آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ کی سخت اقتصادی پابندیوں اور جنگ کی دھمکیوں کے بعد ایران مشکلات میں گھرا نظر آتا ہے اور موجودہ صورتحال میں ایران پر جنگ کے گہرے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایران سفارتی حکمت عملی میں مصروف ہے۔ گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے دورئہ پاکستان سے قبل بھارتی حمایت حاصل کرنے کیلئے بھارت کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران اُن کی خواہش تھی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں مگر مودی نے انہیں ملاقات کا وقت نہ دیا، اس طرح ایرانی وزیر خارجہ صرف اپنی بھارتی ہم منصب سشما سوراج سے ملاقات کرکے وطن واپس لوٹ گئے۔ ایران کی یہ کوشش تھی کہ بھارت امریکی دھمکیوں میں آئے بغیر ایران سے تیل کی امپورٹ جاری رکھے جس کی عارضی اجازت امریکہ نے بھارت سمیت 7دیگر ممالک کو دے رکھی تھی مگر امریکی صدر کے حالیہ فیصلے کے بعد بھارت نے ایران کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا اور شاید اسی لئے نریندر مودی نے ایرانی وزیر خارجہ سے ملنا گوارہ نہ کیا کہ کہیں امریکہ بھارت سے ناراض نہ ہوجائے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل تک بھارت ایران دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی اور بھارت نے ایرانی بندرگاہ چابہار کا تعمیر و توسیع اور اُس کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے ایران کو 340ملین ڈالر کی امداد فراہم کی تھی۔ بھارت ایسا کر کے افغانستان تک رسائی حاصل کرنا چاہتا تھا، جو اس کا دیرینہ اور پاکستان کا ڈرائونا خواب ہے۔

بھارتی دورے کے برعکس گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے جب پاکستان کا دورہ کیا تو انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے علاوہ وزیراعظم، آرمی چیف اور اسپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کیں۔ دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ صرف ایران کا نہیں بلکہ تمام علاقائی اقوام کا دشمن ہے۔ دورے کے اختتام پر جب حکومت پاکستان کی جانب سے یہ بیان جاری ہوا کہ اسلام آباد، ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے گا، عین اُسی وقت امریکہ میں بھارت کے سفیر نے کھلے الفاظ میں امریکی اقتصادی پابندیوں کی تائید کرتے ہوئے ایران سے تیل امپورٹ کرنے کے تمام معاہدے معطل کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مستقبل میں بھارت ایران سے تیل امپورٹ نہیں کرے گا۔ بھارت ایسا کرکے امریکہ کو یہ یقین دلانا چاہتا تھا کہ وہ امریکہ سے وفاداری نبھاتے ہوئے خطے میں امریکی پالیسیوں کی حمایت کرتا ہے جبکہ پاکستان کی پالیسی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی تھی جس سے ایک طرف امریکہ اور دوسری طرف وہ خلیجی ممالک جو ایران کے ساتھ تنازع میں شریک ہیں، کو پاکستان کا یہ رویہ شاید ناگوار گزرا۔

امریکہ نے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کررکھی ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی چاہتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر اس کی تیل کی ایکسپورٹ جو ملک کیلئے ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے، پر پابندی عائد کی گئی تو ایران خلیجی ممالک کے تیل کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنے دے گا جس پر امریکہ ایران کو یہ واضح پیغام دے چکا ہے کہ اگر ایران نے اتحادی ممالک کے تیل کی آمد و رفت روکنے کی کوشش یا اپنے کسی حواری کے ذریعے امریکہ یا خطے میں کسی اتحادی کو نشانہ بنایا تو امریکی ردعمل جنگ کی صورت میں ہوگا۔ اس مقصد کیلئے امریکہ نے خلیج فارس میں طیارہ بردار بحری بیڑہ، B-52بمبار طیارے اور ڈیڑھ ہزار فوج کی تعیناتی کا اعلان بھی کیا ہے جس پر امریکہ نے عملدرآمد بھی شروع کردیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات کی روشنی میں امریکہ کے ایران کے خلاف محدود پیمانے پر فوجی حملے کو رد نہیں کیا جاسکتا جس کے ردعمل میں ایران پہلے ہی متنبہ کرچکا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو خلیجی ممالک کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایسی صورتحال میں یہ تنازع ایک بڑی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے، ایران سے ہمارے تعلقات میں ہمیشہ اتار چڑھائو آتا رہا ہے اور ایران ماضی میں کئی مرتبہ پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز الفاظ بھی استعمال کرتا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ اورماڑہ واقعہ میں 14پاکستانی فوجیوں کی شہادت ابھی تک لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے مگر اس واقعہ پر ایران کی جانب سے اتنے دن گزر جانے کے باوجود کوئی عملی اقدام یا دہشت گردوں کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں جس نے ہر برے وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ موجودہ دور حکومت کے آغاز میں جب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر شدید دبائو کا شکار تھے، سعودی عرب وہ پہلا ملک تھا جس نے 3ارب ڈالر سے پاکستان کی مدد کی جبکہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 3سال تک سالانہ 3.2ارب ڈالر کی ادھار پر تیل کی پیشکش سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب ان مشکل حالات میں پاکستان کے ساتھ ہمہ وقت کھڑا ہے۔

حالیہ برسوں میں امریکہ نے کمزور ممالک پر اپنی جارحیت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ دہشت گردی کی آڑ میں پہلے افغانستان، پھر عراق اور اس کے بعد لیبیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اب ایران پر جارحیت کی تیاریاں جاری ہیں۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھنا ہوگی کیونکہ خلیج اور مشرق وسطیٰ میں کسی قسم کا انتشار اور بدنظمی پاکستان کے حق میں نہیں۔ خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور خلیجی ممالک کو درپیش خطرات کے پیش نظر سعودی عرب کے فرمانرواں شاہ سلمان نے 30مئی کو عرب لیگ، خلیج تعاون کونسل اور او آئی سی کا اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں وزیراعظم عمران خان بھی شرکت کریں گے۔ اجلاس میں امریکہ ایران تنازع اور خطے کی بگڑتی صورتحال زیر بحث آئے گی۔ اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ ثالثی کی پیشکش کرے یا کھل کر اپنی پوزیشن واضح کرے تاکہ سعودی عرب اور وہ ممالک جنہوں نے مشکل صورتحال میں پاکستان کا ساتھ دیا وہ ہماری وفاداری پر شک نہ کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں