آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی ذبح خانے کے آس پاس کہیں زندگانی مقیم ہے

مجھے آئے اپنی ہر ایک شے سے لہو کی بو

بڑی تیز تیز۔ بڑی متلی خیز

کئی پرفیوم کی بوتلیں۔ میں چھڑک چکا ہوں لباس پر

اسی گرم خون کی مشک پر اسی سرد ماس کی باس پر

کسی ذبح خانے کے آس پاس

کئی بار دھویا ہے ہاتھ کو

کئی بار مانجھا فلیٹ کی میں نے ایک ایک پلیٹ کو

مجھے آئے ذائقہ خون کا

مجھے آئے ایک سڑاند سی

مجھے کچا ماس دکھائی دے

کہیں ہاتھ پاؤں سڑے ہوئے

کہیں گولیوں کے گلاب سے

نئی چھاتیوں میں گڑے ہوئے

کہیں گردِ ناف کے پارچے مرے ناشتے میں پڑے ہوئے

کسی ذبح خانے کے آس پاس۔

ذبح خانوں کے خلاف امن کی معتبر صوفیانہ آواز کا نام بلھے شاہ ہے مگر اُس کے ماننے والوں کے ساتھ پنڈتوں اور مذہبی قدامت پرستوں نے بہت برا سلوک کیا۔ کہیں انہیں ٹرینوں کے ڈبوں کےدروازے باہر سےبند کر کے سوختہ ہونے پر مجبور کیا تو کہیں وزیرستانوں میں اُن کے سروں کے ساتھ فٹ بال کھیلی گئی۔ کہیں گجرات کی گلیوں میں قتل گاہیں قائم کیں تو کہیں کلاس روم میں بچوں کے معصوم جسموں کےچیتھڑے دیواروں پر چپکا دیئے۔

بلھے شاہ صوفی ہے، سچا صوفی۔ گرو ہے، بابا گرونانک جیساگرو۔وہ ہر مذہب کی مذہبی اجارہ دار کے خلاف ہے۔ اُس کے نزدیک مسجد اور مندر گرانے والے دونوں قابل ملامت ہیں۔وہ مولانا رومؒ، داتا گنج بخشؒ، معین الدین چشتیؒ اور نظام الدین اولیا ؒکے نقشِ کفِ پا چوم چوم کر بلھے شاہ بنا ہے۔ اس نے امیر خسرو کے راگوں اور راگنیوں کی شکلیں دیکھ دیکھ کر اور رقصِ رومی کے دائروں اور قوسوں کو پہن پہن کراپنے باطن کو الوہی روشنی سے منور کیا ہے۔ اُس کے نزدیک کائنات میں کوئی بھی اُس کیلئے اجنبی نہیں سب اُنسان اس کے اپنے ہیں۔ وہ سب کا ہم نفس ہو کر آسمانی گیت گارہا ہے۔سب کے ساتھ قدم ملا کر اور قرآن سنا کر رقص کر رہا ہے۔ وہ اسم اللہ ذات کی تصویر اپنے سامنے سجا کر ناچ رہا ہے۔ وہ نظام الدین اولیا کے دربار پر امیر خسرو کے ساتھ مل کر ہولی کھیل رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ’’سچ آکھیاں بھابھڑ مچدا ہے‘‘ مگر وہ سچ بول رہا ہےآگ کے الاؤ دہک رہے ہیں۔ اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا

عالم فاضل نہ عامل جُنّی

اِکو پڑھیا علم لدّنی

یعنی صاحبِ علم لدنی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اللہ نے وحی کا در تو بند کر دیا مگر کشف والہام کا دروازہ کھلا رکھا۔ جس نے بھی صفا ئے باطن کی مشکلا ت اور کٹھنائیوں سے بھر ی راہ اختیار کی۔ اللہ نےاُسے با طنی علم عطا کیا۔ اس با طنی علم کو ’’علم لدنی‘‘ کہا جاتا ہے۔ علمِ لُدنی قرآن کی اصطلا ح ہے۔ قرآن حکیم ملاقاتِ موسیٰ و خضرکے بیان میں فرماتا ہے تو مو سیٰ علیہ السلام نے ہما رے بند وں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے اپنی طر ف سے رحمت اور اپنی طر ف سے علم عطا فرما یا تھا ۔اسی آیت ’’مِنْ لّدُنَّا عِلْماً‘‘ سے علم لدُنی کی اصطلاح نکلی۔ یعنی اللہ کی طرف سے جوعلم خضر علیہ السلام کو ملا تھا اسےعلم لدنی کہتے ہیں۔ یہیں سے طریقت کا آغاز ہوتا ہے یہیں بلھے شاہ بے اختیار پکار اٹھا تھا۔ عرش منور بانگاں ملیاں سنیاں تخت لہور۔ شریعت اور طریقت کی آویزش صدیوں سے جاری ہے مگر بلھے شاہ کے پاس پہنچ کرخاصی تیز ہو گئی ہے۔ یہ نہیں کہ بلھے شاہ مذہبی علوم سے نا واقف تھا اس نے قصور کے معروف عالم دین حافظ غلام مرتضیٰ سے عربی، فارسی اور تصوف کی تعلیم حاصل کی تھی۔ وارث شاہ حافظ غلام مرتضیٰ کے شاگرد تھے۔ اکثر کہتے تھے مجھے دو شاگرد بڑے عجیب ملے ہیں۔ بلھے شاہ نےعلم حاصل کیا تو سارنگی اٹھا لی۔ وارث شاہ جو عالم بنا تو ہیر گانے لگا۔

بلھے شاہ اپنے عہد کے مذہبی ٹھیکیداروں کی منافقت سےاس قدر بیزار تھا کہ اُن کے خلاف احتجاج کا کوئی موقع ہاتھ سےنہیں جانے دیتا تھا۔ میرے نزدیک بلھے شاہ کا قصور کی ایک طوائف سے رقص سیکھنا بھی اُس کا احتجاج تھا۔ گلی کوچوں میں ناچنا بھی احتجاج تھا۔ عورتوں کے کپڑے پہن کر اور گدھے پر سوار ہو کر گائوں گائوں پھرنا بھی احتجاج تھا۔ یہ احتجاج ایک صوفی کا احتجاج ہے۔ نظام زر کے خلاف احتجاج ہے۔ ظلم اور ناانصافی کی معاشرت سے بغاوت ہے اور اظہارِ یک جہتی ہے اندھیروں میں پرورش پانے والوں کے ساتھ۔ ان کے ساتھ جنہیں روٹی، کپڑا اور مکان میسر نہیں۔ ناچنے اور گانے والوں کے ساتھ جنہیں مذہبی جاگیردار اچھا نہیں سمجھتے۔ بلھے شاہ ایک علامت کی طرح ہر دور میں موجود رہا ہے۔ کہیں اُس کا نام حسین بن منصور حلاج ہے تو کہیں شاہ حسین۔ کہیں سلطان باہو ہے تو کہیں سرمد۔

بلھے شاہ نے کہا تھا

چل بلھیا ہن اتھے چلیے جتھے وسدے سارے انھے

نہ کوئی ساڈی ذات پچھانے نہ کوئی سانوں منے

قصور کے مذہبی قدامت پرستوں نے بلھے شاہ کاجنازہ پڑھنے سے انکار کردیا تھا۔ تین دن تک اُس کی میت پر صرف آسمان سایہ فگن رہا۔ آج وہی قصور شہر بلھے شاہ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ سلطان باہو نے کہا تھا ’نام فقیر تنہاں دا باہو قبر جنہاں دی جیوے ہو‘۔ بلھے شاہ کی قبر صرف زندہ ہی نہیں گیت بھی گا رہی ہے اور رقص بھی کررہی ہے۔بلھے شاہ فتح مند ہوا، قدامت پرست ہار گئے۔ اس وقت پورے پاکستان میں ننانوے فیصد لوگ بلھے شاہ کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہیں صرف ایک فیصد انتہا پسند ہیں۔ جن سے بلھے شاہ کےماننے والوں کی جنگ جاری ہے مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے بھارت میں ایسا نہیں ہے وہاں عام ہندوئوں میں بھی اتنا زیادہ جنگی جنون دیکھنے میں آتا ہے کہ کبھی کبھی تو خوف آنے لگتا ہے کہیں اس کا انجام کسی ایٹمی جنگ پر منتج نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ دن کبھی نہ دکھائے اور ہم سب کو بلھے شاہ کے نقشِ قدم پر چلنے کی ہمت عطا کرے۔

(یہ مضمون نہرو سینٹر لندن میں پڑھا گیا۔ لارڈ شیخ نے وہاں ’’بلھے شاہ سیمینار‘‘ کا انعقاد کرایا تھا۔ نہرو سنٹر میں اتنے پاکستانی شاید اس سے پہلے کبھی جمع نہیں ہوئے ہونگے، ہماری وجہ سے نہرو سینٹر کے اہلکار بھی خاصے پریشان ہوئے۔ انہوں نے پاکستانی میڈیا کو کوریج کرنے سے روکنے کی ناکام کوشش بھی کی۔ توقع ہے کہ لارڈ شیخ آئندہ اپنی تقریبات نہرو سینٹر میں نہیں رکھا کریں گے کہ نہرو سینٹر کوئی آزاد ادارہ نہیں بلکہ بھارتی ہائی کمیشن کا غیر علانیہ حصہ ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں