آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیض صاحب نے دست صبا کے ابتدایہ میں لکھا ہے’’مجھے کہنا صرف یہ ہے کہ حیاتِ انسانی کی اجتماعی جدوجہد کا ادراک، اور اس جدوجہد میں حسب ِتوفیق شرکت، زندگی کا تقاضا ہی نہیں فن کا بھی تقاضا ہے،اس کوشش میں کامرانی یا ناکامی تو اپنی اپنی توفیق و استطاعت پر ہے، لیکن کوشش میں مصروف رہنا بہر طور ممکن بھی ہے اور لازم بھی ‘‘برسوں قبل زمانہ طالب علمی میں جب مارشل لاکےخلاف ایم آرڈی کے بینر تلے جاری جدوجہد کے جوبن پریہ سطور پڑھی تھیں ،تو جزبے جیسے توانا بلکہ بڑی سرعت سے بروئے کار آئے تھے۔یہ وہ دور تھا جب جدوجہد کو سیاسی کارکنوںنے جیسے سب سے مقد س فریضہ جان لیا تھا۔

تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل نہ ٹھہر آتش​

گل ِمراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے​

آج جب یہ اقتباس پڑھ رہا تھا تو سوچا کیا دور تھا،بے لوث کارکن راہ نمائوں کی ایک کال پرد یوانہ وار نکل آیا کرتے تھے،راہ نما بھی اپنے نظریات سے کمیٹڈ تھے ،کارکنوں و رہنمائوں نے یکساں قربانیاں دیں۔یہ تحریک وقتی طور پر تو ناکام ہوئی لیکن اس کے دوررس نتائج جمہوریت کی صورت میں نمودار ہوئے۔محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں۔جیالوں سمیت تمام کارکنوں کیلئے یہ منظر ایسا تھا کہ وہ مارشل لا کے دوران روا رکھے گئے تمام جبرو تشدد بھول گئے،جیسے دورِ کہن سے دہرِ نو میں آگئےہوں،بقول گستاخ رامپوری۔

صد سالہ دور چرخ تھا ساغر کا ایک دور

نکلے جو میکدے سے تو دنیا بدل گئی

تحریک کے دوران سائیں جی ایم سید نے کہا تھا کہ ایم آر ڈی کفن چوروں کی تحریک ہے۔تحریک تو کفن چوروں کی نہیں تھی،لیکن بعد ازاں اقتدار پرست سیاستدانوں نے خود کو کفن چور ہی ثابت کیا ۔واقعہ یہ ہے ایک کفن چور کی جب موت قریب آئی تو بیٹے سے کہا کہ لخت ِ جگرکوئی ایساکام کرنا جو میرے گناہ بخشوانے کا وسیلہ بنے۔پھر بیٹا کفن چور ی کے ساتھ میت کی بے حرمتی بھی کرنے لگا، جس پر لوگ یہ کہنے پر مجبورہو گئےکہ خدا اس کے والد کو بخشے ،وہ تو صرف کفن چوری کرتا تھایہ تو میت کی بے حرمتی بھی کرتاہے۔ہو بہو کو بکوجب1988کے بعد ایک کے بعد دوسری،دوسری کے بعد تیسری اور بات جنرل پرویز مشرف کی حکومت سے ہوتی ہوئی تحریک انصاف کی حکومت تک آپہنچی ہے تو ہرحکومت نےجانے والی حکومت کے گناہ بخشوانے کے ماسوا کوئی اورکام کیا ہی نہیںہے ۔ گئے ادوار میں پھر بھی کچھ سیاسی اصول تو کارفرما تھے لیکن نئے پاکستان میں جیسے رہی سہی تمام جمہوری اصولوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا تہیہ کرلیا گیا ہے۔نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ وزیراعظم اراکین مقننہ کے نام فرمان جاری کرتے ہیں کہ ’’ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں‘‘ اس سوچ پربھلا کون داد دے سکتاہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کاکہناہے ’’ٹی وی پرپارلیمنٹ کی کارروائی دیکھتے ہیں تو اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کو بولنے نہیں دیا جاتا،اس سے ڈپریشن ہوتا ہے‘‘دوسری طرف اپوزیشن کی بے چینی بھی دیدنی ہے ۔ وہ چونکہ یہ جانتی ہے کہ اُس کے کہنے پر توعوام سڑکوں پر آنے سے رہے لہذاوہ مولانا فضل الرحمٰن کےحضورخواستگارہے کہ وہ تحریک کا اعلان کریں ،اُن کی نظر میں یہ مولانا ہی ہوسکتے ہیں جو مدرسوں کے طالبان کو سڑکوں پر لانے کا ہنر جانتے ہیں۔حضرت اقبال نے کہا تھا۔

امیدِحور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو

یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے بھولے بھالے ہیں

سوال مگر یہ ہےکہ طالبان کی قوت کےبل بوتے پراگر تحریک انصاف کی حکومت قبل از وقت چلتی بنی،تو کیا آنے والی حکومت پھر ایک ایسی جماعت کی مرہون منت نہ ہوگی جس کے نظام ِ مملکت کےحوالے سے اپنے تصورات ہیں! خیرمفروضوںسے قطع نظر برسرزمین حقائق اپوزیشن کی اُمید بر آنے سے مطابقت نہیں رکھتے۔دنیا میں جمہوری نظام ہی سب سے بہترین بندوبست ہے لیکن یہاںاقتدار تک رسائی دیگر ذرائع سے ہوتی رہی ہے ۔ایک وقت تھا یہاں حکومتوں کی تبدیلی امریکی رضا سے مشروط ہوتی تھی۔پھر برادرممالک کا اثر بھی ظاہر ہونے لگا۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی محض ووٹ سے نہیں ہوتی اس کے دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی ہیں۔موجودہ وزیراعظم کوتواپوزیشن اسمبلی کے فلور سے بھی سلیکٹڈ کہتی ہے۔اگر اپوزیشن کا ایقان یہ ہے کہ انہیں کوئی اور لایا ہےتو پھر وہ کیونکر حکومت جانے کی خوش فہمی میں مبتلا ہے !کیونکہ ہر وہ قوت جو اگرکل اس حکومت کے ساتھ تھی ،تو اب بھی ہے،اس حساب سے تو حکومت جانے کےدن ابھی نہیں آئے۔ پھر2013 کےانتخابات کے بعد عمران خان احتجاج کے حوالے سے یکسو تھے،اپوزیشن ’کیا کرناہے‘ کے حوالے سے یکسو نہیں ،اور نہ ہی احتجاج کی سکت رکھتی ہے۔ پاکستان انہونے واقعات کیلئے شہرت رکھتاہے۔ یہاں شہریت (شناختی کارڈ) نہ رکھنے والا وزیراعظم بن سکتاہے اور ایک جنرل ایم ایم اے جیسی جماعتوں کی مدد سے صدر مملکت ۔یعنی یہاں کچھ بھی ہو سکتاہےلیکن احتجاج سے موجودہ حکومت کو شاید ہی ہٹایا جاسکے! وجہ ظاہر وباہر یہ ہے کہ موجودہ حکومت سے بیزار عوام اپوزیشن پر بھی اعتبار کیلئے نہیں ۔عوام نے بار بار ان جماعتوں کو اقتدار تک پہنچایا لیکن منزل پر پہنچتے ہی وہ عوام کودکھ دینے ہی کا سبب بنیں۔حضرت فراق گورکھ پوری نے جیسے کہا تھا۔

فضا تبسم صبحِ بہار تھی لیکن

پہنچ کے منزلِ جاناں پہ آنکھ بھر آئی