آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ سب غلط ہے کہ ہم غربت کی لکیر سے نیچے جارہے ہیں۔ دیکھئے نا ہمارے ملک کے 15لاکھ مسلمانوں نے اس مہینے میں عمرہ کیا ہے۔ ایک شخص کے عمرے پر پانچ لاکھ کے قریب خرچ آتا ہے۔ بے چارہ جسے دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو اور جو پورے رمضان سڑکوں پر لگے دسترخوان کا شکر گزار ہو کہ اس کے پیٹ کا دوزخ بھرتا ہے جبکہ لندن میں براق سفید کپڑے پہنے بزرگ ٹیلی وژن پر بتارہے تھے کہ لندن میں صرف ڈیڑھ لاکھ بھوکے رہتے ہیں، ان کے لئے صلائے عام دسترخوان کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہی میں ہر تیسرے بڑے گھر کے سامنے قطار میں غریب غربا کھڑے نظر آئے کہ خیرات لینے کے لئے دھوپ میں کھڑے تھے۔ مجھے صرف اپنی کم عقلی میں سوال یہ کرنا ہے کہ ایک وقت یا دو وقت کی روٹی کھلانے اور سڑک پر بیٹھے لوگوں کو پلائو کھلانے سے، ہر چند آپ کو ثواب حاصل ہوگا مگر ان کے خاندان کا کیا بنے گا کہ کسی جگہ بھی ہم نے عورتوں کے لئے گلی یا سڑک پر دسترخوان سجھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ صدقات کو اللہ پسند فرماتا ہے کہ آپ ایک دن کے لئے وسیلہ بنے۔ کیوں یہ نہیں سوچا جاتا کہ ان لوگوں کو باقاعدہ کام پر لگادیں۔ چھوٹی چھوٹی رہڑیاں لگوا دیں۔ کسی دکان پر نوکر کروا دیں۔ انہیں سفیدی کرنے یا مالی کے کام کی جانب راغب کردیں۔ ان کے بچوں کی کم از کم چھ ماہ کی فیس دے دیں۔

ہم اگر غریب ملک ہوتے تو پنجاب میں 30مشیر نہ رکھے جاتے کہ ہر ایک کے ذمے حکومت کی کارکردگی بتانے کے لئے کوئی نہ کوئی کہانی گھڑنا ہے جبکہ بعض وزیر خیر سے اتنے آزاد ہیں جس کو چاہتے ہیں، اپنے سرکاری پیڈ پر امداد کے لئے غیر ممالک کو لکھ دیتے ہیں۔ نوکریاں بخشنا تو ہر دور میں عام بات ہے۔ اب ذرا دیکھیں کہ وزیراعظم کے اطلاعاتی مشیر کتنے ہیں اور کتنی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ذرا پلٹ کے دیکھیں کہ اکیڈمی سے لے کر لوک ورثہ اور اسلام آباد ہی میں موجود دیگرادارے گزشتہ فروری سے بغیر سربراہ کے ہیں، آخر یہ بات روز کی کابینہ کی میٹنگز میں شفقت محمود سامنے ہی نہیں لاتے۔ سب خالی جگہوں پر جوائنٹ سیکرٹری بیٹھے ہیں، جیسے کہ اسپتالوں میں ننھے بچے بغیر ایئرکنڈیشن کے مر رہے ہیں اور ایئرکنڈیشن اتار کر صاحب کے کمرے میں لگادیا جاتا ہے۔

پاکستانی قوم غریب ہوتی تو دس دن تک کار سرکار سے لے کر بینک وغیرہ بند ہونے سے روزانہ کمانے والوں کو روٹی کہاں سے ملی۔ بجٹ کا خود ہی تجزیہ کرتے ہوئے سائنسی وزیر نے کہا کہ غیر استعمال شدہ بجٹ واپس کرنا پڑ رہا ہے۔ قوم غریب ہوتی تو 800روپے کلو آلو بخارہ نہ کھاتی اور 400روپے فی کلو لیموں خرید کر روزے نہ کھولتی۔ علاوہ ازیں سڑکوں پر لگے سموسوں اور پکوڑوں کی فی دکان سیل لاکھوں روپے کی نہ ہوتی۔ یہ قوم غریب ہوتی تو کہنے کے باوجود کہ افطار پارٹیاں نہیں ہوں گی، روز بڑے ہوٹلوں میں کھڑے ہونے کو بھی جگہ نظر نہیں آئی۔

پاکستانی قوم غریب ہوتی تو دودھ، دہی سے لے کر شیمپو اور کپڑے غیرملکی پہنے ہوئے ہر جانب لوگ نظر نہیں آتے۔ کیا حکومت غیر ملکی اشیاء اور دیگر مصنوعات منگوانا بند نہیں کرسکتی۔ صرف ٹی وی پر پاکستانی ہی مصنوعات خریدو۔ یہ کہنے سے کیا فرق، جب ہم نجانے کن کن ملکوں کے بیگ، جوتے اور کھانے پینے کی چیزیں خریدتے ہیں چاہے جیب میں پیسے ہوں کہ نہ ہوں۔ ایک دفعہ جناح سوپر میں دکان سے پوچھا یہ اتنے مہنگے سوٹ کون خریدتا ہے۔ اس نے کہا میڈم جن لوگوں کو سیکریٹریٹ سے اپنی فائلیں نکلوانا ہوں، وہ تو ایک نہیں، کئی سوٹ خریدتے ہیں‘‘۔

ہم غریب نہیں امیر ہیں۔ جب ہی تو کے پی میں عورتوں کے سپورٹ سینٹرز کے لئے بجٹ خرچ ہی نہیں ہوا۔ کے پی میں جو خواتین یونٹ کی صدر تھیں انہوں نے بددل ہوکر استعفیٰ دیدیا جبکہ پنجاب میں تو بے حد کام کرنےوالی فوزیہ وقار کو بلا کسی نوٹس نوکری سے اس وقت نکالا گیا جب وہ اپنے بیٹے کی گریجویشن میں شریک ہونے کے لئے امریکہ گئی ہوئی تھیں۔

ہم غریب ہوتے تو کراچی کے تاجر یہ نہ کہتے کہ اس دفعہ عید پر صرف 35ارب روپے کی سیل ہوئی ہے جبکہ ہم 50ارب کی توقع کررہے تھے۔ ہماری ایک دوست بیمار ہوئی، اس کی بیٹی نے امریکہ سے آن لائن آرڈر کرکے کھانا بھجوادیا۔ اس طرح ایک صاحب کی سالگرہ تھی، سالگرہ کے لئے کھانا فرانس سے منگوایا گیا تھا۔ ہم غریب، بے بس اور بے توقیر نہ ہوتے کہ جب ڈی ڈے 6جون کو منایا جارہا تھا۔ اس دن امریکہ، انگلینڈ، فرانس اور آسٹریلیا کے جواں مردوں کی تعریف اور ان کے بہادری کے گن گائے تو جاتے ہیں کہ ہٹلر کی فوجوں کو شکست دینے کیلئے ایک مشترکہ معرکہ ہوا کہ جس میں فرانس کو نازی جرمنی سے آزاد کروالیا گیا تھا۔ یہ واقعہ ہے 1944کا۔ اس کو یاد کرتے ہوئے 5400ان سپاہیوں کو یاد نہیں کیا گیا جو مسلمان تھے۔

اور اب آخر میں افسوس میرے دوست ڈاکٹر انور سجاد لاہور میں اور عظیم ڈرامہ، ناول نگار کریش گرنار بینگلور میں وفات پاگئے۔ ہم تو اور زیادہ غریب ہوگئے۔ اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں