آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک انصاف کی حکومت نے سال 2019-20کے لیے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کر دیا، جس میں سب سے ہولناک خبر پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے یہ ہے کہ کُل بجٹ جو تقریباً سات ہزار ارب روپے کا ہے، میں سے تقریباً تین ہزار ارب روپے محض سود کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔ سود کی ادائیگی کے لیے گزشتہ سال کے بجٹ میں تقریباً سترہ سو ارب روپے رکھے گئے تھے۔ یعنی جس رفتار سے سود کی ادائیگی کے لیے ہر گزرتے سال کے ساتھ بجٹ میں مختص رقم بڑھ رہی ہے، اُس تناظر میں مستقبل قریب میں پاکستان کا سارا بجٹ ہی سود کھا جائے گا۔ ایک سال میں اگر سود کی ادائیگی کے لیے بجٹ میں ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ ایک دو سال میں سود کے لیے مختص بجٹ چار پانچ ہزار ارب تک پہنچ جائے گا۔ لیکن افسوس کہ نہ تو گزشتہ حکومتوں بشمول (ن) لیگ اور پی پی پی نے پاکستان اور عوام کے ساتھ روا اس ظلم کو روکنے کی کوئی تدبیر کی اور نہ ہی موجودہ حکومت نے اس بارے میں کوئی سوچ بچار شروع کی ہے۔ پاکستان کا سیکولر اور لبرل طبقہ تو سود کے معاملہ پر بات نہیں کرتا، ورنہ سود سے بڑا کوئی دوسرا خطرہ پاکستان کو لاحق نہیں۔ اکثر پاکستان کے دفاعی بجٹ کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دفاع کی بجائے پاکستانی عوام پر یہ پیسہ کیوں خرچ نہیں کیا جاتا لیکن سود کے پاکستان پر سنگین حملہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔ بجٹ ڈاکیومنٹس دیکھیں تو پتا چلے گا کہ پاکستان کے دفاع اور افواجِ پاکستان کے لیے مختص رقم سود کی ادائیگی کے لیے رکھی گئی رقم کے نصف سے بھی کم ہے۔ یعنی سود کے لیے مختص تین ہزار ارب کے مقابلہ میں پاکستان کا دفاعی بجٹ گیارہ سو پچاس ارب رکھا گیا۔

اسلام سود کے بارے میں کیا کہتا ہے، اس بارے میں سب جانتے ہیں اور سود کیسے پاکستان کو تیزی سے کھائے جا رہا ہے، یہ بھی سب دیکھ رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کئی بار کہہ چکے کہ روزانہ آٹھ ارب روپے سود کی مد میں ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ ماضی میں اگر حکمرانوں نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھائیں تو خان صاحب کو پاکستان کو اس لعنت سے بچانے کے لیے فوری سوچ بچار کرنا چاہئے۔ میں یہ بات بارہا لکھ چکا کہ سود کی مد میں جو ہم ہر سال قوم کی اتنی بڑی رقم خرچ کرتے ہیں، اس کے بہت بڑے حصے کا تعلق پاکستان کے اندرونی قرضوں سے ہے۔ بیرونی قرضوں پر دئیے جانے والا سود شاید کُل سود کے لیے مختص رقم کا دس فیصد ہو۔ یعنی ہمیں سود کا اصل خطرہ اپنے اندر سے ہی ہے نہ کہ باہر سے۔

ریاستِ مدینہ کا نام لینے والے اور پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا وعدہ کرنے والے عمران خان سے میری درخواست ہوگی کہ اس معاملہ کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے فوری طور پر ماہرین کی ایک کمیٹی بناکر سود کے خاتمہ کے لیے کوئی لائحہ عمل بنایا جائے۔ اس سلسلے میں بہت سے ماہرین موجود ہیں جن میں بین الاقوامی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر محترم جسٹس تقی عثمانی، سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود، مرحوم جنید جمشید کے چھوٹے بھائی اور اسلامی بینکنگ کے ماہر ہمایوں جمشید وغیرہ بھی شامل ہیں۔ حکومت اور خان صاحب کے پاس اور بھی کئی ایسے نام ہوں گے جو بغیر کسی لالچ محض اللہ کی رضا کے لیے پاکستان کو سود کی دلدل سے بچانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی دے سکتے ہیں۔ اس کام کو جنگی بنیادوں پر شروع کیا جانا چاہئے تاکہ سود کو پاکستان کو کھانے سے روکا جا سکے۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں