی شہریوں نے اس سے عبرت حاصل کی اور انہیں پتہ چلا کہ اگر انہوں نے ٹیکس چوری کی، تو انہیں بھی اسی طرح ہتھکڑی پہنائی جائے گی۔ امریکا میں ٹیکس چوری ایک سنگین جرم ہے، جبکہ پاکستان میں 1947ء سے اب تک کسی کو بھی ٹیکس چوری پر سزا نہیں دی گئی۔ چاہے اس کا تعلق کسی بھی شعبے سے کیوں نہ ہو۔ لہٰذا، ہمیں شہریوں کو یہ باور کروانا ہو گا کہ اگر وہ ٹیکس چوری کریں گے، تو حکومت ان کے ساتھ سختی سے نمٹے گی۔ ہم نے ٹیکس میں اضافے کے لیے حکومت کو کئی تجاویز دیں۔ کراچی میں انکم ٹیکس کا دفتر واقع ہے، لیکن انہوں نے کبھی شہریوں سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی انہیں سہولتیں فراہم کیں۔

اشفاق تولہ :کل جب آپ عملی زندگی میں جائیں گے اور ٹیکس دہندہ بنیں گے، تو آپ کو ٹیکس سسٹم کے بارے میں جاننے کے لیے ایک موٹی سی کتاب پڑھنی ہو گی اور اس میں سے بہت سی چیزیں آپ کی سمجھ میں نہیں آئیں گی۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ نان فائلر کو تھوڑا سا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے اور اس کی جان چھوٹ جاتی ہے۔

انجم نثار :آٹو میشن اور طریقہ کار کو سادہ بنانے کے علاوہ شہریوں اور ایف بی آر کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کو ایف بی آر سے ڈر بھی لگتا ہے، حالانکہ بعض ٹیکس دہندگان اچھی حالت میں بھی ہیں۔ تاہم، اس کے مقابلے میں منفی تاثر زیادہ ہے۔ ایک زمانے میں صوابدیدی اختیارات ختم بھی کر دیے گئے تھے۔ جب عبداللہ یوسف ایف بی آر کے چیئرمین تھے، تو وہ ٹیکس نیٹ 300ارب سے 1000ارب تک لے گئے تھے۔ انہوں نے چھاپے مارنے سمیت شہریوں کو تنگ کرنے جیسے دیگر حربے استعمال کرنا چھوڑ دیے تھے اور اس کی وجہ سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوا۔ ایف بی آر میں اعلیٰ سطح پر صوابدیدی اختیارات ہونے چاہئیں، تاکہ لوگوں میں کچھ ڈر خوف ہو، لیکن نچلے افسران کو صوابدیدی اختیارات حاصل نہیں ہونے چاہئیں۔ ان مسائل کا حل موجود ہے اور ٹیکس ریفارم کمیشن نے ڈیڑھ، دو سال کی عرق ریزی سے جو رپورٹ تیار کی تھی، اس میں حل بھی بتائے گئے تھے۔ اگر ان میں سے چند نکات ہی پر عمل درآمد کر لیا جائے، تو ٹیکس دہندگان پر مثبت اثرات ضرورت مرتب ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر میں پایا جانے والا یہ تاثر بھی غلط ہے کہ تمام کاروباری افراد یا زیادہ تر ٹیکس چور ہیں۔ اگر بزنس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ٹیکس چور پکڑے جاتے ہیں، تو انہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے، لیکن پوری بزنس کمیونٹی کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت تمام اقدمات پر فوری طور پر عمل کرے، لیکن ان پر بہ تدریج عمل درآمد یقینی بنائے، تاکہ ٹیکس دہندگان پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔ اگر ٹیکس دہندگان کو سہولتیں ملیں گی، تو تبھی کاروبار میں آسانیاں پیدا ہوں گی اور لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔

جنگ :موجودہ حکومت نے دو منی بجٹ پیش کیے اور ڈالر کی قدر میں اضافہ کیا، جس کا سبب یہ تھا کہ برآمدات بڑھیں اور آمدنی میں اضافہ ہو، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

انجم نثار :کسی بھی ملک کی کرنسی کا طاقتور ہونا اس کی معیشت بہتر ہونے کا اشاریہ ہوتا ہے۔البتہ ان ممالک کی کرنسی کی قدر کم ہونا بہتر ہے کہ جن کی برآمدات زیادہ ہوں۔ ہم نے اپنی کرنسی کی قدر میں 30فیصد کمی کی، لیکن اس کے نتائج اچھے نہیں نکلے۔ اگر ہم پچھلے 9ماہ کی برآمدات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں، تو پتہ چلتا ہے کہ ہماری برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے برعکس روپے کی قدر کم کرنے سے ہم نے اپنا قرضہ 1700ارب بڑھا لیا۔ حکومت کو کوئی بھی فیصلہ لیتے وقت معروضی حقائق کو ضرور دیکھنا چاہیے کہ عوام اور ملک پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

اشفاق تولہ :میں یہاں کچھ اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔ کرنسی کی قدر میں کمی ان ممالک کے لیے بہتر ثابت ہوتی ہے کہ جن کی متوازی معیشت چھوٹی ہو، لیکن جن ممالک میں متوازی معیشت ہے اور لوگوں کے پاس ’’مسلز‘‘ ہیں، تو وہ کرنسی سے کیش کو ہورڈنگ کر لیتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس پارکنگ لاٹ نہیں ہوتی۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کی کوئی قومیت نہیں ہوتی اور کرنسی کی قدر کو مستحکم رکھنا حکومت وقت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ بیرون ملک سے آنے والا اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہر معیشت ملک کو بحران سے نکال دے۔ مثال کے طور پر بھارتی حکومت رگو راتھن کو لائی تھی، لیکن وہ ناکام ہوا۔ وہ آئی ایم ایف کا چیف اکانومسٹ تھا۔ ضروری نہیں ہے کہ اکانومکس میں پی ایچ ڈی کرنے والا کامیاب وزیر خزانہ ثابت ہو۔

جنگ: حکومت نے کیا سوچ کر روپے کی قدر کم کی؟

اشفاق تولہ :موجودہ حکومت نے ابتدا میں جو ایڈوائزی کائونسل بنائی تھی، تو میں نے کہا تھا کہ یہ سارے پروفیسرز ہیں اور انہوں نے زندگی بھر کوئی کام نہیں کیا اور نہ انہوں نے کبھی اپنا ریٹرن فائل کیا ہے۔ یہ ایڈوائزری کائونسل پال سمپسن والی تھی، جبکہ ہم سب کے کے ڈیوڈ والے ہیں۔

جنگ :اسد عمر تو اس حکومت کے چیمپیئن تھے، لیکن وہ اپنے عہدے ہی پر نہ رہے؟

اشفاق تولہ :میں اسد عمر سے تعزیت کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے جو فیصلے نہیں کیے، ان کی ذمہ داری بھی ان پر عاید کر دی گئی۔ مثال کے طور پر چیئرمین ایف بی آر انہوں نے تعینات نہیں کیا تھا، لیکن انہیں قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔ اسی طرح وزیر مملکت برائے ریونیو بھی اسد عمر کی چوائس نہیں تھی اور وہ ایک سیاسی تعیناتی تھی۔

جنگ :حکومت نے تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے درآمدی ڈیوٹی میں بھی اضافہ کیا، لیکن اس کی وجہ سے آمدنی کم ہو گئی اور اس کا اثر ایف بی آر پر بھی مرتب ہوا۔

اشفاق تولہ :شرحِ سود بڑھا کر معیشت کو قتل کر دیا گیا، کیونکہ شرحِ سود بڑھنے سے افراطِ زر بڑھ گیا اور عوام کی قوتِ خرید کم ہو گئی۔ پھر عوام کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے سیونگ ریشو بھی نہیں بڑھا اور اس وقت عوام مہنگائی کی وجہ سے بلبلا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی غلطی دسمبر 2018ء میں مفتاح اسمٰعیل نے روپے کی قدر کم کر کے کی، جبکہ سب سے زیادہ کاری ضرب اس معیشت پر میڈم نے لگائی۔ انہوں نے آئو دیکھا نہ تائو اور سارے کام کر دیے۔ وہ تو آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے آرٹیکل چار کو بھی ٹریگر کر رہی تھیں، لیکن انہیں روکا گیا۔ اس کے بعد یہ آئے، تو یہ بالکل ناسمجھ ہیں۔

جنگ :عبدالحفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایک ٹینکو کریٹ یا اکانومسٹ کے بہ جائے پولیٹیکل اکانومسٹ کی ضرورت ہے۔

اشفاق تولہ :موجودہ حالات میں عبدالحفیظ پاشا ایک اچھی چوائس ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ پاکستان کے معروضی حقائق سے واقف ہیں اور تمام طبقات کے مسائل سے بھی آگاہ ہیں۔ کسی اور ملک کا ماڈل کاپی کر کے معیشت کو پروان نہیں چڑھایا جا سکتا۔ روپے کی قدر میں جتنی کمی کریں گے، اتنا زیادہ نقصان ہو گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ ڈالر کی قدر کا 111سے 98پر آنا کوئی کرشمہ نہیں تھا، بلکہ ایک حکمتِ عملی تھی اور آج بھی اسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

جنگ :آئی ایم ایف سے معاہدے اور پری بجٹ کے لیے کیا تجاویز دیں گے؟

انجم نثار :جس دن رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کا گورنر تعینات کیا گیا تھا، تو اسی روز ایک چینل پر میں نے کہا کہ اب آئی ایم ایف سے پاکستان کو مذاکرات کرنے کی ضرورت نہیں۔ آئی ایم ایف ہی آئی ایم ایف سے مذاکرات کرے گی اور چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے میں یہ تجاویز دینا چاہوں گا کہ حکومت کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرے، ٹیکس ریفارمز کرے، نئے ٹیکسز عاید کرنے کے بہ جائے عوام کو ریلیف دے، زرعی آمدنی پر ٹیکس عاید کیا جائے، تاکہ صوبوں کو اس میں سے حصہ ملے اور وفاق پر بوجھ کم ہو۔ تاہم، میں نہیں سمجھتا کہ حکومت زرعی آمدنی پر ٹیکس لگا سکے۔

عابد شعبان ایڈووکیٹ :ایف بی آر کو ٹیکس بیس بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، کیونکہ ٹیکس نیٹ میں شامل پرانے ٹیکس دہندگان ہی ٹیکس دے دے کر تنگ آ گئے ہیں۔ ہم نے اپنی رپورٹ میں یہ تجویز دی تھی کہ ایف بی آر اپنی 50فیصد نفری کو ٹیکس بیس میں اضافے کے لیے تعینات کرے۔ پاکستان کی بقا ہی ٹیکس بیس میں اضافے میں پوشیدہ ہے، لیکن ڈنڈے کے زور پر شہریوں سے ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا اور اس مقصد کے لیے ایف بی آر اور شہریوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنا ہو گی۔ یاد رہے کہ 80ہزار ٹیکس دہندگان سے ملک نہیں چل سکتا۔ اس کے علاوہ میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ایس ای سی پی میں کل 85ہزار کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں اور پچھلے سال ان میں سے 37ہزار ایک سو نے ریٹرنز فائل کیے، تو اسی طریقے سے کام کیسے چلے گا۔

اشفاق تولہ :میں اس بات سے بالکل اتفاق کرتا ہوں کہ ہم جب تک ٹیکس بیس نہیں بڑھائیں گے، تو مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ چاہے ہم ایف بی آر کو جو تجاویز بھی دیتے رہیں۔ نیز، ایف بی آر افسران کے صوابدیدی اختیارات کم کر دیے جائیں اور اگر ٹیکس ریفارم کمیشن کی رپورٹ پر 50فیصد بھی عمل ہو جائے، تو سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔

خالد امین: اس وقت شہری خوف میں مبتلا ہیں اور انہیں سہولتیں اور آسانیاں فراہم کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ ملک کے حالات مزید ابتر ہو جائیں گے۔

تازہ ترین